حضور ۖ کا خصوصی مشن ' غلبۂ دین
  30  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) یہ بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا گر جیت گئے تو کیا کہنے ،ہارے بھی تو بازی مات نہیں! اس راہ میں تمہیں بظاہر دُنیا میں شکست بھی ہو جائے ، تمہاری جان بھی جاتی رہے ، لیکن حقیقت میں تمہیں ناکامی نہ ہو گی، تمہیں آخرت کی کامیابی ملے گی۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تمہیں جنت میں داخل فرما ئے گا اور یہی اصل کامیابی ہے۔ تم دُنیا کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کے لیے ہلکان ہوتے پھرتے ہو۔ ٹارگٹ بنا لیتے ہو کہ دُنیا میں ہمیں یہاں تک پہنچنا ہے۔ ابھی تو پانچ مرلے کا مکان ہے، لیکن دو کنال کا گھر ڈیفنس میں بھی ہونا چاہیے۔ ابھی تو ایک چھابڑی سے کام شروع کیا ہے لیکن ایک وقت آئے کہ ہم کارخانوں کے مالک بنیں۔ ضروری نہیں کہ ہر آدمی اپنے اس ٹارگٹ تک پہنچ بھی جائے۔ تاہم جو وہاں تک پہنچ بھی گیا تو اکثر و بیشتر اس حال میں پہنچے گا کہ اس نے اپنا سب کچھ تباہ کر دیا ہو گا، اپنی عاقبت برباد کر دی ہوگی، اپنا ''مستقبل ''داؤ پر لگا دیا ہو گا۔ اور یہ بات واضح ہے کہ مسلمان کا اصل مستقبل آخرت ہے۔ یہاں تو ہم مسافر ہیں اور حالت امتحان میں ہیں۔ کسی بھی وقت بلاوا آ جائے گا، اور یہاں سے اُٹھا لیے جائیں گے۔ اور روز محشر اللہ کے ہاں ہماری پیشی ہو گی اور ہمیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہو گا۔ آگے فرمایا:''اور ایک اور چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو (یعنی تمہیں) اللہ کی طرف سے مدد (نصیب ہو گی) اور فتح (عن) قریب (ہوگی) اور مومنوں کو (اس کی) خوشخبری دو۔''

اللہ کی راہ میں جہادو قتال کا اصل صلہ تو تمہیں نجات اُخروی کی صورت میں ملے گا، لیکن تم یہ بات بھی پسند کرتے ہو کہ اللہ کی مدد آئے، تمہیں فتح حاصل ہو، اور اللہ کادین تمہاری آنکھوں کے سامنے غالب ہو۔ تمہیں خیال رہتا ہے کہ دُنیا میں بھی تمہیں کامیابی مل جائے۔ تو دیکھو تمہاری دنیوی فتح بھی اب دور نہیں ہے۔ غلبۂ اسلام ہونے والا ہے۔ جزیرہ عرب کی حد تک اظہارِ دین حق کی منزل آیا ہی چاہتی ہے۔ اللہ کی مدداور فتح قریب ہے۔چنانچہ سن5ھ کے بعد حالات بدلنے شروع ہوگئے۔ سن 5میں غزوہ ٔاحزاب ہوا۔ سب کفار مل کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوگئے۔ یہ ایک اعتبار سے مسلمانوں کے لیے سخت ترین آزمائش تھی۔ بظاہر احوال مسلمانوں کے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی اور اُن کی شکست یقینی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُن کی مدد کی۔ کفار ایک مہینے تک مسلمانوں کا محاصرہ کیے رہے، مگر خندق کی وجہ سے وہ بالکل بے بسی کی کیفیت میں تھے اور پار نہ جا سکے۔ ایک مہینے کے بعد سخت آندھی چلی اور کفار کے خیموں میں آگ لگ گئی۔ مسلمان صبح اُٹھے تو دیکھا کہ سارا میدان خالی ہے۔ اس پر سورة الاحزاب میں تبصرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اہل ایمان کی طرف سے جنگ کرنے کے لیے کافی ہو گیا۔ باقاعدہ جنگ کی نوبت نہ آئی تھی اور پھر بھی مسلمان جیت گئے۔ اس موقع پر نبی اکرمۖ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمادیا تھا کہ یہ آخری موقع ہے کہ کفار تم پر چڑھ کر آئے ہیں۔ اب پیش قدمی تمہاری طرف سے ہوگی۔ اور یہی ہوا۔ چنانچہ اس کے بعد صلح حدیبیہ ہوئی اور سن 8ہجری میں مکہ فتح ہو گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ اے بنیۖ مومنوںکو بشارت دے دیجیے۔ وہ مسلمان جنہوں نے راہ حق میں سخت مشقتیں جھیلیں اور آزمائشوں کی بھٹیوں سے گزر کر یہاں تک پہنچے ، خاص طور پر مہاجرین مکہ ، آپۖ انہیں بشارت دے دیجیے۔ جب وہ ہر امتحان میں پورے طور پر ثابت قدم رہے تو اللہ کی نصرت خصوصی اور فتح آیا چاہتی ہے۔ برادران اسلام ! آج بھی ہمیں بھی راہ حق میں ثابت قدمی دکھانی ہو گی۔ پہلے ہمیں اپنی محنت سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم واقعی دین کے ساتھ مخلص ہیں ۔ پہلے ہمیں اللہ کے لیے سب کچھ لگانا ہو گا، پھر اللہ کی طرف سے مدد آئے گی۔ یہ اُس کا وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کے لیے اپنا تن من دھن لگانے کی توفیق عطا فرمائے اور شہادت سے نوازے۔ (آمین)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved