حضور ﷺ کا خصوصی مشن ‘ غلبۂ دین
  27  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) اسلام کو غالب کیے بغیر دُنیا میں کبھی امن نہیں آ سکتا۔ لہٰذا مسلمانوں کو جہاد کرنا ہو گا، راہ حق میں گردنیں کٹانا ہوں گی۔ یہی اُن کے رب کا تقاضا ہے۔ علامہ اقبالؒ کے بڑے خوبصورت اشعار ہیں۔ مقام بندگی دیگر مقام عاشقی دیگر زنوری سجدہ می خواہی زا خاکی بیش ازاں خواہی چناں خود را نگہداری کہ باایں بے نیازی یا شہادت بر وجودِ خود ز خونِ دوستاں خواہی! اللہ تعالیٰ اپنی خاکی مخلوق انسان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی گردن کٹوا کر، اپنا خون دے کر اُس کی توحید کی گواہی دے اور اپنی وفاداری ثابت کرے۔ نبی اکرمﷺ کے وفاداروں سے یہ تقاضا ہے کہ غلب�ۂ دین کے نبویؐ مشن کی تکمیل میں آپؐ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے جہاد کریں، قربانیاں دیں، ایثار کریں، اس راہ میں جان و مال بھی کھپائیں اور وقت بھی لگائیں۔ جو لوگ دین کو غالب کرنے کے لیے محنت کریں گے، اور اس راہ میں اپنی جان تک قربان کریں گے، انہی کا مقام سب سے بلند ہے۔ مقام شہادت بہت بلند رتبہ ہے، جس کی ہر مومن کے دل میں آرزو ہوتی ہے۔ شہادت ہے مطلوب و مقصود و مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی یہ ہے اسلام کا تصور جہاد۔ جہادسے بڑا خیر وجود میں آتا ہے اورتاریخ اس کی گواہ ہے۔ جہاد ہی کے نتیجے میں سلطنت روما کا بڑا حصہ مسلمانوں کے زیرنگیں آیا۔ جہاد ہی سے پوری کی پوری سلطنت فارس مسلمانوں کے ہاتھوں مفتوح ہو ئی۔ جہاد ہی سے دورِ خلافت میں معلوم دنیا کے وسیع رقبہ پر اللہ کا دین قائم ہوا، اور نتیجتاً صحیح معنوں میں امن و سکون کی فضا پیدا ہو گئی۔ ہر طرف خوشحالی آ گئی۔ زمین انسانی حقوق کے احترام اور عدل و انصاف سے بھر گئی۔ اس سے بہتر دور نوع انسانی نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ دور خلافت میں اسلامی ریاست میں بسنے والے غیر مسلموں کی بھی جان ، مال اور عزت و آبرو کا تحفظ اسلامی ریاست کی ذمہ دار ی تھی، بالکل اسی طرح جیسے ایک مسلمان کی جان، مال، عزت کی حفاظت اُس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کبھی کسی ایک بھی غیر مسلم کو جبراً مسلمان نہیں کیا گیا۔ لیکن باطل نظام کا وجود بہرحال نا قابل برداشت اور ایمان کے منافی تھا ۔ لہٰذا قوت کے زور پر اُس کا خاتمہ کر کے اللہ کی زمین پر اللہ کا دین قائم کیا گیا۔ یہ مسلمانوں کا فرض منصبی تھا۔ یہ نبیؐ کاخصوصی مشن تھا۔ لہٰذا مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی راہ میں جانوں اور مالوں سے جہاد کرو۔ یہی چیز تمہاری نجات اُخروی کا ذریعہ بنے گی۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ عذاب الیم اور اُخروی خسارے سے بچاؤ ہے۔ سورۃ العصر کے مطابق پوری انسانیت کا مقدر خسران عظیم ہے۔ سوائے اُن لوگوں کو جو ایمان لائیں، اعمال صالحہ بجا لائیں، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور مشکلات پر صبر کی تلقین کریں۔ یہاں یہی بات دوسرے انداز سے واضح کی گئی ہے کہ اگر آخرت کے عظیم خسارے سے بچنا چاہتے ہو تو راہ حق میں جان و مال سب کچھ کھپانے کے لیے تیار ہو جاؤ۔رسول ﷺکے مشن میں ان کے دست و بازو بن جاؤ۔ جہاد فی سبیل اللہ کا صلہ کیا ملے گا؟فرمایا:’’وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو باغہائے جنت میں جن میں نہریں بہ رہی ہیں اور پاکیزہ مکانات میں جو بہشت پائے جاودانی میں (تیار) ہیں داخل کرے گا۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘ گویا اس راستے میں خیر ہی خیر ہے۔ یہ سودا وہ ہے جس میں گھاٹے کا کوئی امکان نہیں۔ (جاری ہے)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved