گمشدہ ریاست اور مفلوج حکومت!
  29  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

'' مسلمانوں کی ترقی اور تنزلی ،دونوں کا ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے ان کا فوری اور وقتی جوش ،وہ سیلاب کی مانند پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہلا سکتے ہیں ،لیکن کوہ کن کی طرح ایک ایک پتھر کو جدا کرکے راستہ صاف نہیں کر سکتے،وہ بجلی کی مثل ایک آن میں خرمن کو جلا سکتے ہیں ،لیکن چیونٹی کی طرح ایک ایک دانہ نہیں ڈھو سکتے۔وہ مسجد کی مدافعت میں اپنا خون پانی کی طرح بہا سکتے ہیں ،لیکن کسی منہدم مسجد کو دوبارہ بنانے کے لئے مستقل کوشش جاری نہیں رکھ سکتے ،یہ ان سے ممکن تھا کہ محمّد علی اور ابو اکلام کے دائیں بائیں گر کر جان دیدیں ،لیکن ان کے بس کی بات نہیں کہ مسلسل آئینی جدوجہد سے اسیران اسلام کو جیل سے چھڑا لائیں،ہمارری ناکامی کا اصل سبب یہ ہے کہ ہم آندھی کی طرح آتے ہیںاور بجلی کی طرح گزر جاتے ہیں ''علامہ سید سلیمان ندوی کے اس اقتباس میں ہمارا مکمل قومی مزاج ،مذہبی رویئے اور سیاسی چال چلن کی روداد پائی جاتی ہے ۔ بیس روز میں عاشقان رسولۖ نے جس ڈھب سے اپنی روح کی بے چینی اور بے قراری کا اظہار کیا،جس انداز میںختم نبوت کے موقف کو بیان کیا ،جس طور اپنے طرز احساس کو دنیا تک پہنچایا ،اس میں وہ تہذیب و شائستگی کہیں نہ دکھائی دی جو نبی آخرزمان ۖکی حیات کا دائمی وطیرہ رہا ،جسے ختم رسل مولائے کل ۖنے اپنی بعثت کا مقصد جتلایا ،اس میں کوئی شک نہیں کہ ختم نبوت ۖ کا مسئلہ بہت حساس ہے ، ایک مسلمان کی اس پر دو آرا ء ہو ہی نہیں سکتیں ،وہ اس پر جان تو دے سکتا ہے مگر اس پر کسی دوسری رائے رکھنے والے کے وجود کو زمین کے سینے پر سانس لیتا ہرگز ہرگز نہیں دیکھ سکتا ،ایسا ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ یہ ایمان اور کفر کا معاملہ جس پر ادنیٰ سے ادنیٰ کلمہ گو بھی ادھار نہیں کھا سکتا ،کہاں ملکی آئین میں کوئی تبدیلی کے امکان کا در اور دریچہ تو کیا روزن ہی کا روادار ٹھہرے۔ یہ سراسر قومی سالمیت کے خلاف ایک گھنائونی سازش تھی جو ایک ایسے وقت میں بے نقاب ہوئی ،جو سیاسی انتشار کا وقت تھا ،جو بدعنوان ،قومی خزانے کو لوٹنے والوں ،منی لانڈرنگ مافیا اور قومی اثاثہ جات کو بیرون ملک منتقل کرنے والوں کے گر د دائرہ اسقدر تنگ کر چکنے کا وقت تھا کہ ان کی سانسیں کلی طور پر اکھڑچکی تھیں ،عدالتی جنگ ہار چکنے پر وہ اداروں کو آپس میں برسرپیکار کرنے کی روش پر ببانگ دہل تلے ہوئے تھے ،ان کی سیاسی ساکھ خس وخاشاک کی طرح بہتی چلی جارہی تھی ،ان کے پاس کوئی مضبوط سہارا نہ رہا تو انہوں نے وقت کے دریا میںڈوبتے ہوئے تنکوں کا سہارا لینے کی کوشش کی ،ایسے بے وقعت بے بضاعت تنکے جو ہوا کے ایک جھونکے کی مار بھی نہ تھے ،انہوں نے ایک ایسی دیوار کے پیچھے چھپنے کی کی کوشش کی جو دیوار گریہ تھی وہ انہیں کیا اوٹ مہیا کرتی پے در پے اپنے ہی سایوں پر گرتی چلی گئی۔ ختم نبوت ۖ کے پروانے چھپ کر وار کرنے والوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے ،مگر ہمالہ سے بڑے اور چٹانوں سے مضبوط موقف کو جو زبان دی اس نے جگ ہنسائی کے نت نئے باب کھول دیئے سوشل میڈیا پر نام نہاد روشن خیال مسلمانوں نے مولانا خادم حسین رضوی کے طرز تکلم پر تنقید کے ڈھیروں تیر برسائے مگرسب نشانے خطاہوجانے کے باوجود بھی ہمارے مذہبی رہنمائوں کی طرف سے دنیا کے پاس اچھا پیغام نہیں گیا ۔ مذہبی بیانیہ تو جس طور اجاگر ہوا،زیر بحث آچکا ،ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان بارے دنیا پر کیا واضح ہوا ،کیا حکومتیں معاملات سے ایسے نمٹتی ہیں ؟ ریاست کی کارکردگی کا بوجھ کس کے کندھوں پر ہوتا ہے ؟اسیاستدان ،سول و ملٹر ی بیوروکریسی اور عدلیہ،مگر اس سارے بیانیہ میں ایک مخصوص مسلک کی مذہبی جماعت نہیں بلکہ گروہ کے چند ہزار بظاہر نہتے افراد نے ریاست اور حکومت کی رٹ ہی کو سوالیہ نشان نہیں بنایا ان کے وجود ہی کو گم گشتہ ثابت کر دیا ،معاملہ یقیناََ بہت حسّاس تھا مگر اس کی حسّاسیت کو کس نے باور کیا ؟ریاست اور حکومت دونوں پر خوف مسلط ،پولیس اپنے اختیارات سے بیگانہ ،اورحیات کی تمام راہیں مسدود ،ریاست کی ساری ذمہ داری آخر کس کے کندھوں پر ڈال دی گئی ؟ عدلیہ کے شانوں پر ؟کہ وزیر داخلہ بھی ایک ہی بات دہراتے رہ گئے کہ ''فورسز کسی کو مار رہی ہیں تو حکومت کے ایما پر نہیں عدلیہ کے حکم پر'' گویا حکومت جو شہریوں کی جان ،مال کی محا فظ ہوتی ہے وہ بری الذمہ،ریاست کا سر براہ سرے سے مفقودالخبر ،حکومت کا سربراہ ! جیسے کوئی تھا ہی نہیں ،عدلیہ کے حکم پر قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام تر وسائل کے ساتھ حکومت کے ایک وزیر کی وزارت کے بچائو کی خاطر نبرد آزما تھے ،ریاست اور حکومت کی رٹ قائم کرنے کے لئے نہیں۔

جب سیاستدان وژن سے محروم ہوں ،سیاسی جماعتیں کسی سیاسی منشور پر عمل پیرا نہ ہوں توریاست کی رٹ اور حکومت کا وجود یوں ہی معدوم ہوجاتا ہے ،پھر سلامتی کے ادروں کی کارکردگی اسقدر بھی نہیں رہتی کہ دو بھرے پُرے شہروں کو چند ہزار نہتے افراد سے واگزار کرا سکیں ،اور کسی پر کیا بیتی ،قیامت بس انہی پر ٹوٹی جن کے آنگنوں سے جنازے اٹھے۔ وہ جو آندھی کی طرح آئے تھے بجلی کی طرح گزر گئے،حضرت سلیمان ندوی کہتے ہیں ''ہم کو دریا کے اس پانی کی مانند ہونا چاہئے جو آہستہ ،آہستہ بڑھتا ہے اور سال ہا سال میں کناروں کو کاٹ کر اپنا دہانہ وسیع کرتا جاتا ہے ،کامیابی صرف مسلسل اور پائیدار کوشش میں ہے ،ہمالیہ کی برفانی چوٹیاں آہستہ،آہستہ پگھلتی ہیں ،لیکن کبھی جمنا کو خشک نہیں ہونے دیتیں ،آسمان کا پانی ایک دو گھنٹے میں دشت و جبل کو جل تھل بنا دیتا ہے لیکن چند ہی روز میں ہر طرف خاک اڑنے لگتی ہے''وہ سب اپنے اپنے گوٹھوں کو سدھار گئے ،زاہدحامد کا ایک استعفیٰ جو پہلے روز لے لیا جاتا تو سروںکی فصل نہ پکتی اور نہ کٹتی ،بہر جو ذلت رسوائی ریاستی اداروں اور حکومتی ایوانوں نے دیکھی ہے ،اس نے آنے والے حکمرانوں پر یہ تو طشت ازبام کر ہی دیا ہوگا جومیرے رسول ۖکی حرمت کو چھیڑے گا وہ ذلتوں سے نہیں بچ سکے گا ،جتنا بھی با اختیار کیوں نہ ہو۔۔!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved