پاکستان پر اچانک حملے کی تیاری؟
  16  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جب سے بھارت کا انتہا پسند، جنونی اور نسل پرست وزیراعظم نریندرمودی اقتدار میں آیا ہے، اس نے جنوبی ایشیا کے ممالک میں غیر معمولی کشیدگی پیدا کررکھی ہے، خصوصیت کے ساتھ پاکستان کے خلاف!ایل او سی پر بھارت کی جانب سے مسلسل فائرنگ اور اسکے نتیجہ میں شہید ہونے والے پاکستانی شہری اور فوجی اس بات کی غمازی کررہے ہیں کہ بھارت کے پاکستان کے خلاف کیا عزائم رکھتا ہے، وہ ہر طرح سے اور ہر زوایئے سے پاکستان کو ہراساں کررہاہے، اسکو عدم استحکام سے دوچار کررہاہے، اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہاہے، مزید براں وہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو کچلنے کیلئے طاقت اور تشدد کا بہمانہ استعمال کررہاہے، اسوقت بھارتی فوج کو مودی حکومت نے ہر قسم کی آزادی دے رکھی ہے، تاکہ وہ فوجی طاقت ، دہشت اور خوف کے ذریعے اس تحریک کو دبا کر کشمیریوں کو مجبور کریں کہ وہ بھارت کے ساتھ سمجھوتہ کرلیں، آزادی کی اس تحریک کو خیرا باد کردیں، لیکن تا حال بھارت اس عیارانہ حکمت عملی میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے، اسکے علاوہ بھارت اندرونی طورپرخطرناک ہتھیار بنارہاہے اور بیرونی ممالک سے جدید مہلک ہتھیار بھی خرید رہاہے، جس میں امریکہ اور فرانس سر فہرست ہیں، ابھی حال ہی میں اسرائیل بھارت کو جدید حربی اسلحہ سپلائی کررہاہے، جس میں دور مار کرنے والی بھاری توپیں بھی شامل ہیں، نیز بھارت بیرونی ممالک کی مدد سے خود اپنے اسلحہ ساز فیکٹریوں میں ''جدید'' توپیں بنا رہاہے ، ہر چند کہ یہ توپیں معیاری نہیں ہیں، لیکن ان کے اضافے سے بھارت کی حربی قوت میں یقینا اضافہ ہورہاہے، چنانچہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں اسلحہ کی دوڑ میں سب سے آگے ہے؟ اسکا اصلی حدف پاکستان ہے، لیکن بھارت کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یہ اسلحہ چین کے خلاف جمع کررہاہے، تاکہ چین کی جنوب کی طرف جارحیت کو موثر طریقے سے روکا جاسکے، لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے، بھارت آئندہ کسی بھی وقت پاکستان پر اچانک حملہ کرسکتاہے، عالمی میڈیا میں بھارت کی اس حکمت عملی کے بارے میں بہت کچھ کہا جا چکاہے، پاکستان کی عسکری قیادت اور دیگر دانشور بھی بھارت کی اس مکارانہ اور عیارانہ چال سے واقف ہیں، اس لئے پاکستان کی طرف سے تیاری مکمل ہے، بھارت پاکستان پر اچانک حملہ کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے تحت اس لئے حملہ کرنا چاہتا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو روکا جاسکے، ہر روز بھارت کی درندہ صفت فوج آزادی کے متوالوں کو بڑی بے دردی سے قتل کررہی ہے، لیکن جذبہ آزادی نہ تو کم ہواہے اور نہ ہی معدوم ہواہے، یہ صورتحال بھارت کے لئے بڑی پریشانی کا باعث بن رہی ہے، حلانکہ ساری دنیا اس ناقابل تردید حقیقت سے واقف ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک خالصتاً مقامی ہے، پاکستان یا پھر کسی ملک سے انہیں کسی بھی قسم کی مدد یاکمک نہیں مل رہی ہے، نیز جذبہ آزادی سے سرشار یہ تمام لوگ نہتے ہیں، ان کے پاس کسی قسم کے ہتھیار نہیں ہیں، لیکن اسکے باوجود بھارت کی حکومت اپنے عوام کو یہ تاثر دے رہی ہے بلکہ پروپیگنڈا کررہی ہے کہ ان کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے ،یہی وجہ ہے کہ بھارت کی حکومت ایل او سی پر مسلسل فائرنگ کرکے ایک طرف پاکستان کو فوجی اعتبار سے مصروف کرنا چاہتی ہے، تو دوسری طرف وہ عالمی سطح پر مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک سے توجہ ہٹانا چاہتاہے، جس میں ایسے ابھی تک کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیںہوسکی ہے، بھارت اس صورتحال سے خود پریشان ہے۔

مودی کو اسکے مشیر خاص اجیت ڈول نے یہ مشورہ دیاہے کہ پاکستان پر حملہ کرنے کا یہ بہترین موقع ہے کیونکہ پاکستانی سیاست دانوں کے مابین کرپشن کے سلسلے میں پھوٹ پڑچکی ہے، ہوسکتاہے کہ نریندرمودی اس مشورے پر عمل پیرا ہوکر پاکستان کے خلاف مہم جوئی کی طرف قدم اٹھاسکتا ہے، لیکن یہ صورتحال خود بھارت کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، پاکستان کے پاس بھی معقول ومناسب اسلحہ موجود ہے، اللہ کی قوت اور مدد سے بھارت کی طرف سے ہونے والی جارحیت کا مقابلہ کیا جاسکتاہے، پاکستانی عوام بھی اسکے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ تاہم پاکستان بھارت یا پھر کسی پڑوسی ملک سے جنگ نہیں کرنا چاہتاہے، کیونکہ جنگ چاہے محدود ہو یا پھر پھیلی ہوئی ہو، ملکوں کے لئے شدید نقصان اور بربادی کا باعث بنتی ہے، اس لئے پاکستان کی طرف سے بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا جارہاہے، پاکستان بھارت کے ساتھ مکالمے کی ضرورت پر زور دے رہاہے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جسکی مدد سے ان دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتاہے، جس میںکشمیر کا مسئلہ اولین حیثیت رکھتاہے، مزید براں ان دونوں ملکوں کے درمیان مکالمے کے ذریعہ تجارت کا راستہ بھی کھل سکتاہے، اسوقت ان دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور لین دین دبئی کے راستے سے ہورہی ہے، جس میں خاصہ وقت لگتاہے، جو جدید تجارت کے لحاظ سے مناسب نہیں ہے، تاہم بھارت نے ابھی تک پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہاہے، وہ سامراجی طاقتوں کی مدد سے جنوبی ایشیا میں اپنی معاشی وفوجی اور ثقافتی بالادستی کا خواہش مند ہے، بلکہ اسکے لئے ہاتھ پائوں بھی مار رہاہے، لیکن یہ کبھی ممکن نہیں ہوسکے گا، پاکستاب بھارت کے علاوہ دیگر ممالک سے برابری کی بنیاد پر دوستی اور اچھے تعلقات کا خواہش مند ہے، پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتاہے، بلکہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو اس خطے میں دہشت گردی کے خلاف مسلسل جنگ لڑ رہاہے، جس میں اسکے بہادر فوجی اور سویلین شہید ہورہے ہیں، مزید براں پاکستان کی یہ خواہش ہے کہ اس خطے کے تمام ممالک جس میں بھارت کی شامل ہے، یکجا ہوکر اس خطے میں دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے اپنی طاقت کا استعمال کریں، ورنہ اس خطے میں اختلافات کی صورت میں دہشت گردوں کو اپنا ایجنڈا بڑھانے میں مدد ملے گی، ذراسوچئے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved