کمپنی حکومت
  4  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

سابق بیوروکریٹ اور موجودہ سیاستدان جاوید محمود کے خیالات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وہ ایک وقت میں شریف فیملی ،خصوصی طور پر میاں شہباز شریف کے سب سے زیادہ منظور نظر اور چہیتے افسر تھے۔وہ میاں شہباز شریف کے دور میں سیکرٹری ٹو وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری جیسی کلیدی پوسٹوں کے علاوہ لاہور کے ڈی سی اور ڈی جی ایل ڈی اے بھی رہے۔یہ تمام پوسٹیں کسی افسر کو کم ہی ملتی ہیں اسی وجہ سے جاوید محمود کو شریف فیملی کو انتہائی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔وہ اب سچ بولنا شروع ہو گئے ہیں اور گھر کے بھیدی نے موجودہ حکومت کی گڈ گورننس کی لنکا ڈھا دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے نو سال میں خود کام کیا ہے نہ کسی کو کرنے دیا۔پنجاب میں حکومت کو فوت ہوئے کافی عرصہ ہو چکا ہے۔بہر حال انہوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر اپنی جان چھڑا لی مگر اس انتظامی نظام کی بدحالی میں ان کا پورا حصہ ہے۔ ایک وقت تھا ملک میں سیاسی شعور اور جذبہ بہت زیاد ہ ہوتا تھا ملک کے تمام شہروں میں طلباء تنظیمیں تمام سیاستی جماعتوں کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھیں اس وقت ہر آئے دن کوئی نہ کوئی شاہراہ بند کردی جاتی تھی یا پھر ملک میں جاری فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے بھی بہت زیادہ ہنگامہ آرائی ہوتی رہی لیکن اس سب میں ایک جگہ پر اکٹھے ہونے والے جتھے کے لیے ایک مجسٹریٹ ہی کافی ہوتا تھا جو کہ نہ صرف احتجاج کرنے والوں سے مزاکرات کرتا تھا بلکہ عوام کے روزمرہ کے معاملات کو بھی جاری رکھنے کے لیے بروقت اقدامات کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے ان دنوں میں نوائے وقت کا رپورٹر تھا ہمارا دفتر مال روڈ پر تھا اور ہر مظاہرے کی کوریج کیلئے ہم سب سے پہلے پہنچ جاتے تھے۔پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کے موجودہ فر شتہ سیرت ایم ڈی طارق محمود مجسٹریٹ سول لائن ہوا کرتے تھے۔دبلے پتلے سے با اخلاق طارق محمود منٹوں میں مال روڈ کے جلوس ،دھرنے اور ہنگامے کو کلیئر کرا دیتے تھے۔ لیکن اب تو گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے ملک کی ساری کی ساری قیادت چند سو نفوس پر مشتمل احتجاجیوں کے آگے سرنگوں ہو جاتی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ تو ہماری سیاسی قیادت کی نا اہلی ہے کیونکہ سیاسی قیادت نے ناصرف اس نا اہلی کی بنا پر خود کچھ نہیں کیا بلکہ ہماری بیوروکریسی کوبھی اپاہج کررکھا ہے۔بیوروکریسی کسی بھی ملک میں انتظام حکومت چلانے میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن تب جب بیوروکریسی پر مکمل بھروسہ کیا جائے اور انہیں ان کے اختیارات میرٹ پر عوام کی فلاح کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ موجودہ پنجاب حکومت اپنی گڈگورننس کا بہت دعویٰ کرتی ہے اور اسی گڈگورننس کے نام پر صوبے میں بنائی گئی کمپنیوں کا پول بھی کھل چکا ہے جو کہ کسی قسم کی پرفارمنس دینے کی بجائے الٹا بیوروکریسی میں تقسیم کا باعث بن رہی ہیں۔ موجودہ دور حکومت میں پنجاب حکومت نے واضع طور پر گڈگورننس کا نعرہ لگا کر پنجاب کی بیوروکریسی کی اساس کو ہلا کررکھ دیا ہے پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ اگر کوئی نو آموز افسر کسی سفارش سے آیا ہو یا وہ حکومت کا منظور نظر ہوتو اسے اچھی اپائنٹمنٹ مل جاتی تھی لیکن اب تو ایک نئی ہوا چل پڑی ہے جہاں حکومت نے چہیتے افسران کی منڈی لگا دی ہے اور ہر افسر کی خدمات کے عوض اس کا ریٹ لگایا گیا ہے۔ یعنی اگرکوئی افسر جونیئر بھی ہو لیکن حکوت کا منظور نظر ہو تو اس کو پہلے تو پسند کی پوسٹنگ دی جاتی ہے ، اور پھر اس کے بعد اسے مزید نوازنے کے لیے اس کے لیے نئی کمپنیاں بنا کران افسران کو نوازا جاتا ہے ایسی مثال پاکستان میں بیوروکریسی کی تاریخ میں پہلے نہیں ملتی کہ چیف سیکرٹری جو کہ پورے صوبے کا سربراہ ہوتا ہے اس کی تنخواہ اس کے ماتحت کام کرنے والے افسران کی نسبت بہت کم جبکہ ایک نوآموز افسر جو کہ اپنے چیف سیکرٹری کی بجائے ڈائریکٹ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو رپورٹ کرتا ہے اسکی تنخواہ بہت زیادہ۔ جس کی بنا پر بیوروکریسی میں ایک خلیج پیدا ہوچکی ہے اور اسی خلیج کی بدولت آج ملک میں ایک عجیب بے چینی کی فضاء ہے۔ بیوروکریسی کی نااہلی کیوں ہے یا مزید معاملات میں ملک کے عوام کو ریلیف کیوں نہیں دیا جارہا وہ الٹا خود معطل ہوچکی ہے کیونکہ حکومت نے ہی اس کام کی ابتداء کی ہے اورمیرٹ کا گلا دبا دیا ہے۔ ابھی تو یہ اس طرز حکومت کے نتائج کی ابتداء ہے آگے پتہ نہیں کیا کیا ہوتا ہے۔ہمارے حکمران یہ بھول جاتے ہیں کہ جب وہ حکومت میں ہوتے ہیں تو وہ بیوروکریسی کو اپنے گھر کی لونڈی بنانا چاہتے ہیں اور اکثر ایسا تو ہوجاتا ہے لیکن بیوروکریسی کو جس گھر کی لونڈی بنایا جارہا ہے اس کے مکین یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ گھر ان کا عارضی ٹھکانہ ہے اور بہت سے ان سے پہلے اس گھر میں بیٹھ کر حکومت کرچکے ہیں اور بہت سے ان کے بعد آئیں گے۔ اگر حالیہ دھرنوں کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دھرنوں کے حوالے سے جو موقف دھرنا قیادت کا تھا وہ ایسا تھا کہ اس پر ہر مسلمان مرمٹنے کو تیار ہے لیکن اس سارے معاملے کواس طرح مس ہینڈل کیا گیا کہ ایک استعفیٰ پر حل ہونے والا معاملہ پوری ن لیگ کی وفاقی اور صوبائی حکومت کو ہلا گیا ہے اس وقت اگر دیکھا جائے تو ملک میں نہ تو وفاقی حکومت اور نہ ہی پنجاب حکومت کی کوئی اخلاقی طاقت رہی ہے۔جبکہ دوسری طرف اس تمام ایشو پر یہ حقیقت بھی واضع ہوچکی ہے کہ پنجاب اور وفاقی حکومت میں رابطے کا فقدان تھا جس کی وجہ سے باری باری دونوں حکومتوں کے خلاف دھرنا بھی دیا گیا اور دونوں حکومتوں کودھرنا قائدین کے سامنے گھٹنے بھی ٹیکنے پڑے۔اس تمام معاملے میں اگر کسی نے اچھے طریقے سے ہینڈ ل کیا ہے تو وہ ہے ہماری اسٹیبلشمنٹ جس نے ہوش کے ناخن لیتے ہوئے ملک کو ایک بہت بڑے سانحے سے بچایا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved