بھارت کو جنرل زبیر محمودکا کھلا انتباہ!
  15  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کے سربراہ جنرل زبیر محمود کم بولتے ہیں مگر دبنگ بولتے ہیں۔ گزشتہ روز ان کی ایک تقریر کا کچھ حصہ ۔پوری گھن گرج کے ساتھ کہا '' بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم وتشدد کی انتہا کردی ہے 94 ہزار کشمیری شہیدبے شمار زخمی ہوچکے ہیں۔ 7700 کشمیریوں کی آنکھیں بینائی سے محروم ہو گئی ہیں ۔ ہر 20 کشمیریوںپر ایک فوجی کھڑا ہے۔بھارتی فائرنگ سے 1000 پاکستانی شہری اور تین سو فوجی بھی شہید ہوئے ہیں۔ بھارتی فوج نے1200 سرحدی خلاف ورزیاں کی ہیں۔سی پیک کے خلاف مہم کے لیے50 کروڑ ڈالر (55 ارب روپے) جھونک دیئے ہیں۔ہرقسم کے اسلحہ کے ڈھیر لگا رہا ہے۔ بھارت آگ سے کھیل رہا ہے، اس کی کارروائیاں کسی بڑی جنگ کی طرف لے جا رہی ہیں جو بالآخر ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔بھارت سمجھ لے کہ ہم کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ٭مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا بیان خوش گوار ہے کہ پاک فوج نے فاٹا کے علاقے میں دہشت گردوں کا مکمل صفایاکردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بیان کا یہ حصہ خاصاتلخ ہے کہ افغانستان سے پاکستان کی سرزمین پر مسلسل حملے کیے جارہے ہیں۔ گزشتہ روز پاک فوج کا ایک اور افسر کیپٹن جنید حفیظ اور سپاہی رحیم شہید ہو گئے اور یہ کہ پچھلے دو ماہ میں ایسے حملوں میں پاکستان کے پانچ اہم فوجی اہلکار شہید ہوچکے ہیں۔ جنرل آصف غفور نے کہا کہ'' پاکستان اپنا سارا علاقہ صاف کراکے سرحد پر باڑ لگا رہاہے تاکہ افغان دہشت گردوں کا راستہ روکا جائے۔ یہ دہشت گرداس منصوبے کو ناکام بناناچاہتے ہیں اور سرحد پار کرکے پاکستانی چوکیوں پر حملے کررہے ہیں''۔ ظاہر ہے یہ ساری کارروائیاں امریکہ کے قدم بوس اور بھارت کے کٹھ پتلی صدر اشرف غنی کے علم میں ہیں۔ اس نے آج تک پاکستان کی فوج کے ان نقصانات کے بارے میں زبان نہیں کھولی۔ ویسے افغانستان کے 40 فیصد سے زیادہ حصے پر طالبان قابض ہیں۔ دوسرے حصوں کو نیٹو کی فوجیں کنٹرول کررہی ہیں مگر اس کنٹرول کا عالم یہ ہے کہ دارالحکومت کابل میں خود امریکی سفارت خانہ اور فوجی مراکز آئے دن دھماکوں کی زد میں آرہے ہیں۔ اب تک بے شمار امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان امریکیوں کی ہلاکت کی کوئی خبر جاری نہیں کی جاتی۔ انہیں امریکہ لے جاکررات کے اندھیرے میں ان کے لواحقین کے حوالے کرکے انہیں خاموش رہنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ میں پاک فوج کے ہاتھوں پاکستان کے سارے علاقے کو دہشت گردوں سے صاف کرانے کی تکمیل پر پوری قوم کی طرف سے خراج تحسین اور اس جہاد میں شہید ہو نے والے فوجیوں کے لیے خراج عقیدت و تعزیت پیش کرتا ہوں۔ ٭بالآخر عدالت میں پیش ہونا ہی پڑا۔ عدالت بار بار بلاتی رہی، وارنٹ اور اشتہار جاری کیے، جائیداد قرق کرنے کی ہدایات جاری کیں مگر ہو اکے گھوڑے پر سوار عمران خاں عدالتی احکام کا تمسخر اڑاتے رہے ۔ ایک بار اسی عدالت تک آئے، اندرآنے کی بجائے باہر کھڑے ہوکر قہقہے لگا ئے اور واپس چلے گئے،مگر! عدالت میں تو وزیراعظم کو بھی پیش ہوناپڑاتھا۔عمران خاں کے پاس تو کوئی سرکاری ٹھاٹ باٹ بھی نہیں تھا سو گزشتہ روز عدالت میںکھڑا ہونا پڑا۔ چار مقدمات میں دو دو لاکھ کی ضمانتیں اور اسی روز پولیس کے پاس پیش ہونے کا حکم!! پہلے ہی روز باعزت طورپر پیش ہو جاتے! کون سمجھائے، مگر سمجھنے والا بھی تو کوئی ہو! یوں لگتا ہے کہ اب تحریک انصاف بھی شریف حضرات کی طرح عدالتوں کے پیچھے لاٹھی لے کر پڑ جائے گی۔ ٭لاہور کے ایک وکیل اقبال جعفری کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے64 افراد کو7دسمبر تک اپنے بیرونی اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے کے نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ شریف خاندان کے اثاثوں کی تو پہلے ہی چھان بین ہورہی ہے۔ اسحاق ڈار کے اثاثے بھی سامنے آرہے ہیں مگر زرداری خاندان، رحمان ملک، اسفندیارولی، اعظم سواتی، چودھری خاندان اور بہت سے دوسرے افراد کے بیرونی اثاثوں کے بارے میں کبھی کوئی چھان بین نہیں ہوئی۔ اب پہلی بارعدالتی کارروائی شروع ہوئی ہے۔ حیرت ہے کہ بیرون ملک اربوں کے سوس اکاؤنٹس اور دبئی، فرانس،لندن اور امریکہ میں بے شمار اثاثوں کے مالک آصف زرداری شریف خاندان کو کرپشن کے طعنے دے رہے ہیں! ان صاحب کے کچھ بیرونی اثاثے تو سب کو معلوم ہیں۔ شارجہ میں وسیع وعریض فارم ہاؤس جو ان کی مستقل رہائش گاہ بن چکا ہے،لندن میں سرے محل( اب فروخت ہو چکا ہے) ، پیرس کا محل، لندن کا فلیٹ، نیو یارک میں بہت مہنگا فلیٹ ( بے نظیر بھٹو اس میں نہیں ٹھہرتی تھیں، کیوں؟) ، ٹیکساس میں بہت بڑا سٹڈفارم( گھوڑوں کا فارم)، فلوریڈا اور دوسری امریکی ریاستوں میں37 بڑے کاروباروں میں شراکت ! ان اثاثوں کی تفصیل پتہ کرنی ہو توانٹرنیٹ پر "ASIF ZARDARI ASSETS" فیڈ کر دیں۔ پوری تفصیل سامنے آجائے گی۔ مزید کچھ جاننا ہوتو انٹرنیٹ پر آصف زرداری کے بارے میں امریکی سینیٹ کی قرارداد بھی پڑھ لیجئے۔ ویسے انٹرنیٹ پر تو کسی بھی ''محب وطن' ' بڑے پاکستانی کے نام کے ساتھ ASSETS کا لفظ داخل کردیں، قیامت خیز معلومات سامنے آجائیںگی۔اس عظیم ملک کے غریب عوام کوکس بے دردی سے لوٹ کر باہر کھربوں کے اثاثے بنالئے گئے۔ آصف زرداری کی ملوں، وسیع اراضی اور محلات وغیرہ کے87 اثاثے انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ باقی افراد کا بھی یہی حال ہے۔ مگر قدرت کی لاٹھی بے آواز ہے۔ وہاں دیر تو ہوتی ہے، اندھیر نہیں ہوتا۔ شریف خاندان کا حال دیکھ لیں۔ وفاق، پنجاب، بلوچستان ، آزاد کشمیر اور گلگت کی پانچ حکومتوں کو عملی طورپر کنٹرول کرنے والے سابق وزیراعظم اور اہل خانہ کس طرح عدالتوں میں پیش ہورہے ہیں! گھروں پراشتہار لگ رہے ہیں، وارنٹ نکل رہے ہیں۔ یہ حال سب کا ہونا ہے۔

٭ ''محترم شاہ صاحب! دل پربہت بوجھ ہے۔ بہت مجبوری کے عالم میں لکھ رہا ہوں۔ مختصریہ کہ میں بھی خاندان سادات سے تعلق رکھتا ہوں۔75سالہ ریٹائرڈ ملازم ہوں۔ تھوڑی سی پنشن ملتی ہے۔ حالا ت بتاتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے۔ بس یہ کہ دنیا میں ایک شادی شدہ بیٹی کے سوا کوئی سہارا نہیں۔ مگراس کے اپنے حالات بہت محدود ہیں۔ مجھے کچھ عرصے سے ٹی بی اورکچھ ہیپاٹائٹس کی بھی شکائت ہے۔ ان کا علاج بہت مہنگا ہے۔ دوایک ہسپتالوں میں گیا۔ وہاں مریضوں کا اتنا ہجوم ، کہ کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہیں تھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میرا مرض ابتدائی حالت میں ہے، میں ٹھیک ہو سکتا ہوں۔ مشکل یہ ہے کہ ہم سادات کے لیے زکوٰة یا صدقہ ممنوع ہے۔ بیت المال بھی زکوٰة ہی دیتا ہے۔ ویسے بھی وہ لوگ بہت تحقیق کرتے ہیں۔میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کروں! بیٹی میری حالت پربہت پریشان ہے۔ ایسے ہی خیال آیا کہ آپ دوسروں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ مجھے جانتے بھی ہیں۔ مجھے بتائیے کہ مجھے کیا کرناچاہئے؟اخبار میں میرا نام نہ چھاپیں، بیٹی کو پتہ نہ چلے، بہت شکریہ! ( کوئی صاحب مدد کرناچاہیں تو میرے نمبر 0333-4148962 کے ذریعے رابطہ کرسکتے ہیں)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved