دھرنے،حکومت اور پاک فوج
  30  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

حکومت کو ابھی تک سمجھ نہیں آرہی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔مجھے کیوں نکالا کی گردان کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوا کی گردان مسلم لیگ (ن) کے اندر شروع ہو چکی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ختم نبوت کے قانون سے چھیڑ چھاڑ ہی نہ کی جاتی اور اگر ایسا کیا گیا تھا تو جن لوگوں نے ایسا کیا وہ حکومت کے دوست نہیں تھے اس لیے ضروری تھا کہ پہلے ہی متعلقہ وزیر سے پریس کانفرنس کروا کر استعفیٰ دلوا دیا جاتا۔ افسوس اب معاملات ان کے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں اور اس وقت سو جوتوں اور سو پیاز والی مثال ان پر مکمل صادق آتی ہے۔ لیکن ابھی انہیں مزید پیاز کھانے پڑیں گے اور جب پیاز کھائے جائیں تو ان کی بو بھی آتی ہے اور اس کی وجہ سے آنسو بھی آتے ہیں۔اس حوالے سے اب ن لیگ کی قیادت اور اس کے کارکن بلکہ اکثر سینیئر رہنما خون کے آنسو رو رہے ہیں کیونکہ چاہے پی ٹی آئی کے دھرنے ہوں عدلیہ ہو یا فوج کسی نے کبھی کسی ن لیگی ایم این اے کے سر پر ڈنڈا نہیں مارا تھا جبکہ اس دھرنے پر تشدد کے بعد تو ن لیگ کی پوری قیادت کو ہی غائب ہونا پڑا تھا۔ اس وقت پورے پنجاب کے مسلم لیگی ارکان اسمبلی میں ایک ہیجان کی کیفیت ہے وہ ایک دوسرے کو فون کر کے پوچھ رہے ہیں ،اب آگے کیا ہوگا۔ہمارا مستقبل کیا ہو گا۔انہیں اس وقت کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔مجھے خدشہ ہے کہ آئندہ الیکش اگر جلد یا بدیر ہوئے تو آج کے اکثر مسلم لیگی ارکان پارٹی ٹکٹ کی بجائے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کو ترجیح دیں گے۔ایک وزیر قانون کے استعفیٰ کے بعد ایک دوسرے وزیر قانوں کے استعفیٰ کیلئے دباو بڑھتا جا رہا ہے۔سرگودھا سے مسلم لیگی رکن پنجاب اسمبلی تو اپنے ساتھ بیسیوں استعفوں کا ذکر کر رہے ہیں۔اور یہ کتنا عجیب لگ رہا ہے کہ ختم نبوت پر یقین رکھنے والے اور اچھے کردار کے حامل ارکان اسمبلی کو اس معاملے پر قسمیں اٹھانا پڑ رہی ہیں۔مجھے میاں صاحبان اور انکے عقیدے کے متعلق بات کرنے کی ضرورت نہیں وہ ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔ خدا خدا کرکے اسلام آباد دھرنا اپنے انجام کو پہنچا ،اسلام آباد کے بعد اب لاہور کے شہری ایک منی دھرنے کو دیکھ رہے ہیں۔ملک میں مذہبی جماعتوں کی طرف سے احتجاج کی تاریخ تقریباً اتنی ہی پرانی ہے جتنی پاکستان کی تاریخ ، کیونکہ اس طرح کا پہلا مذہبی احتجاج 1949میں قرار داد مقاصد کے سلسلے میں کیا گیا اور تب سے مذہبی پریشر گروپس نے ایک ایسی صورتحال دھار لی ہے کہ کبھی بھی کوئی اس طرح کی جماعتوں کے سامنے سیاسی طور پر بات کرنے سے ڈرتا ہے اس کی واضع مثال ہمیں ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھی ملتی ہے جب انہوں نے انہی مذہبی جماعتوں کے زیر اثر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ایک بہت بڑی دینی خدمت کی تھی لیکن بعد میں انہی جماعتوں کے ساتھ محاذ آرائی کی وجہ سے ان کے لیے سیاست ختم کردی گئی۔ موجودہ دھرنوں کے دوران حکومت اور سٹیٹ کی کمزوری بہت بری طرح ایکسپوز ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ملک میں جاری نیشنل ایکشن پلان پر بھی بہت سے سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ اگر پانامہ کے ایشو کی وجہ سے ن لیگ کی حکومت اپنی ساکھ نہ کھو چکی ہوتی تو شاید اس دھرنے میں اس قدر کمزوری کا مظاہر ہ نہ کیا جاتا کیونکہ جب سے پانامہ کا معاملہ شروع ہوا اور اپنے منطقی انجام کو پہنچا حکومت بیک فٹ پر ہے اور پانامہ کے فیصلے کے ساتھ پیدا ہونے والے خلاء کو کو پر کرنے کی بجائے ن لیگ کی قیادت نے الٹا عدلیہ اور فوج کے ساتھ محاذ آرائی شروع کررکھی ہے جبکہ حقیقت میں پاکستان کی فوج او رعدلیہ کا پانامہ کے کیس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی فوج نے کبھی نواز شریف اینڈ فیملی کو مشورہ دیا کہ وہ لندن میں فلیٹس بنائیں یا پانامہ میں آف شور کمپنیاں بنائیں۔دھرنے کے خلاف آپریشن والے دن بھی وزیراعظم اور وزیرداخلہ کی جاتی عمرہ میں حاضری اوردھرنے کے حوالے سے غیر سنجیدگی سمجھ سے باہر ہے۔یہی اگر حکومت سٹیٹ کی رٹ کو بحال رکھنے کے لیے پوری تنگ دہی کے ساتھ آپریشن کرتی اور عدلیہ کے کندھے پر رکھ کر آپریشن کرنے کی بجائے سیاسی حکمت عملی کا مظاہر ہ کرتی تو شاید ان حالات میں بہت سے بہتر فیصلے ہوجاتے۔

ن لیگ کے دھرنے والوں کے ساتھ کئے گئے سلوک اور اس کے جواب میں فوج کا سہار الے کر معاہدہ کرنے سے واضح ہوچکا ہے کہ اس وقت ملک میں ایک عجیب صورتحال ہے جس میں حکومت ایک عضو معطل بنی ہوئی ہے اور اگر فوج اس معاملے میں بیچ بچائو نہ کرتی تو سب جانتے تھے کہ کیا ہوتا۔ پاک فوج نے اس معاملے میں جو کردار ادا کیا ہے وہ انتہائی قابل تحسین ہے اور وہ لوگ جو ہمیشہ طوطے کی طرح ایک ہی رٹ لگائے رہتے ہیں کہ فوج حکومت کو فارغ کرنا چاہتی ہے ان کے منہ پر بھی ایک طمانچہ ہے کہ پاک فوج ایک انتہائی پیشہ وارانہ فوج ہے اور اسے اپنی حدود و قیود کا علم ہے جس کے مطابق پاک فوج اور اس کے زیرک ، محب وطن اور ختم نبوت کے داعی سپہ سالارنے ملک کو ایک بہت بڑے سانحے سے بچا لیا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved