قابلِ رحم قوم۔۔۔!
  23  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جن اقوام کو جینے کا ڈھنگ نہیں اتاان کے رہبر اور راہنما چور ہی نہیں سینہ زور بھی ہوتے ہیں،وہ دھن بنانے کو ہنر سمجھتے ہیں اورہاتھ کی صفائی کا فن جاننے والے ان کے حضور ڈنڈوت بجالانے کے لئے صف بہ صف کھڑے ہوتے ہیں ،یہ فقط کہنے کی بات نہیں' روزمرہ کا مشاہدہ اس کا گواہ ہے ،وہ جن پر الزامات کی بوچھاڑ ہے ،جن کے بارے صاف الفاظ میں کہا جا رہا ہے کہ وہ فیصلے کر نہیں رہے بلکہ کسی کے کئے ہوئے فیصلوں کو لکھ رہے ہیں کہ اِنہیں ''سزا دی نہیں جارہی ،دلوائے جارہی ہے'' اور جن کے بارے دو ٹوک ،ننگے الفاظ میں یہ سب کہا جارہا ہے ،وہ لمبی اور گہری چپ کی بکل مارے ہوئے ہیں ،ان کا قانون چپ ہے ،ان کے کانوں پر مہریں لگی ہیں ،ان کے ہونٹوں پر تالے ہیں ۔! ایسا کیوں ہے ؟ ان کے ادارے کی عمارت نامستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے ؟ ان کے ضمیروں پر موجود کسی بوجھ نے انہیں اس کیفیت سے دوچار کیا ہوا ہے؟ وہ جسے صبراور تحمل کا نام دے رہے ہیں وہ دراصل مداہنت ہے اور ہر مداہنت کے پیچھے ایک خلش کارفرما ہوتی ہے ،ایک خوف چھپا ہوتا ہے ،اپنے ایکسپوز ہونے کا خوف،کوئی گلٹ ہے جو صاف چھپنے بھی نہیں دیتا اور سامنے بھی نہیں آنے دیتا ۔

وہ جو خود پر ثابت کئے جانے والے جرائم کے بوجھ سے دوہرے ہوئے جاتے ہیں ،جن کے چہروں کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں ،جو بوہلائے ہوئے اور بوکھلائے ہوئے پھرتے ہیں مگر لہجے کی رعونت قائم ہے بات کرتے ہوئے جن کے منہ سے کف آتا ہے،جن کے ہوش اڑے ہوئے ہیں ،نیندیں اچاٹ اور آرام و سکون سلب ہو چکا ہے،وہ اپنی اس حالتِ زار کا ذمہ دار فیصلے سنانے والوں کو نہیں کسی اور کو گردانتے ہیںمگر یہ بتانے کی جرات سے عاری ہیں کہ وہ کون ہیں !کیا ان کی تکرار میں اظہار شامل نہیں ہے؟کیا وہ پوری قوم ہی کو بے وقوف اور کم عقل سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے جو کیا اس کا خمیازہ تو بہر حال بھگتنا ہے،جن کے ساتھ ملکر کھایا ہے ان کے نام بھی اگلنے ہیں ،قانون کو بے بس کر لیں ،ایک قدرت بھی تو ہے جس کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے،پاک پوتر کوئی نہیں سب کو اپنے اپنے اچھے برے کی خوب خبر ہے ۔ کتنی بدقسمت قوم ہیں ہم ،ہمارے گرد سازشوں ہی سازشوں کے جال بنے جارہے ہیں ،ہمارے گرد بے یقینیوں کے حصار کھڑے کئے جارہے ہیں'ہمارے سروں سے سائبان ہٹا کر ہمیں بے رحم رُتوں کے حوالے کرنے کی پیش بندیاں کی جا رہی ہیں، کچھ بھی مبہم نہیں ،سب اشارے واضح ہیں ،علامت کا پیرایہ ہے نہ تجرید کا ،تصادم کی فضا ہموار کی جا رہی ہے،دونوں طرف کے مورچے مضبوط ہیں ، ہارنے میں اک انا کی بات تھی جیت جانے میں خسارہ اور ہے مگر یہ عشق و محبت کا کھیل نہیں ، ایک قو م کی سالمیت کا مسئلہ ہے، ایک ملک کی نظریاتی سرحدوں کا مسئلہ اور اگرارد گرد نظر داڑائیں تو جغرافیائی سرحدوں کا بھی مسئلہ ،مگر سب اپنی اپنی انا پر اڑے ہیں،ا دھورے فیصلے ،دہرے معیار ،کہیں چند کروڑکی بدعنوانی پر ایک پیرِفرتوت کو پسِ زنداں اور کوئی اربوں کھربوں کی بدعنوانی کے مجرم ،نہ ان کے لئے جیل نہ ای سی ایل میں نام شامل،شاہی پروٹوکول سے عدالت حاضر ہوں یا ملکوں ملکوں گرد اڑائیں ،یہ سب کیا ہے ؟ دن دہاڑے آنکھوں میں دھول جھونکنا اور قوم کو آنکھیں مَلنے کی فرصت بھی نہ دینا۔ اس روش کے کیا کہنے،کھیل تماشے کی رُت ہے ،معیشت کی کشتی ڈول رہی ہے ،زرِمبادلہ کے ذخائر زوال پزیر،کسی کو اس پر ملال نہیں کوئی نہیں جو اس قوم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنے والا ہو ،کوئی نہیں جو اس ملک پر رحم کھائے ۔ خلیل جبران کی ایک نظم کی چند سطریں جس کا فیض صاحب نے ترجمہ کیا ''قابلِ رحم ہے وہ قوم'' ''قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے پاس عقیدے تو بہت ہیں مگر دل یقین سے خالی ہیں قابلِ رحم ہے وہ قوم جو ایسے کپڑے پہنتی ہے جن کے لئے کپاس ان کے اپنے کھیتوں نے پیدا نہیں کی قابلِ رحم ہے وہ قوم جو باتیں بنانے والے کو اپنا سب کچھ سمجھ لیتی ہے جو بظاہر خواب کی حالت میں بھی ہوس اور لالچ سے نفرت کرتی ہے مگر عالمِ بیداری میں مفاد پرستی کو اپنا شعار بنالیتی ہے وہ اس وقت تک صورتِ حال کے خلاف احتجاج نہیں کرتی ،جب تک اس کی گردن عین تلوار کے نیچے نہیں آجاتی اور قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے نام نہاد سیاستدان لومڑیوں کی طرح مکّاراور دھوکے باز ہوں اور جس کے دانشور محض شعبدہ باز اور مداری ہوں اور قابلِ رحم ہے وہ قوم جو ٹکڑوں میں بٹ چکی ہو اور جس کا ہر طبقہ اپنے آپ کو پوری قوم سمجھتا ہو


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved