عارضی انتظام فائدہ مند نہیں
  15  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میاں محمد نواز شریف کے جانے کے بعد سے گیس، بجلی ،پٹرول یا غذائی بحران آئے۔قیمتیں بڑھ گئیں۔جن کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اداروں کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی بھی اپنی وجوہات ہیں۔ ان میں کئی چیزیں قدرے مشترک ہیں۔ ان میں ایک انتہائی اہم ایڈہاک ازم بھی ہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس کی تازہ مثال ہیں۔معلوم نہیںاس طرف ہمدردی اور خلوص کے ساتھ کوئی توجہ دینا مناسب کیوں نہیں سمجھتا۔ یہ سب کام چلائو پالیسی ہے۔یہ نیا مائنڈ سیٹ ہے جسکے تحت ہم عارضی بندو بست اوروقتی انتظام پر یقین رکھتے ہیں۔حکومتیں بھی یہی سمجھتی ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا دور بخیر و خوبی گزر جائے ۔کل کس نے دیکھا۔آج جو ہونا ہے، ہو جائے۔ تجوری لٹ جائے۔ مستقبل کی کوئی منصوبہ بندی نہیں۔ جو مسائل ہیں وہ آئندہ حکومت پر ڈال دیں گے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ فائدہ ملے۔ خرچہ کم ہو یعنی فائدہ ہمارا، نقصان دوسروں کا۔ اچھے اور مثبت کام کا کریڈٹ ہم لے اڑیں جو منفی کام ہو، جو نقصان ہو، اسے دوسروں کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ حکمران اسے اپنے سیاسی مخالفین کی کارستانی قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنا دور ہی سنہرا نظر آتاہے۔انہیںدوسروں کے ہر کام میں سازش کی بو آتی ہے۔ اگر ان کی نااہلی اور کام چوری سے کوئی سکینڈل سامنے آ جائے تو اس کا خطاوار کون بنتا ہے۔ ملبہ کس پر ڈال دیا جاتا ہے۔ خود کو بچانے کے لئے کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ سب کچھ دوسروں کے سر ڈالنے کا ایک آسان نسخہ ہے۔ یہ سازش ہے۔ ن لیگ والے کہیں گے یہ سازش پی ٹی آئی، پی پی پی، ق لیگ، متحدہ وغیرہ نے بیوروکریسی میں اپنے آدمیوں سے کرائی ہے۔ کیوں کہ وہ حکومت کو ناکام کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت کی بدنامیپی ٹی آئی کا مقصد ہے۔کے پی کے،کے پیچھے ن لیگ ہاتھ دھو کر پڑی ہے۔ آج کراچی میں ڈاکٹرفاروق ستار اوردیگر کا ڈرامہ لگا ہے۔ سندھ میں صوبائی حکومت کا اور کے پی کے میں تحریک انصاف حکومت کا بھی اسی طرح کا الزام ہوتا ہے۔ یہی کہ مخالفین کوہماری گڈ گورننس گوارا نہیں۔ یہی کچھ حکومتی وزراء وزیرا عظم کو باور کرا رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ بچ نکلیں گے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان کے کرتب اس سرکس میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ان کا شو مقبول ہو گیا ہے۔ ایسا ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ یہ کوئی نئی یا انوکھی روایت ہر گز نہیں ہے۔ یہ ہتھیار ان کے آزمائے ہوئے ہیں۔ ان پر انہیں مکمل اعتماد ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ بیورو کریسی کا بھی قصور ہے۔ وہ اپنی سیاسی آقائوں کو خوش رکھنے کے ہمیشہ جتن کرتی ہے۔ ان کے در پر یہ لوگ پڑے رہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت زیادہ چاپلوس ہیں اور چاپلوسی کو پسند کرتے ہیں۔ آپ اپنے افسر کو چند روز منہ نہ دکھائیں تو وہ سمجھے گا یا اسے سمجھا دیا جائے گا کہ فلاں آپ کے خلاف سازش کر رہا ہے ۔آپ کی دعوت کرنے سے عاری ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ ان میں سے بھی بعض کان کے کچے ہوتے ہیں۔ تا ہم انہیں بھی مجبوری میں ان پر ہی انحصار کرنا ہوتا ہے کیوں کہ یہی ان کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں۔ جب یہی گمراہ کریں ۔ امانت میں خیانت کریں تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔ ایڈہاک ازم بھی اس کے اسباب میں سے ایک ہے۔ایڈہاک ازم کیا ہے۔ اس کی ضرورت کیوں درپیش رہتی ہے۔ اصل میں یہ بلیک میلنگ کی وباہے ۔ اداروں کو اسی وبا سے تباہ اور برباد کیا جاتا ہے۔اس کا رواج اوپر سے نیچے تک ہے۔ عارضی بندوبست۔ کام چلائو۔ ملازم مستقل ہو گا تو پنشن، دیگر مراعات بھی ہوں گی۔ یہی سبب ہے کہ ان سے بچنے کے لئے ایڈہاک ازم کو متعارف کیا گیا لیکن یہاں سے آپ جتنا بچاتے ہیں۔ اس سے کہیں زیادہ نقصان پیداوارکی کمی کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔ آپ کا ملازم پریشان ہو گا۔ اسے اپنی نوکری اور مستقبل کے عدم تحفظ کی فکر رہے گی۔کام پر اس کی توجہ یا لگن میں قدرتی طور پر کمی آئے گی کیوں کہ وہ مستقل نہیں بلکہ کنٹریکٹ پر ہے۔ یہ اعلیٰ افسر یا وزیر مشیر ہے جو اس کی روزی روٹی کا مالک بن جاتا ہے۔ بلا وجہ اسے چاپلوسی پر آمادہ اور مجبور کیا جاتا ہے۔ وہ آپ کے گھر کے چکر لگائے۔ آپ کو خوش رکھے۔ آپ کے غلط کام کو بھی درست قرار دے۔ آپ کی خوشنودی کا کوئی موقع ضائع نہ کرے۔ تو اس کی نوکری پکی۔ ورنہ قلم کی ایک جنبش سے وہ کل ہی دفتر نہیں آسکے گا۔ یہ میرٹ کی پامالی کا بھی باعث بن جاتا ہے۔یہی عدم تحفظ کا احساس ہے جو ایک کنٹریکٹ ملازم کو کام نہیں کرنے دیتا۔ اس کو آپ عارضی طور پر رکھ رہے ہیں۔ وہ اوور ایج ہو رہا ہے۔ یہ تو آپ کی زمہ داری ہے کہ آپ اس کی استعداد کار بڑھانے کی جانب توجہ دیں۔ جیسے آپ نے اپنے بڑے پیکج کے لئے لاکھ جتن کئے۔اگر اسے ملازم رکھا ہے تو کوئی وجہ ہوگی۔ لیکن اب اس نے تجربہ حاصل کیا ہے۔ ایک تجربہ کار ملازم کی صلاحیتوں سے محروم ہونے کا کون سوچ سکتا ہے۔ اگر وہ کام چور ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کام چور ہیں۔ اگر آپ خود کام چور نہیں تو آپ کا ماتحت کبھی کام چور، نکما، غیر زمہ دار نہیں ہو سکتا ہے۔

ہم ایڈہاک ازم کو کیوں فروغ دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے بھی افسران یا اہلکار اپنے مستقبل سے بے نیاز ہو کر دلی طور پر کام کرنے سے جی چرا لیتے ہیں۔ وہ ہر وقت متفکر رہتے ہیں۔ تا ہم یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کا دوسرا رخ ہو۔ جو کسی کے مفاد میں ہو۔ یہ سمجھنے کی بات ہے۔ اس پر سوچا جا سکتا ہے۔ اس سے اداروں کو فائدہ ہے یا نقصان۔ ظاہر ہے کہ نقصان زیادہ ہوتا ہے۔کسی ادارے کا سی ای او یا نگران اگر یہ کہے کہ ادارہ میں نے چلانا ہے۔ ہمیں تمام سہولیات و مراعات دیں۔ چھوٹے ملازمین کو مراعات کی ضرورت نہیں۔انہیں ہم سیدھا کریں گے۔ وہ سہولیات، مراعات مانگیں گے تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی اور جو حکمران کا رشتہ دار ہو اس کی تنخواہ میں اضافہ۔تا کہ اپنے معاملات درست رہیں۔ تو ان حالات میں کیا ہو گا۔ ایسے اداروں کا اللہ ہی حافظ۔ پی آئی اے، پی ایس او، ریلوے، سٹیل ملز، سوئی گیس اور دیگر کئی اہم اور حساس اداروں کے سربراہوں کی تقرری وزیر مشیر زاتی پسند ناپسند پر کریں گے اور میرٹ کا بیڑا غرق کریں گے تو بحران پیدا ہو ں گے۔ اس لئے اداروں کے سی ای اوز اور دیگر اعلیٰ حکام کو کسی سیاسی رفاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ میرٹ پر مقررکیا جا نا چاہیئے۔ملک میں ایڈہاک ازم کا خاتمہ نہ ہوا تو اداروں کی پیداواری صلاحیتیں مزید کم ہو سکتی ہیں۔ عملہ کی عارضی تقرری سے کام میں رکاوٹ در پیش آتی ہے۔ معیار اور تسلی بخش کارکردگی تب ہو گی جب ایک ملازم کو اپنی نوکری کا تحفظ حاصل ہو گا۔ اس طرح ادارے بحرانوں سے بچ سکیں گے۔ انکے کام کی رفتار، معیار میں بہتری آئے گی توپیداوار میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گا۔سی ای او، محنت کش ، ملازم ، کارکن کو ایڈہاک تقرری کے باعث بعض اہم مراعات سے محروم رکھا جائے تووہ ادارہ تسلی بخش پیداوار اور کارکردگی سے محروم رہ جاتا ہے۔اس پر غور کیا جانا چاہیئے کہ ایڈہاک ازم کا خاتمہ اداروں کے لئے منافع بخش ثابت ہو سکتا ہے۔اس کے لئے ایپل کے بانی سٹیو جاب کا فارمولہ بہترین ہے جس کے اثاثے 375ارب ڈالرز سے بڑھ چکے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved