تم کتنے بھٹو مارو گے۔۔۔
  7  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار دنوں کی بات نہیں ، پیپلز پارٹی جس نے اپنے آغاز میں ہی عوام کے دلوں میں گھر کرلیا تھا وہ آج لوگوں میں کیوں مقبول نہیں ؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیت تھی جس نے ایک نظریے کو ملک کی سب سے بڑی پارٹی بنا دیاتھا۔ بھٹو اس وقت کی سیاست میں نو آ موز نہیں تھے انہوں نے بطور وزیرخارجہ بہت اہم ذمہ داریاں سر انجام دی تھیں اور جب پینسٹھ کی جنگ کے بعد ملک کے حالات بہت ہی دگرگوں ہوچکے تھے توانہوںنے اپنے سوشلسٹ نظریات اور نوجوانوں کی مدد سے ایک ایسی جماعت کی بنیاد رکھی جس نے پاکستان میں نظریات اور مزاحمت کی سیاست میں ایک علیحدہ مقام پیدا کیا۔ صرف یہی نہیں بھٹو اور پھر ان کے بعد ان کی پارٹی نے ہمیشہ اپنے نظریات کے لیے قربانیاں دیں۔بھٹو نے ملک میں تبدیلی کا نعرہ لگا کراس سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی تھی جو گے چل کر مزاحمت کی سیاست کی مثال بنی اور پھر اس کو مفاہمت کا زنگ لگ گیا جس کے باعث پیپلز پارٹی جیسی وفاقی جماعت محدود ہوکر آج ایک علاقائی جماعت بن کررہ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اسلام آباد میں اچھا شو کیا مگر پنجاب جیسے بڑے صوبے میں قمر الزمان کائرہ ، چودھری منظور اور عثمان سلیم ملک ہی کیوں متحرک نظر آتے ہیں؟دودھ پینے والے مجنوں کہا ں ہیں؟ آج بھٹو کی تیسری نسل اس کی قیادت سنبھال چکی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عظیم الشان ماضی کی حامل اس جماعت میں کسی صورت بھی اس کے ماضی کا پرتو نہیں ملتا۔بھٹو کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس پارٹی کو سنبھالا او رقربانیوںکی ایک اور داستان رقم کی لیکن ان کے بعد اس پارٹی کی قیادت آصف علی زرداری کے پاس اس طرح آگئی کہ ان کے بیٹے چیئرمین اور وہ شریک چیئرمین بنے۔ آصف زرداری پاکستان میں جوڑ توڑ کی سیاست کے بے تاج بادشاہ ہیں اور انہوں نے انتہائی اچھے طریقے سے پارٹی کا گزشتہ دور حکومت پورا کیا اور اپنے وزیر اعظم کی قربانی دے کر بھی انہوں نے اپنی صدارت پر کوئی حرف نہیں آنے دیا۔ اب بلاول بھٹو نے پارٹی قیادت کا بیڑہ اٹھایا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ کوئی ایسا نظریہ پیش کرسکیں گے جس کی بدولت عوام کا بھرپور ساتھ ان کے ساتھ رہے اور وہ ایک دفعہ پھر سے پیپلز پارٹی کو پاکستان کے وفاق کی نمائمندہ جماعت بنا سکیں۔

کیا اب یہ ممکن ہے کہ صرف بھٹو کے نا م پر سیاست کی جاتی رہے اور عوام کو بار بار ووٹ کے لیے آمادہ کیا جاسکے تو اس لحاظ سے اب پارٹی کو اپنی روش بدلنی ہوگی کیونکہ اب ملک کے عوام میں ایک شعور پیدا ہوچکا ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ پیپلز پارٹی اپنا کردار ادا کرے لیکن اپنی کارکردگی اور عوامی خدمت کے ذریعے، نہ کہ بھٹو کے نام سے فائدہ اٹھا کر،اور اس کے لیے ضروری ہے کہ پارٹی میں جو بظاہر دو دھڑے بن چکے ہیں ایک جو کہ بھٹو کے ماننے والے ہیں اور دوسرے وہ جو زرداری کا ساتھ نبھانے والے ہیں ،وہ مل بیٹھ کر ایک ایسا لائحہ عمل بنائیں کہ پیپلزپارٹی کو ایک خاندانی نظام سے نکال کر حقیقت میں عوام کی پارٹی بنائیں جبکہ بلاول بھٹو کو بھی اپنی ناتجربہ کاری اور بھٹو کے نام کے استعمال کی بجائے عوام کے دلوں میں گھر کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ح??قیقت تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ملک کی ایک اہم جماعت ہے اور اس کا نقصان ملک کا اور اس سیاسی نظام کا نقصان ہے۔گزشتہ دنوں بلاول بھٹو نے بیان دیا کہ وہ اپنے نانا اور والدہ کے نقش قدم پر چلیں گے ، اگر وہ ایسا کر پائیں تو امید کی جاسکتی ہے کہ ایک دفعہ پھر پیپلز پارٹی عوام کے دلوں میں گھر کر لے گی لیکن دوسری طرف لوگوں کا خیال ہے کہ اب یہ ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ایک تو پیپلزپارٹی کی قیادت میں وہ کرشماتی صلاحیت نہیں ہے جس کی بدولت بھٹو نے اس پارٹی کوعوام کی پارٹی بنایا بلکہ یہ کہا جائے کہ عوام کی خواہشات کو ایک پارٹی کا رنگ دیا جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کا جیالا آج بھی اس پارٹی کیساتھ ہے۔،یہ بھٹوازم اور بھٹو کی محبت ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو نے بہت سی قربانیاں دے کر بھٹو کی اس کرشماتی لیڈرشپ کو ایک نئی جہت عطا کی ، انہوں نے بہت سی غلطیاں کی ہوں گی مگر انہوں نے بھٹو کی لیگیسی کو آگے چلایا اور پیپلز پارٹی کی بکھری ہوئی قیادت کو یکجا کرکے ایک دفعہ پھر اس پارٹی کو اقتدار دلوایا۔محترمہ وقت کے ساتھ ساتھ ملک کی ایک انتہائی ویڑنری لیڈر بن چکی تھیں اور اپنے والد کی طرح وہ بھی عوام کے دلوں میں گھر کرچکی تھیں ان کی عوام میں پذیرائی کی اس سے زیادہ کیا مثال دی جاسکتی ہے کہ ان کی شہادت کے بعد پورے ملک سے عوام نے ان کی جماعت کو ووٹ دے کر کامیاب کروایا اور پیپلزپارٹی کو ایک موقع بہم پہنچایا کہ یہ جماعت عوام کی خدمت کرسکے لیکن پتہ نہیں قیادت کی تبدیلی کے ساتھ پارٹی میں زرداری دور حکومت میں ایسے معاملات کیوں پیدا ہوگئے کہ وہ جماعت جو اپنے نظریے اور اپنی مزاحمت کی وجہ سے مشہور تھی مفاہمت کے نام پر سیاست کرتے کرتے صرف سندھ تک محدود ہوکررہ گئی ہے۔اس وقت ملک میں بھٹو کی سوچ کو دوبارہ زندہ کرنے اور اسے موجودہ حالات اور عوامی امنگوں کے مطابق ڈھالنے کی بھی ضرورت ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بلاول بھٹو اور دوسری قیادت محترمہ کے نقش قدم پر چلیں جنہوں نے نہ صرف اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھایا بلکہ ایک متبادل قیادت کے طور پر خود کو منوایا تھا، ورنہ تم کتنے بھٹو مارو گے۔۔۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved