بر صغیر میں موروثی حکمرانی، باعثِ تباہی
  23  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) اسی کے ساتھ ان کے شوہر کے خلاف سنگین کرپشن کے الزامات نے جن کی بناء پر ان کو ٹین پرسنٹ کہا جاتا تھا ، بے نظیر بھٹو کی حکومت کو داغ دار کر دیا تھا اوراسی کرپشن کے الزامات کے تحت صدر لغاری نے ان کی حکومت کو برطرف کردیا تھا۔ یہ بات بے نظیر بھٹو کے لئے شرمندگی کا باعث تھی کہ دونوں بار ان کی حکومتیں کرپشن کے الزامات کے تحت برطرف ہوئیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی کی موروثی قیادت کا انداز خالص جاگیردارانہ رہا ہے۔ باپ سے بیٹی اور بیوی سے شوہر اور شوہر سے بیٹے کی جانشینی۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ جمہوریت کی علم بردار جماعت پیپلز پارٹی کی قیادت کے معاملہ میں کہیں انتخاب کا کوئی مرحلہ راہ میں نہیں آیا۔ پارٹی کے موجودہ چیئرمین بلاول زرداری بھٹو کو اگر وصیتی رہنما کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد آصف علی زرداری نے لاڑ کانہ میں جمع پیپلز پارٹی کے رہنماوں کو دور سے ایک کاغذ دکھایا جس پر ہری روشنائی سے تحریر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بے نظیر بھٹو کی وصیت ہے ۔ زرداری کے مطابق اس میں بلاول کو پارٹی کو چیئرمین مقرر کیا گیا ہے اور جب تک وہ تعلیم ختم نہ کر لیں وہ شریک چیئر مین رہیں گے۔ عصری تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی سیاسی جماعت کا سربراہ وصیت کے ذریعہ مقرر کیا گیا ہو۔ نواز شریف نے بھی بھٹو کی دیکھا دیکھی اپنی خاندانی وراثت قائم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بہت تاخیر سے کیونکہ نواز شریف جب 1981ء میں پنجاب کے وزیر خزانہ اور بعد میں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے سیاست کے میدان میں داخل ہوئے تو اس وقت وہ عملی طور پر اپنے والد محمد شریف کے زیر تربیت تھے اور ان کی بڑی صاحب زادی مریم آٹھ سال کی تھیں اور نواز شریف کے دونوں بیٹے بہت چھوٹے تھے۔ جس طرح بلاول کا نام ان کے نانا بھٹو سے وابستہ کیا گیا ہے مریم صفدر نے بھی سیاسی مصلحت کی بنا ء پر اپنے آپ کو مریم نواز کہلانا شروع کیا ہے ۔ مریم نواز 2013ء کے انتخابات میں سیاسی میدان میں آئیں جب انہوں نے نواز شریف کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ اس وقت نواز شریف کے دونوں صاحب زادے لندن میں تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد جائیداد کے بزنس میں مصروف تھے۔ نواز شریف کی یہ خواہش نمایاں نظر آتی ہے کہ مریم نواز ان کی جانشین کی حیثیت سے سیاسی میدان میں ابھریں ۔ لیکن ان کا خاندان ایک بڑی سیاسی دلدل نظر آتا ہے۔ شہباز شریف کے بیٹے ان کے حریف نظر آتے ہیںاور نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈارکے بیٹے بھی سیاست میں آنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔

پاکستان میں چار دہائیوں سے سیاست اور اقتدار پر دو گھرانوں کے تسلط کی سب سے بڑی وجہ ہمارا جاگیردارانہ معاشرہ ہے جس کی جڑیں بڑی گہری ہیں، یہی وجہ ہے کہ قومی اسمبلی ،چار صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں پنجاب کے 379گھرانے ، سندھ کے 110گھرانے، خیبر پختونخواہ کے 56گھرانے اور بلوچستان کے 15گھرانے نشستوں پر قابض ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں اقتدار پر دو گھرانوں کی موروثی حکمرانی نے ملک کو اور سنگین مسائل میں گھرے ہوئے عوام کو سوائے کرپشن کی دلدل کے کچھ نہیں دیا۔ نواز شریف کی نااہلی اور زرداری پر کرپشن کے سنگین الزامات نے ، بے نظیر بھٹو کا 1991ء کا دعوی ٰباطل ثابت کر دیا ہے کہ جنوبی ایشیا ء میں موروثی حکمرانو ںنے عظیم خدمات انجام دی ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved