حضور ۖ کا خصوصی مشن ' غلبۂ دین
  26  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

سورةالصف کی اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت ہے کہ اس میں نبی اکرمۖ کے خصوصی مشن اور مقصد بعثت کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول کو بھیجا تو ایک خاص مشن ان کے سپرد کیا، اور وہ مشن اظہار دین کا مشن ہے۔ نبی اکرمۖ کی بعثت تاریخ کے ایک خاص دور میں ہوئی۔ آپۖ کو اکثر نبیوں اور رسولوں سے کم حیات عطا ہوئی، لیکن آپۖ کا مشن بہت بڑا تھا۔ آپۖ نے وہ سارے کام بھی کیے جو باقی نبیوں اور رسولوں نے کیے۔ مثلاً دعوت، تبلیغ، تربیت ، ابلاغ، تذکیر، نصیحت۔ لیکن آپۖ نے خصوصی مشن کے تحت دین حق کو غالب بھی کیا۔ اس خصوصی مشن کے پہلو سے زیر درس سورت بہت اہم ہے۔ سورة الصف کی آیت 9 میں آپۖ کے اسی مشن اور مقصد بعثت کا بیان ہے۔ فرمایا:(ترجمہ) ''وہی تو ہے جس نے پیغمبرۖ کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ،تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے خواہ مشرکوں کو بُرا ہی لگے۔'' اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیۖ کو دو چیزیں دے کر بھیجا۔ ایک الہدیٰ یعنی قرآن حکیم ہے۔ قرآن کا نزول دشمنان اسلام بالخصوص یہود پر بہت بھاری تھا۔ چنانچہ انہوں نے کئی بار نبیۖ کو شہید کرنے کی سازش کی ،تاکہ کسی طرح وحی کا سلسلہ بند ہو۔ یہود کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے تھے کہ یہ نعمت ہدایت اُمیین کو کیوں مل گئی۔ دوسری چیز جو آپۖ کو عطا کی گئی وہ دین حق، دین کا نظام عدل اجتماعی ہے، جو نوع انسانی لیے اعلیٰ ترین عادلانہ نظا م ہے۔ یہ نظام عدل کسی ایک گاؤں یا علاقے کے لیے نہیں پوری ورلڈ کے لیے ہے۔ یہ درحقیقت ورلڈ آرڈر ہے۔ محمدرسول اللہۖ کی نبوت و رسالت صرف قریش یا اہل عرب کے لیے نہیں، پوری انسانیت کے لیے ہے۔ آپۖ پوری دُنیا کے لیے اور قیامت تک، تمام زمانوں کے لیے نبی اور رسول بنا کر بھیجے گئے۔ لہٰذا آپۖ جو کامل نظام لے کر آئے وہ بھی قیامت تک کے انسانوں کے لیے ہے۔ یہ دین حق اور نظام عدل آپۖ کو اس لیے دیا گیا کہ آپۖ اُسے پورے نظام اطاعت پر غالب کریں۔ یہ آپۖ کا مقصد بعثت ہے۔ اعدائے اسلام کو خواہ کتنا بھی ناگوار گزرے، یہ دین بہرحال تمام ادیان پر غالب آ کر رہے گا۔ نبی اکرمۖ کے ذریعے اسلام کا جھنڈا سر بلند ہو گا اور رَب کی دھرتی پر رَب کا نظام اپنی بہاریں دکھائے گا۔ یہ بات قرآن حکیم میں تین مرتبہ دہرائی گئی ہے۔ زیرِدرس مقام کے علاوہ یہ دو اور مقامات سورة التوبہ اور سورة الفتح میں بھی آئی ہے۔ یہاں اور سورة التوبہ کی آیت 33میں آخر میں الفاظ ''چاہے مشرکوں کو کتنا ہی ناگور ہو '' آئے ہیں۔ اس میں یہ بات مضمر ہے کہ مشرکوں کو یہ کبھی گوارا نہ ہوگا کہ اللہ کا دین یہاں پر غالب ہو۔ اسلام کے دشمن اپنے منہ کی پھونکوں سے اس چراغ کو گل کرنے کی پوری کوشش کریں گے ، لیکن اللہ کا فیصلہ ہے کہ دین غالب ہو کر رہے گا۔ البتہ یہ کام یونہی نہیں ہو جائے گابلکہ اس کے لیے جہاد و قتال کرنا ہو گا۔ مشرکین بہرحال اس کام میں مزاحمت کریں گے۔ اور اپنے باطل نظام کے تحفظ کے لیے پورا زور لگائیں گے۔ لہٰذا تمہیں ان کے خلاف جہاد و قتال کرناہو گا۔ غلبہ ٔ دین کا ایک مرحلہ مشرکین عرب کو مفتوح کر کے جزیرہ نما عرب کی حد تک دین کو غالب کرنا تھا ۔ یہ مرحلہ فتح مکہ پر تکمیل کو پہنچ گیا ، جب سر زمین عرب کی حد تک دین غالب ہو گیا، حق آ گیا اور باطل نیست و نابود ہو گیا۔لیکن اللہ کے رسولۖ کی بعثت صرف اہل عرب کے لیے نہیں ہے۔ آپۖ کو صرف امیین کی طرف نہیں بھیجا گیا تھا، بلکہ پوری دُنیا کے لیے بھیجا گیا تھا۔ لہٰذا فتح مکہ آپۖ کے مشن کی آخری انتہا نہ تھی۔ اس کے بعد بیرون عرب بھی اس دین کو غالب ہونا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد اسلامی انقلاب کی بیرون عرب توسیع کا مرحلہ شروع ہو گیا۔ اور رومیوں سے تبوک کے مقام پر جنگ ہوئی، جسے غزوہ ٔ تبوک کہا جاتا ہے۔ آپۖ کا مشن تکمیلی شان کے ساتھ تب پورا ہو گا جب کل روئے ارضی پر اللہ کا دین غالب ہو جائے گا۔ چنانچہ آپۖ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد بھی آپۖ کے جاں نثار صحابہ اس مشن کو لے کر آگے بڑھتے رہے ۔ وہ سلطنت فارس اور سلطنت روما سے ٹکرا گئے اور تھوڑے ہی عرصے میں انہوں نے اسلام کو بائیس لاکھ مربع میل کے علاقے پر غالب کر دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس نبویۖ مشن ہی کے لیے گھر بار چھوڑے تھے، ورنہ مدینہ کی گلیاں کسے عزیز نہ تھیں۔ کوئی بھی وہاں سے نکلنا کبھی گوارا نہ کرتا۔ یہ دراصل محمدرسول اللہ ۖ اور آپۖ کے مشن کے ساتھ وفاداری تھی کہ وہ مدینہ سے نکلے اور غلبہ ٔدین کے لیے جہاد و قتال کیا، اس راہ میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی صحابی کہیں دفن ہیں اور کوئی کہیں۔ میزبان رسول حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر قسطنطنیہ کے پاس ہے۔ بہرکیف جب بھی نظام کو بدلنے کی سعی ہو گی اس کے راستے میں مزاحمت ہوگی۔ روڑے اٹکائے جائیںگے۔ اسلام کا راستہ روکنے کے لیے ہر طرح کی کوششیں کی جائیں گی۔ ساری شیطانی اور طاغوتی قوتیں مل کر اسلام کا راستہ روکیں گی۔ لہٰذا اہل اسلام کو ان قوتوں کے ساتھ جنگ کرنی ہو گی۔ جنگ و قتال کے بغیر اورراہ حق میں خون بہائے بغیر یہ دین غالب نہ ہوگا۔ اگلی آیات میں یہی بات فرمائی گئی ہے:''مومنو! میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں عذاب الیم سے مخلصی دے۔'' انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آخرت میں جہنم کے عذاب سے بچ جائے۔ یہ دُنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں انسان مسلسل امتحانوں سے گزرتا ہے ۔ اگر وہ امتحان زندگانی میں سُرخرو ہو جائے تو آخرت میں جہنم کے عذاب سے بچ جائے گا۔اہل ایمان سے فرمایا جا رہا ہے کہ کیا تم عذاب الیم سے چھٹکارا، امتحان زندگانی میں کامیابی چاہتے ہو ؟ اگر فی الواقع تمہیں نجات اُخروی مطلوب ہے تو اس کا راستہ یہ ہے کہ''(وہ یہ کہ) اللہ پر اور اس کے رسولۖ پر ایمان لاؤ۔ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔'' یعنی نجات کا راستہ یہ ہے کہ اللہ پرپختہ یقین رکھو ، اس حقیقت کو دل میں جاگزیں کرو کہ اللہ ہی میرا رب ہے اور محمدۖ اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ پھر یہ کہ اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے اللہ کی راہ میں جہاد کرو، اپنی جانوں سے بھی اور مال سے بھی۔ غلبۂ دین کے مشن کی تکمیل بغیر جہاد کے ممکن نہیں۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ دین غالب ہو کر رہے گا۔ لیکن اس کے لیے صرف دعوت اور تبلیغ کافی نہیں، بلکہ جہاد و قتال کے مراحل بھی طے کرنے ہوں گے۔ یہ ہے غلبہ ٔ دین کے لیے دعوت جہاد ۔ انہی آیات جہاد سے امریکہ آج ڈرتا ہے۔ یہ امریکا اور اتحادیوں ہی پرموقوف نہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ خود مسلمانوں کے دانشور مسلمانوں کو یہ بتا رہے ہیں کہ اسلام میں جہاد و قتال کی گنجائش نہیں۔ یہ تو امن و سلامتی کا دین ہے۔ بلاشبہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے، لیکن اس طرف دھیان کیوں نہیں دیا جاتا کہ یہ امن و سلامتی پیدا کیسے ہو گی۔ یہ امن و سلامتی کی فضا تب پیدا ہو گی جب باطل نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر اللہ کے دین کو قائم کر دیا جائے گا۔(جاری ہے) اسلام کو غالب کیے بغیر دُنیا میں کبھی امن نہیں آ سکتا۔ لہٰذا مسلمانوں کو جہاد کرنا ہو گا، راہ حق میں گردنیں کٹانا ہوں گی۔ یہی اُن کے رب کا تقاضا ہے۔ علامہ اقبال کے بڑے خوبصورت اشعار ہیں۔ مقام بندگی دیگر مقام عاشقی دیگر زنوری سجدہ می خواہی زا خاکی بیش ازاں خواہی چناں خود را نگہداری کہ باایں بے نیازی یا شہادت بر وجودِ خود ز خونِ دوستاں خواہی! اللہ تعالیٰ اپنی خاکی مخلوق انسان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی گردن کٹوا کر، اپنا خون دے کر اُس کی توحید کی گواہی دے اور اپنی وفاداری ثابت کرے۔ نبی اکرمۖ کے وفاداروں سے یہ تقاضا ہے کہ غلبہ ٔ دین کے نبویۖ مشن کی تکمیل میں آپۖ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے جہاد کریں، قربانیاں دیں، ایثار کریں، اس راہ میں جان و مال بھی کھپائیں اور وقت بھی لگائیں۔ جو لوگ دین کو غالب کرنے کے لیے محنت کریں گے، اور اس راہ میں اپنی جان تک قربان کریں گے، انہی کا مقام سب سے بلند ہے۔ مقام شہادت بہت بلند رتبہ ہے، جس کی ہر مومن کے دل میں آرزو ہوتی ہے۔ شہادت ہے مطلوب و مقصود و مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی یہ ہے اسلام کا تصور جہاد۔ جہادسے بڑا خیر وجود میں آتا ہے اورتاریخ اس کی گواہ ہے۔ جہاد ہی کے نتیجے میں سلطنت روما کا بڑا حصہ مسلمانوں کے زیرنگیں آیا۔ جہاد ہی سے پوری کی پوری سلطنت فارس مسلمانوں کے ہاتھوں مفتوح ہو ئی۔ جہاد ہی سے دورِ خلافت میں معلوم دنیا کے وسیع رقبہ پر اللہ کا دین قائم ہوا، اور نتیجتاً صحیح معنوں میں امن و سکون کی فضا پیدا ہو گئی۔ ہر طرف خوشحالی آ گئی۔ زمین انسانی حقوق کے احترام اور عدل و انصاف سے بھر گئی۔ اس سے بہتر دور نوع انسانی نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ دور خلافت میں اسلامی ریاست میں بسنے والے غیر مسلموں کی بھی جان ، مال اور عزت و آبرو کا تحفظ اسلامی ریاست کی ذمہ دار ی تھی، بالکل اسی طرح جیسے ایک مسلمان کی جان، مال، عزت کی حفاظت اُس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کبھی کسی ایک بھی غیر مسلم کو جبراً مسلمان نہیں کیا گیا۔ لیکن باطل نظام کا وجود بہرحال نا قابل برداشت اور ایمان کے منافی تھا ۔ لہٰذا قوت کے زور پر اُس کا خاتمہ کر کے اللہ کی زمین پر اللہ کا دین قائم کیا گیا۔ یہ مسلمانوں کا فرض منصبی تھا۔ یہ نبیۖ کاخصوصی مشن تھا۔ لہٰذا مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی راہ میں جانوں اور مالوں سے جہاد کرو۔ یہی چیز تمہاری نجات اُخروی کا ذریعہ بنے گی۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ عذاب الیم اور اُخروی خسارے سے بچاؤ ہے۔ سورة العصر کے مطابق پوری انسانیت کا مقدر خسران عظیم ہے۔ سوائے اُن لوگوں کو جو ایمان لائیں، اعمال صالحہ بجا لائیں، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور مشکلات پر صبر کی تلقین کریں۔ یہاں یہی بات دوسرے انداز سے واضح کی گئی ہے کہ اگر آخرت کے عظیم خسارے سے بچنا چاہتے ہو تو راہ حق میں جان و مال سب کچھ کھپانے کے لیے تیار ہو جاؤ۔رسول ۖکے مشن میں ان کے دست و بازو بن جاؤ۔ جہاد فی سبیل اللہ کا صلہ کیا ملے گا؟فرمایا:''وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو باغہائے جنت میں جن میں نہریں بہ رہی ہیں اور پاکیزہ مکانات میں جو بہشت پائے جاودانی میں (تیار) ہیں داخل کرے گا۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔'' گویا اس راستے میں خیر ہی خیر ہے۔ یہ سودا وہ ہے جس میں گھاٹے کا کوئی امکان نہیں۔ یہ بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا گر جیت گئے تو کیا کہنے ،ہارے بھی تو بازی مات نہیں! اس راہ میں تمہیں بظاہر دُنیا میں شکست بھی ہو جائے ، تمہاری جان بھی جاتی رہے ، لیکن حقیقت میں تمہیں ناکامی نہ ہو گی، تمہیں آخرت کی کامیابی ملے گی۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تمہیں جنت میں داخل فرما ئے گا اور یہی اصل کامیابی ہے۔ تم دُنیا کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کے لیے ہلکان ہوتے پھرتے ہو۔ ٹارگٹ بنا لیتے ہو کہ دُنیا میں ہمیں یہاں تک پہنچنا ہے۔ ابھی تو پانچ مرلے کا مکان ہے، لیکن دو کنال کا گھر ڈیفنس میں بھی ہونا چاہیے۔ ابھی تو ایک چھابڑی سے کام شروع کیا ہے لیکن ایک وقت آئے کہ ہم کارخانوں کے مالک بنیں۔ ضروری نہیں کہ ہر آدمی اپنے اس ٹارگٹ تک پہنچ بھی جائے۔ تاہم جو وہاں تک پہنچ بھی گیا تو اکثر و بیشتر اس حال میں پہنچے گا کہ اس نے اپنا سب کچھ تباہ کر دیا ہو گا، اپنی عاقبت برباد کر دی ہوگی، اپنا ''مستقبل ''داؤ پر لگا دیا ہو گا۔ اور یہ بات واضح ہے کہ مسلمان کا اصل مستقبل آخرت ہے۔ یہاں تو ہم مسافر ہیں اور حالت امتحان میں ہیں۔ کسی بھی وقت بلاوا آ جائے گا، اور یہاں سے اُٹھا لیے جائیں گے۔ اور روز محشر اللہ کے ہاں ہماری پیشی ہو گی اور ہمیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہو گا۔ آگے فرمایا:''اور ایک اور چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو (یعنی تمہیں) اللہ کی طرف سے مدد (نصیب ہو گی) اور فتح (عن) قریب (ہوگی) اور مومنوں کو (اس کی) خوشخبری دو۔''

اللہ کی راہ میں جہادو قتال کا اصل صلہ تو تمہیں نجات اُخروی کی صورت میں ملے گا، لیکن تم یہ بات بھی پسند کرتے ہو کہ اللہ کی مدد آئے، تمہیں فتح حاصل ہو، اور اللہ کادین تمہاری آنکھوں کے سامنے غالب ہو۔ تمہیں خیال رہتا ہے کہ دُنیا میں بھی تمہیں کامیابی مل جائے۔ تو دیکھو تمہاری دنیوی فتح بھی اب دور نہیں ہے۔ غلبۂ اسلام ہونے والا ہے۔ جزیرہ عرب کی حد تک اظہارِ دین حق کی منزل آیا ہی چاہتی ہے۔ اللہ کی مدداور فتح قریب ہے۔چنانچہ سن5ھ کے بعد حالات بدلنے شروع ہوگئے۔ سن 5میں غزوہ ٔاحزاب ہوا۔ سب کفار مل کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوگئے۔ یہ ایک اعتبار سے مسلمانوں کے لیے سخت ترین آزمائش تھی۔ بظاہر احوال مسلمانوں کے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی اور اُن کی شکست یقینی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُن کی مدد کی۔ کفار ایک مہینے تک مسلمانوں کا محاصرہ کیے رہے، مگر خندق کی وجہ سے وہ بالکل بے بسی کی کیفیت میں تھے اور پار نہ جا سکے۔ ایک مہینے کے بعد سخت آندھی چلی اور کفار کے خیموں میں آگ لگ گئی۔ مسلمان صبح اُٹھے تو دیکھا کہ سارا میدان خالی ہے۔ اس پر سورة الاحزاب میں تبصرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اہل ایمان کی طرف سے جنگ کرنے کے لیے کافی ہو گیا۔ باقاعدہ جنگ کی نوبت نہ آئی تھی اور پھر بھی مسلمان جیت گئے۔ اس موقع پر نبی اکرمۖ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمادیا تھا کہ یہ آخری موقع ہے کہ کفار تم پر چڑھ کر آئے ہیں۔ اب پیش قدمی تمہاری طرف سے ہوگی۔ اور یہی ہوا۔ چنانچہ اس کے بعد صلح حدیبیہ ہوئی اور سن 8ہجری میں مکہ فتح ہو گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ اے بنیۖ مومنوںکو بشارت دے دیجیے۔ وہ مسلمان جنہوں نے راہ حق میں سخت مشقتیں جھیلیں اور آزمائشوں کی بھٹیوں سے گزر کر یہاں تک پہنچے ، خاص طور پر مہاجرین مکہ ، آپۖ انہیں بشارت دے دیجیے۔ جب وہ ہر امتحان میں پورے طور پر ثابت قدم رہے تو اللہ کی نصرت خصوصی اور فتح آیا چاہتی ہے۔ برادران اسلام ! آج بھی ہمیں بھی راہ حق میں ثابت قدمی دکھانی ہو گی۔ پہلے ہمیں اپنی محنت سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم واقعی دین کے ساتھ مخلص ہیں ۔ پہلے ہمیں اللہ کے لیے سب کچھ لگانا ہو گا، پھر اللہ کی طرف سے مدد آئے گی۔ یہ اُس کا وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کے لیے اپنا تن من دھن لگانے کی توفیق عطا فرمائے اور شہادت سے نوازے۔ (آمین)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved