خادم اعلیٰ کے دعوے وعدے اور جنوبی پنجاب
  6  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

صاحبِ علم نے فرمایا'' دعویٰ شکستِ انا کی دلیل ہوتا ہے '' سوچا کوئی گتھی الجھ گئی ہوگی،سو فرمان جاری کر دیا ،اب آکر یہ جانا کہ دانشور فلسفی نے یونہی نہیں کہا تھا ،آنے والے وقت پر دور اندیش دانشور فلسفی کی نظر تھی کہ مستقبل میں ایسے لوگوں کی حاکمیت ہوگی جو دعوے اور وعدے بہت کرینگے مگر کچھ کر دکھانے کی توفیق سے عاری ہو ں گے۔ ہمارے پینتیس سال سے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف جو ملک کے سب سے بڑے صوبے کے طاقتور حکمران ہیں ،خود اعتماد اتنے کہ اپنے سِوا کسی کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ اُسے کسی صائب مشورے ہی کی اجازت مرحمت فرما دیں،یوں دیکھنے کو وزیروں مشیروں کی فوج ،ظفر موج ،اپنے ارد گرد جمع رکھتے ہیں ،گویا وہ ایسا شاہ ہے جو خود اپنی مصاحبی پر اِتراتا بھی ہے ،لجاتا بھی ہے ۔ خطابت کے فن میں اتنی مہارت کہ اکثرو بیشتر جو کہنا ہو جوش خطابت میں الٹ کہہ جاتے ہیں ،ترقی و خوشحالی کا کوئی ایسا دعویٰ نہیں جو پروان چڑھا ہو ،سِوائے ان منصوبوں کے جو ان کے پیاروں کے لئے منفعت بخش ہوں ،شاہراہیں تو کیا پرائمری اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر نو تک کے ٹھیکے ہونہار پُوت کی سفارش کے بِنا نہیں دیتے،گھر کا مال ،گھر رکھنے کے فلسفے کے قائل ہیں ،کسی اور کو شاد آباد کرنا ہو تو گِرہ اس محتاط طریقے سے کھولتے ہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو ،مگر خبر ایسی نامراد شے کا روپ دھار چکی ہے کہ ڈھل کر تیار بعد میں ہوتی ہے باہر پہلے نکل جاتی ہے ۔ یوں تو ان کی راج دھانی لاہور میں سال کے تین سو پینسٹھ دن چاک کرنے اور رفو کرنے کا بازار گرم رہتا ہے ،ہر سڑک اور ہر گلی میں ان کے خوابوں کی تعبیریں بُنی جارہی ہیں ،ریت کی جگہ مٹی اور سیمنٹ کی جگہ گارے کا چل چلائو ہے ،اور اِدھر جنوبی پنجاب کی اور نظر پڑے تو زبانی کلامی دعوے اوروعدے جو ان کے مستقبل کی شکستوں کے در وا کرسکتے ہیں ،پَر انہیں خبر ہی نہیں کہ سُنی سنائی پر یقین نہیں کرتے ،سب اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو یقین کر پائیں گے ۔ جنوبی پنجاب کے حوالے سے خادم اعلیٰ کے منصوبوں کی درگت بنانے کا اصل فن برادرم خالد مسعود کو آتا ہے ،جن کے لہجے کی کاٹ ''پولی'' مگر درد زیادہ ہوتا ہے ،تبھی تو ان کی بات مقامی انتظامیہ پر اثر رکھتی ہے کہ وہ رسوخ سے کام لینے کا ہنر بھی جانتے ہیں ۔ یہ جنوبی پنجاب ہی تو ہے جس کے مرکزی شہر ملتان کی ترقی و خوشحالی کے دعوے ہَوا میں اُڑا دینے کی رسم اتنی ہی پرانی ہے جتنی مسلم لیگ ن کی حکومت ،ویسے اس معاملے میں یہاں کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کا قصور ہی کچھ زیادہ بنتا ہے کہ وہ اسمبلی فلور پر زبان ہلانے سے گھبراتے ہیں کہ کہیں ان کے ذاتی مفادات کی راہ میں کوئی دیوار کھڑی نہ ہوجائے۔ افسوس ناک امر یہ بھی ہی کہ خادم اعلیٰ کے کچھ دعوے جو دلیل کے محتاج نہیں تھے وہ دلالوں کی بھینٹ چڑھ گئے اور دلالوں کی انا اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ کبھی شکست قبول ہی نہیں کرتی،ان کی انا پر کوئی حکم اثر انداز ہو سکتا توملتان شہر کے سیوریج سسٹم کا معاملہ ایک طویل عرصے سے ہوا میں معلق نہ ہوتا ،شہر کے مختلف علاقوں کے مکینوں کی زندگی عذابِ مسلسل میں گرفتار نہ ہوتی،گلیاں ،ندی نالوں کا روپ نہ دھارے ہوتیں ،شہر کے بیشتر صاف پانی کے اسٹیشنوں پر تالے نہ پڑے ہوتے،جابجا گندگی کے ڈھیروں سے اٹھتا ہوا تعفن بیماریاں نہ پھیلا رہا ہوتا اور تو اور بہائوالدین زکریا یونیورسٹی سازشوں کا گڑھ نہ بنی ہوتی ،سکولز واٹر پلانٹس بند ہونے کے خطرات کی گھنٹیاں نہ بج رہی ہوتیں ،میونسپل کار پوریشن کے ترقیاتی منصوبوں میں کروڑوں کے گھپلوں کے انکشافات نہ ہورہے ہوتے،یونین کونسلوں میں سیکٹریوں کی کمی کی وجہ سے سادہ لوح شہری ذلیل و خوار نہ ہو رہے ہوتے ۔ یہ سب خادم اعلیٰ کے دعوئوں کا کمال ہے کہ وہ جب بھی جنوبی پنجاب کے مرکزی شہر ملتان آئے یا کسی بھی دوسرے شہر ،دعوئوں کے پہاڑ کھڑے کر گئے ،وعدوںکی جھولیاں بھر بھر دے گئے مگر سب تاویلیں تھیں

جو خاک ہوئیں ِ،آٹھ برس پہلے جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور میں گائنی کمپلیکس پراجیکٹ کی منظوری دی گئی ،خادم اعلیٰ نے خود کمپلیکس بنانے کا اعلان کیا ،پراجیکٹ کے لئے جگہ کا انتخاب بھی ہو گیا ،منصوبے کا پی سی ون تک تیار ہوگیا ،لیکن 2009ء سے اب تک کسی بھی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے پراجیکٹ کے لئے فنڈز فراہم نہیں کئے گئے،وفاقی وزیر بلیغ الرحمٰن نے بارہا خادم اعلیٰ کو وعدہ یاد دلایا ،مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفاہوجائے ،یہ پہلی بار نہیں ہوا ،وزیر اعلیٰ پنجاب نے جنوبی پنجاب کے حوالے سے ہر وعدہ محبوب والا کیا اور محبوب کی ازل سے یہ مجبوری رہی ہے وہ کبھی وعدہ نہیں نبھاتا ،قائد اعظم میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال حیران و دل گرفتہ کہ سال ٨١،٧١٠٢ء کے بجٹ میں بھی گائنی کمپلیکس کا پراجیکٹ شامل تھا پر نہ جانے کس کی نظر بد کا شکار ہو گیا۔یہاں سرائیکی صوبے اور ملتان سکریٹیریٹ کا وعدہ اور دعویٰ یاد دلانے سے صرف نظر جان بوجھ کر کیا ہے یہ جنوبی پنجاب والوں کے دیرینہ زخم ہیں جنہیں کریدنا اچھا نہیں لگا کہ یہ زخم جب ہرے ہوتے ہیں تو گِلوں شکووں کے دفتر کھل جاتے ہیں یوں بھی اظہاریئے کا دامن اتنا وسیع نہیں ہوتا کہ سب کے درد کا درماں بن جائے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved