امریکی زہر فشانی سے بازنہ آئے
  6  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭عیاری، مکاری، منافقت! امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے پاکستانی وزیراعظم اور وفدکے ساتھ بات چیت کا آغاز شہد بھرے انداز میں اور اختتام زہربھرے انداز میں کیا۔ پہلے کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرتاہے اور پھر کہہ دیا کہ پاکستان نے اب تک جوکوششیں کی ہیں ، اب انہیں دوگنا کرناہوگا۔ یعنی پاکستان کے دہشت گردی کے ہاتھوں جو70ہزار فوجی اور شہری شہید اور بے شمار زخمی ہو ئے ہیں، ان تعداد دوگنا کردی جائے! یہی نہیں ، یہ شخص پاکستان میں اترا ہی تھا تو واشنگٹن سے سی آئی اے کے چیف مائیک پییؤ کا بیان نازل ہوا کہ پاکستان نے اپنے ہاںموجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو امریکہ خود کارروائی کرے گا! سانپ کوکتنا ہی دودھ پلاؤ وہ ڈسنے سے باز نہیںآئے گا۔ مذاکرات کے دوران پاکستان کے وزیراعظم اور وزیرخارجہ خواجہ آصف نے صاف گوئی سے کہا کہ پاکستان نے جتنا کرناتھا کر لیا اب مزید کی گنجائش نہیں مگر اصل کھری کھری جنرل باجوہ نے سنائیں کہ ہم نے جو کرنا تھا کر لیا،پاکستان میں دہشت گردی کاکوئی اڈا باقی نہیں مگر یہ جو افغانستان سے بھارت پاکستان میں دہشت گرد بھیج رہاہے، جو کچھ بلوچستان میں کر رہاہے، وہ تمہیں کیوں نظر نہیںآرہا؟ پاکستان سے مزید کارروائی کا مطالبہ کرنے کی بجائے بھارت کو پاکستان میں دہشت گردی سے روکو! اس پر امریکی ذرائع کا تبصرہ آ یاکہ افسوس! پاکستان کارویہ نہیں بدلا! ٭دنیا بھر میں زندہ قومیں اپنے عظیم رہنماؤں اور مشاہیر کے دن یاد رکھتی ہیں اور ان کا احترام کرتی ہیں۔ دسمبر کا مہینہ پیپلز پارٹی کے لیے سوگ کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کی 27تاریخ کو پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو دہشت گردی کا نشانہ بنیں! اس سانحہ کو یاد رکھنے کی بجائے پیپلز پارٹی نے50 سالہ یوم تاسیس کے نام پر گزشتہ رات آتش بازی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس میں پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول زرداری نے بھی شرکت کی۔ مزید یہ کہ پارٹی کے کسی رکن کو تاریخ پڑھنے کی توفیق ہوتی تو جلسہ کے لیے5دسمبر کی بجائے کوئی دوسری تاریخ رکھ لیتے کہ 5دسمبر ملک کے ایک نامور وزیراعظم حسین شہید سہروردی کی برسی(1963ئ) کا دن ہے! ویسے زرداری خاندان کا پیپلز پارٹی سے جو تعلق رہا ہے وہ بس اتنا ہے کہ1970ء میں آصف زرداری کے والد حاکم علی زرداری نے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور کامیاب نہ ہونے پر پیپلز پارٹی کوچھوڑ کر نیشنل عوامی پارٹی (بعدمیں عوامی نیشنل پارٹی) میں شرکت اختیار کرلی۔ انہیں اس پارٹی کی نائب صدارت مل گئی جو آخر تک برقراررہی۔ خود آصف زرداری کا بے نظیر بھٹو سے شادی تک پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بعد میں بھی ایک عرصہ کے بعد اس کی رکنیت اختیار کی۔ موصوف نے اپنی اولاد کے ناموںکے ساتھ زرداری کی بجائے بھٹو کا لفظ لگا دیا! دنیا بھر میں کبھی اس طرح خاندان اور ولدیت تبدیل نہیں ہوتی مگر یہاں یہ بھی ہوا !اور پھر پارٹی کے سوگ کے مہینے میں آتش بازی!! ٭29سالہ بلاول زرداری نے اپنے والد کی عمر (65 سال) سے بھی تین سال زیادہ(68 سال)عمر والے نوازشریف کو طعنہ نما مشورہ دیا ہے کہ وہ اب سیاست ترک کردیں! ظاہر ہے بلاول جیسے 'عالمی شہرت والے بڑے سیاست دان' کے سامنے نوازشریف اور دوسرے بزرگ سیاست دانوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے!! کل بھی لکھاتھا کہ برخوردار کو کسی سیاسی و اخلاقی تربیت کے بغیر ہی پارٹی کی سربراہی ہاتھ آگئی ہے۔ اسے کسی نے بتایا ہی نہیں کہ سیاسیات میں اخلاقیات کو اوّلین حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ مگر جہاںعمران خاں جیسا بڑی عمر کا سیاست دان کنٹینر پر کھڑے ہوکر ''اوئے فُلاں، اوئے فُلاں ''کے الفاظ سے مخاطب ہوگا۔ وہاں جمعہ جمعہ آٹھ دن کی سیاست والا بلاول بھی یہی انداز سیکھے گا تو اس پر حیرت کیسی ؟حیرت تو اب نوازشریف اور مریم نواز کی طرف سے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو کھلے عام گالی نمادھمکیوں سے بھی نہیں ہورہی کہ اب گالم گلوچ، بدزبانی ہی سیاست کی بنیاد بن گئی ہے۔ ٭عظیم ملک کی بدنصیب قوم کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ ہر شعبہ کرپٹ،ہرحلقہ داغ دار! نمایاں خبر ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے پسرور جنڈیالہ روڈپر دو مرغی خانوں پر چھاپہ مار کر30ہزار گندے انڈے پکڑلئے۔ یہ انڈے بیکریوں میں کیک وغیرہ بنانے کے لیے استعمال کیے جارہے تھے۔ استغفار! لاہورمیں بھی ایسی ہی بڑی تعداد میں گندے انڈے پکڑے جاچکے ہیں۔ یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ ان لوگوں کو کوئی خدا کا خوف، کوئی روز حشر کا ڈر! کچھ نہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مختصر عرصے میں ایسے بے شمار کیس پکڑے ہیں۔ جعلی دودھ، جعلی کیچپ، زہریلے مربے اور چٹنیاں اور پھر گندے پانی میں سبزیوں کی کاشت ! پنجاب فوڈ اتھارٹی قابل تحسین کام کررہی ہے۔ خدا کرے کہ پہلے پہل ایسی کارکردگی دکھانے والے دوسرے شعبوں کی طرح یہ شعبہ بھی آگے جا کرمُک مُکا پر نہ اترآئے! مُک مُکا کی لعنت کو تو جنرل پرویز مشرف این آر او کی حد تک لے گیا تھا۔اب کہہ رہاہے کہ اس نے غلط کام کیا تھا!! ٭وفاقی حکومت کی طرف سے بڑے زور وشور کے ساتھ اعلان ہوا کہ ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کردی گئی ہے۔ مجھ سے سہو ہوگئی کہ حکومت کے اس اعلان پر نیک نیتی کے ساتھ اعتبار کرلیا اور حکومت کے لیے اظہار تحسین کردیا۔ اس پر کچھ قارئین بھڑک اٹھے ہیں کہ یہ بالکل غلط اعلان تھا اس کی تعریف کیوں کی؟ میں اپنی سہوکو تسلیم کرکے اپنی نیک نیتی واپس لے رہا ہوں۔ قارئین کے پیغامات پڑھئے:

٭بنوں سے عاطف (0346-9293638) ۔ جناب والا! افسوس کہ آپ آج تک حکومت کے دعوؤں کو نہیں جان سکے! آ پ نے لوڈشیڈنگ کے خاتمہ پر حکومت کو داد د ی ہے۔ اس بارے میں پہلے ملک کے باشندوں سے تو پوچھ لیتے۔ ہمارے بنوں شہر میں 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے توگاؤں والوں کا کیا حال ہوگا۔ بے ادبی کی معذرت! ٭وادی سمہانی پونا آزاد کشمیر سے سابق نائب صوبیدار محمدرفیق(0346-8244203)۔پونا کے لوگوں کوپہلے سے بھی زیادہ لوڈشیڈنگ کا سامنا کرناپڑ رہاہے۔ بجلی آزاد کشمیر میں پیدا ہوتی ہے اور کشمیر کے لوگ اندھیرے میں رہ رہے ہیں۔ یہ ہمارے ساتھ صریح زیادتی ہے۔ ٭فرقان الحقNAKKI،(0306-8983667) منگلا میر پور آزاد کشمیر:''میر پور آزاد کشمیر کے گاؤں NAKKI میں بجلی کی لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی ہے۔ ہم لوگ باقاعدگی سے بل جمع کراتے ہیں۔ کیا واقعی لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ہے؟ ٭گزشتہ روز بنوں سے فہیم اللہ خاں (0333-6063645) کی شکائت شائع ہوچکی ہے کہ منڈان( بنوں) فیڈرمیں تین تین دن بجلی نہیںآتی اور24گھنٹے سے پھر بند ہے۔ایسی اور بھی شکایات براہ راست فون پر ملی ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved