حافظ سعید کی سیاست
  5  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید دس ماہ کی نظر بند ی کے دوران تفسیر قران کا مطالعہ کرتے ہوئے بھی جدوجہد آزادی کشمیر کوبھول پائے نہ ان پاکستانی سیاست دانوں کی چیرہ دستیوں کو جن کے اقدامات کے سبب پاکستان سے آزادی کشمیر کی تحریک کمزور ہوئی ۔وہ مودی اور میاں نواز شریف کی دوستی کے چرکوں کا بھی شکار ہوئے ، اس سلسلے میں آزادی کشمیر کی تحریک پر دو ہزار سترہ کے بھاری گزرنے کا احساس انہیں غمگین کرتا ہے مگر امید کا دامن انہوں نے اب بھی مضبوطی سے تھام رکھا ہے۔ اسی لئے اب انہوں نے کشمیر کیلئے اپنی جدوجہد کیلئے آئندہ سال کو منتخب کر لیا ہے۔ اپنی نظر بندی کے بعد ہفتہ کے روز سینئر صحافیوں کے ایک گروپ سے اپنی پہلی ملاقات کے دوران جب انہوں نے سیاست میں آنے کا اعلان کیا تو یہ ایک بریکنگ نیوز تھی۔گو عملی طور پر ملی مسلم لیگ انکی نظر بندی کے دوران ہی سیاست کی داغ بیل ڈال چکی تھی مگر حافظ سعید کا اپنی زبان سے اظہار معنی خیز اور اہم بھی تھا۔ختم نبوت کے حوالے سے موجودہ حکومت کی غلطیوں سے جہاں سنی بریلوی مکتبہ فکر کا بڑا ووٹ بنک پہلے ہی شریف حکومت کے سر کا درد بن چکا ہے وہاں اب حافظ سعید اور ان کے پیروکاروں کا جہادی فکر کا ووٹ بنک بھی نواز شریف سے دور ہوتا نظر آ رہا ہے جو مسلم لیگ (ن) کے قائدین کیلئے شائد ابھی معنی نہیں رکھتا مگر اس جماعت کے ارکان اسمبلی میں ان وجوہات کی بنا پر سراسیمگی واضع طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ حافظ سعید پاکستانی کی نظریاتی اور جہادی سرحدوں کے محافظ ہیں اس حوالے سے ان کی کامیابی کی واضع مثال یہ ہے کہ ان کا وجود ہر پاکستان دشمن کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے حافظ صاحب اپنے ہی گھر میں مقید تھے۔ یہ نظر بندی ان کے کسی جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومت پاکستان کی طرف سے امریکہ کی نظروں میں منظور ہونے کے لیے ایک کوشش تھی حالانکہ امریکہ کو بھی حافظ سعید سے کچھ لینا دینا نہیں ہے بلکہ امریکہ اور اس کی ٹرمپ ایڈمنسٹریشن صرف بھارت کو خوش کرنے کے لیے یہ اقدامات اٹھا رہی تھی۔ اب لگتا ہے کہ جہاں ایک طرف حافظ سعیدکے مستقبل کا لائحہ عمل اور ویڑن مزید بہتر ہورہا ہے وہیں امریکہ کو بھی احساس ہورہا ہے کہ وہ حافظ صاحب کے خلاف کچھ ثابت نہیں کر پایا۔ حافظ سعید کی نظر بندی کے دوران ان کی پارٹی نے باقاعدہ سیاست کا آغاز کردیا تھا اور اس حوالے سے لاہور کے سب سے اہم حلقے میں ان کے امیدوار نے ایک اچھی تعداد میں ووٹ حاصل کرکے لوگوں کو حیران کردیا ہے ۔ میں نے ان ووٹوں کی تعداد پانچ ہزار کہی تو حافظ صاحب نے میری تعداد کو درست کرتے ہو ئے کہا چھ ہزار کے قریب۔ سیاسی پنڈت ایک طرف تو اس نوآموز جماعت کی عوام میں پذیرائی پر حیران ہیں جبکہ وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ اس لحاظ سے حافظ سعیدکا فیصلہ کافی دیر سے آیا ہے انہیں بہت پہلے سے سیاست کا آغاز کرکے ملک کی پارلیمنٹ میں نظریہ پاکستان اور کشمیر کا مقدمہ لڑنا چاہیے تھا۔لیکن دیر آیددرست آید۔۔۔ برادر عزیز روف طاہر، حافظ صاحب کی طرف سے سیاست کے اعلان پر رنجیدہ تھے ۔کہنے لگے کہ جماعت اسلامی انکی پہلی اور جماعت الدعوہ دوسری محبت تھی اپنے صاحبزادے کی بات بتائی کہ وہ اب ان دونوں جماعتوں کو قربانی کی کھال دینا بھی پسند نہیں کر رہا۔حافظ صاحب نے محبت سے روف بھائی سے کہا مجھے اپنے صاحبزادے سے ضرور ملوائیں۔ دیکھا جائے تو ابھی بھی پاکستان کی سیاست میں بہت زیادہ خلاء موجود ہے جہاں ملی مسلم لیگ اپنی جگہ بنا سکتی ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حافظ سعیدایک ایسا منشور پیش کریں جو صرف کشمیر کا ہی احاطہ نہ کرے بلکہ اس میں پاکستان کے عوام کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے بھی کوئی لائحہ عمل موجود ہو ۔دس ماہ پہلے جب حافظ صاحب کو نظر بند کیا گیا تھا اس روز بھی ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ اعلیٰ عدلیہ کے ذریعے رہائی کے بعد یہ ملاقات ہوئی تو ہم نے اسے سابقہ ملاقات کا ہی تسلسل سمجھا کیونکہ حافظ صاحب کے خیالات میں جوش و جذبہ اسی طرح موجود تھا۔ اندیشہ تھا کہ حکومت پھر سے انہیں نظر بند کردے گی لیکن حافظ سعیدسے ملاقات میں(باقی صفحہ6بقیہ نمبر11) حیرانی ہوئی کہ انہوں نے دس ماہ کی نظر بندی پر کسی کو بھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا اور انتہائی صبر و تحمل کے ساتھ اپنے مستقبل کے منصوبوں کا اعلان کیا جبکہ ان کے چہرے یا حرکات و سکنات میں کہیں یہ شائیبہ تک نہ تھا کہ وہ اس نظر بندی کی وجہ سے پریشان ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس دس ماہ کی نظر بندی کے بعد حافظ سعید نظریہ پاکستان کے داعی اور کشمیر کی آزادی کے زیادہ بڑے وکیل بن گئے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔مجھے حافظ سعیدکی شخصیت میں وہ جذبہ ایمانی اور ملک کے لیے محبت نظر آئی جو آج کل ہمارے حکمرانوں میں ناپید ہوتا جارہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حافظ سعید سیدھے سادھے انسا ن ہیں اور سیاست ان کے لیے ایک نیا تجربہ ہے لیکن ان کے ماضی کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح انہو ں نے اپنے اب تک کے سفر میں کامیابی حاصل کی ہے اسی طرح وہ پاکستان کی سیاست میں بھی اپنا لوہا منوا لیں گے مسئلہ یہاںان سیاستدانوں کے لیے ہے جنہوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنی سیاست کی دوکان چمکا رکھی ہے اور حافظ سعید کی سیاسی میدان میں آمد ان جیسے سیاستدانوں سمیت ملک کی دیگر قومی جماعتوں کے لیے بھی ایک چیلنج ثابت ہوگا ۔ ایک بات یقینی ہے کہ ان جیسی شخصیت کی پارلیمنٹ میں موجودگی کے دوران کوئی نظریہ پاکستان اور کشمیر پر سمجھوتہ کرنے کی ہمت نہیں کرسکے گا۔ کچھ دوستو ں کا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان کی سیاست حافظ سعیدکے بس کی بات نہیں ، میں ان سے اختلاف کروں گا کیونکہ اس وقت حافظ سعیدکے پاس فلاح انسانیت فائونڈیشن کی صورت میں ایک ایسا ملک گیر نیٹ ورک موجود ہے جو پاکستان کے طول وعرض میں ہر جگہ پھیلا ہوا ہے حتیٰ کہ ملک کے ایسے علاقے جہاں کوئی بھی سیاسی پارٹی اپنا وجود نہیں رکھتی وہاں بھی ان کے رضا کار ہر وقت کام کرتے نظر آتے ہیں، ایک نیک نامی اور اعلیٰ مقصد کے ساتھ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved