امریکی وزیر دفاع کا دور ہ پاکستان
  7  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

امریکی سیکریڑی برائے دفاعی امور جیمز میٹس نے پاکستان کا ایک روزہ دورہ کیا ہے، پاکستان میں اپنے قیام کے دوران انہوںنے وزیراعظم جناب شاہد خاقان عباسی کے علاوہ آر می چیف جناب قمر باجوہ سے بھی ملاقات کی اور افغان پاکستان تعلقات سے متعلق تفصیلی بات چیت کرتے ہوئے پاکستان سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششوںکو دوگنا کردے، حالانکہ انہوںنے اس حقیقت کو تسلیم بھی کیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ کی حیثیت سے اچھا کام انجام دیا ہے، انہوںنے پاکستان کی افواج کی تعریف کی اور کہا کہ یہ دنیا کی چند بہترین افواج میں سے ایک ہے، شاہد خاقان عباسی نے امریکی وزیر دفاع کو بتا یا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے روائتی تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے اپنے حصے کا کردار بخوبی ادا کیا ہے، اور آئندہ بھی کرے گا، وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت کو اس حقیقت کا احساس نہیں ہے ، بھارت باقاعدہ افغان حکومت کے تعاون سے پاکستان کے علاقوں میں دہشت گردانہ کاروائیوں کی حوصلہ افزائی کررہاہے، حا ل ہی میں زرعی تحقیقاتی یونی ورسٹی پشاور میں ہونے والا حملہ افغانستان سے کیا گیا تھا، ہر چند کہ وزیردفاع نے پاکستان کے ذمہ داروں کو یقین دلایا کہ وہ افغانستان میں بھارت کے''کردار'' کا جائزہ لیں گے، تاہم میں نہیں سمجھتا ہوں کہ امریکی حکومت افغانستان میں بھارت کے علاوہ دیگر دہشت گرد تنظیموں مثلاً داعش، تحریک طالبان پاکستان اور تحریک احرارکو روک سکے گی، بلکہ نا قابل تردید حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے اکسانے اور شہہ پر بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کو استعمال کررہاہے، آرمی پبلک اسکول میں ہونے والا ہولناک دہشت گردی کا حملہ بھی بھارت اور افغان حکومت کے گٹھ جوڑ سے وقوع پزیر ہوا تھا، امریکہ کو اس حقیقت کا ادراک ہے،ساری دنیا نے اس واقعہ کی مذمت کی تھی،

لیکن پاکستان امریکی تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکہ کا طرز عمل ہے، ایک طرف تو وہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کا اعتراف کرتاہے، تو دوسری طرف وہ پاکستان سے '' ڈومور'' کا مطالبہ بھی کررہاہے، پاکستان کی بہادر افواج نے جسطرح پاکستان کے اندر دہشت گردوں کا صفایا کیا ہے وہ جدید تاریخ کا ایک روشن ترین باب بن چکاہے، تاہم اگر امریکہ یہ چاہتا ہے کہ پاکستان ماضی کی طرح افغانستان کے اندر افغان طالبان کے خلاف امریکی فوج کے ساتھ شانہ بہ شانہ لڑے، یہ ممکن نہیں ہے، اور نہ ہی پاکستان کے مفاد میں ہے، پاکستان نے اپنی اس پوزیشن کی بڑے استدلال کے ساتھ امریکی وزیردفاع کے سامنے رکھ دی ہے، اور پھر کہا ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے موجود نہیں ہیں، دراصل امریکہ افغانستان میں ہونے والی جنگ ہار تاہوا نظر آرہاہے، اسوقت افغان حکومت صرف 55%علاقے پر اپنا کنٹرول رکھتی ہے، جبکہ 45%فیصد علاقہ افغان طالبان کے پاس ہے، یا پھر کسی کے پاس نہیں ہے، افغانستان کے ان خالی علاقوں میں داعش ، تحریک طالبان پاکستان اور بھارت کی ''را'' کا راج ہے ، یہ خطرناک خفیہ ادارے پاکستان کے خلاف ایک ایجنڈے کے مطابق حملہ کرتے ہیں، پاکستان کو معاشی طورپر عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں انہیں فی الحال کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے، چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ بھارت کو افغانستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں سے روک سکے گا؟اگر امریکی قیادت خلوص دل سے افغانستان میں بھارت کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کو روک لیتا ہے تو افغانستان میں امن کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں، ورنہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں آسکے گی، امریکہ کی مزید پانچ ہزار فوج افغانستان میں افغان طالبان کے خلاف کسی قسم کی فتح حاصل نہیں کرسکیں گی، افغانستان کے مسئلہ کا واحد حل جیسا کہ امریکی وزیردفاع کو بتایا گیاہے ، افغان طالبان کے ساتھ سیاسی مذاکرات میں مضمر میں ہیں، اگر امریکہ افغان طالبان کو پاکستان کی مدد سے سیاسی بات چیت کرنے کے لئے راضی کرلیتاہے تو اسکے اچھے نتائج نکل سکتے ہیں،ماضی میں پاکستان نے کئی مرتبہ افغان طالبان اور امریکی نمائندوں کے مابین مزاکرات کرائے تھے، لیکن امریکہ کی جانب سے ان مزاکرات کے سلسلے میں کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا جسکی وجہ سے افغانستان میں حالات نہ توٹھیک ہوسکے ہیں بلکہ وہاں دہشت گردی کے المناک اور افسوسناک واقعات میں مزید اضافہ ہورہاہے، امریکہ افغانستان میں اپنی سفارتی اور فوجی کوششوں کے باوجود ناکام اس لئے ہے کہ وہ بھارت سمیت ان طاقتوں کو پاکستان کے خلاف کاروائیاں رکوانے میں ناکام نظر آرہاہے، چنانچہ ان مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہتاہے، دہشت گردوں کے خلاف پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ جائز نہیں ہے، بلکہ اس قسم کا مطالبہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں خرابی کا سبب بن سکتاہے، بلکہ بن چکا ہے، نیز اگر امریکہ نے یکطرفہ طورپر پاکستان کے بعض علاقوں میں کسی بھی قسم کی فوجی کاروائی کرنے کی کوشش کی (جیساکہ حال میں سی آئی اے کے سربراہ نے کہاہے) تو اسکے نتائج دونوں ملکوں کے لئے اچھے ثابت نہیں ہونگے، بلکہ اس خطے میں تلخی میں مزید اضافہ ہوسکتاہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved