کوئی ہے جو کہ ان کی فریاد سنے؟
  7  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اس وقت جنگی جرائم کے ٹرائل کا مطالبہ ہر طرف سے زور پکڑ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ سوئس جوڈیشل اتھارٹیز کے سامنے رفعت الاسد پر جنگی جرائم کی پاداش میں مقدمہ چلایا گیا۔ رفعت الاسد شام کے صدر بشارالاسد کے چچا اور حافظ الاسد مرحوم کے بھائی ہیں۔ ان پر ٠٨٩١ء میں تدمرجیل اور٢٨٩١ء میں حمہ میں قتل عام کا الزام ہے۔ یو این کمیشن برائے شام اور ایمنسٹی ان پر جنگی جرائم کی پاداش میں مقدمہ چلانے میں فریق ہیں۔ اب اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے داعش کے خلاف متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں اس پر نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزامات کا ثبوت حاصل کرنے کا کہا گیا ہے لیکن کیاداعش کی تشکیل کرنے والوں کوعدالت کے کٹہرے میں لایاجا سکتاہے؟ جبکہ سابقہ امریکی سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن نے میڈیامیں اپنے کئی انٹرویوزاوراپنی کتاب میں "داعش"کی تشکیل کااعتراف کیاہے۔ دنیا کے دیگر انسانوں کی طرح میں بھی انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات اور ان کا ارتکاب کرنے والوں کو ٹرائل کا سامنا کرتے دیکھنا چاہتا ہوں، لیکن اس دوران میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ قدرے توازن قائم ہو جائے تو بہتر ہے۔ جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والوں نے بوسنیا کی جنگ کے بعد الزامات کا دائرہ پھیلا دیا، اس کے نتیجے میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے سرب مجرموں کے ساتھ ساتھ بوسنیا اور کروشیا کے دیگرمجرم بھی ہیگ عدالت کے کٹہرے میں کھڑے دکھائی دیے۔ مجھے یادہے کہ میڈیامیں برملااس شک کااظہارکیاجاتاتھا کہ میلاسویک (Milosevic) کو کبھی بھی عدالت میں نہیں لے جایاجاسکے گا۔ تاہم ایک پولیس افسر کا کہنا تھا: ہم اسے پکڑکر ہیگ عدالت کے سامنے پیش کریں گیاور وہ پولیس افسر درست تھا اور میڈیا میں الزام لگانے والے غلط نکلے لیکن وہ جیل میں ہی مر گیا(ہیگ عدالت کے بہت سے دیگر ملزمان کی طرح، جو فیصلہ سنائے جانے سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہوگئے) تاہم اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کہا گیا کہ آپ جنگی جرائم کا ارتکاب کرکے بچ نہیں سکتے۔ صدام حسین بھی نہیں بچ سکااگرچہ ان کا ٹرائل ایک مضحکہ خیز ڈرامے بازی تھی۔ لبرل یورپ کی طرف سے کوئی احتجاج دیکھنے میں نہ آیاجب صدام حسین کو توہین آمیز طریقے سے سزا دی گئی جبکہ اس کے سیاسی مخالفین جشن منا رہے تھے۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ صدام حسین کو سنائی جانے والی سزا ہیگ کے معیار سے شرمناک حد تک برعکس تھی۔ کردوں کو گیس سے ہلاک کرنے کا ذکر تک نہ کیا گیا، کئی سال پہلے اپنے مسلکی حریف شیعوں کو ہلاک کرنے کی پاداش میں سزا سنائی گئی۔ اس طرح ہیگ نے پوری کوشش کرتے ہوئے اس ٹرائل کو مسلکی رنگ دے دیا،اس پر کرد ششدر ہیں۔ مجھے شک ہے کہ اگر داعش کا اصل لیڈر گرفتار ہوگیا تو اس پر بھی ایسا ہی مقدمہ چلے گا؟ میں تصور کرسکتا ہوں کہ اگر اسے کبھی کٹہر ے میں کھڑا کرنے کی نوبت آئی تو اس سے کم ازکم یہ سوال ہر گز نہیں پوچھا جائے گا کہ اس نے وہ جدید ہتھیار کہاں سے حاصل کیے تھے جن سے اس کے جنگجوئوں نے شام اور عراق میں خون کی ہولی کھیلی اوراب افغانستان میں اپنے دانت تیزکررہے ہیں؟ جب ڈیوڈ کیمرون نے دہشت گردوں کی فنڈنگ کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن بنایا تو ہماری نیک سیرت ٹریسامے نے اس کی رپورٹ کو خفیہ رکھا تاکہ ان کی ایک دوست اہم ریاست کو شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کیااس کی تشکیل کرنے والے اورفنڈنگ کرنے والے اصل مجرم نہیں جو انتہا پسندوں کو ہتھیار خریدنے کیلئے رقم فراہم کرتے ہیں؟ مجھے ایک مرتبہ ہیگ کے ایک افسر نے فون پرمجھے کہا کہ ایک سرب کمانڈر جو ایک عقوبت خانے کا نگران تھا کے خلاف ثبوت فراہم کروں۔میں نے کہاوہ میری شائع شدہ رپورٹ کو مقدمے کی کارروائی کیلئے استعمال کرسکتا ہے، لیکن میں بذاتِ خود گواہی کیلئے پیش نہیں ہوں گاکیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ جنگ کے دوران رپورٹر کانام افشاء کرکے ایک جاسوس کا کردار ادا کرنے لگ جائیں۔ مجھے دھمکی دی گئی کہ عدالت کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کی بنا پر مجھے گرفتار کیا جاسکتا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ میں ہیگ کا احترام کرتا ہوں اور اس کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ عدالت مشرق وسطیٰ کے جنگی مجرموں کا ٹرائل بھی کرے۔ میں نے سربیا ،چنالیا اورغزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کا بھی ذکر کیا۔ میں نے یہ بھی استفسار کیا کہ کیا لبنانی کرسچین ملیشیا کو بھی گرفتار کیا جائے گا جنہوں نے ٢٨٩١ء میں٠٠٧١ فلسطینی مردوں، عورتوں اور بچوں کو بے دردی سے قتل کیا تھا؟ بلکہ اس سے بھی اہم، کیا انہیں قتل عام کی کھلی چھٹی دینے والے اس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع ایریل شیرون(جو بعد میں وزیراعظم بھی بنے)کو بھی گرفتار کرکے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا؟ایک لاکھ سے زائدبے گناہ کشمیریوں کوشہید اورسینکڑوں کشمیریوں کوپیلٹ گن سے بصارت سے محروم کرنے والی بھارتی سیکورٹی فورسزاورفوج کے طویل جرائم کاذکرکرتے ہوئے نریندرمودی کوبھی عدالت کے کٹہرے میں لانے کابھی مطالبہ کیا۔قارئین کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مجھے دوبارہ اس افسر کی فون کال وصول نہیں ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل اگر کچھ افراد یا جماعتیں ایسے کام کرتی تھیں جو تسلیم شدہ بین الاقوامی قانونِ جنگ کے منافی ہوں تو وہ جنگی جرائم تصور ہوتے تھے۔ مثلا ًمقبوضہ ممالک کے باشندوں یا غیر لڑاکا فوجیوں کا جنگی سرگرمیوں میں ملوث ہونا۔ عارضی صلح ہو جانے کی صورت میں بھی قتل و غارت گری اور متشددانہ کارروائیاں جاری رکھنا یا صلح کے سفیروں پر گولی چلانا جنگی جرائم کے ذیل میں آتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی جنگی ٹریبونل نے جارحانہ جنگ کے منصوبے باندھنا، شہری آبادی کو قتل کرنا، اس سے بدسلوکی کرنا یا غلامانہ مزدوری کرانے کیلئے لوگوں کو دوسرے ملک میں لے جانا بھی جنگی جرائم میں شامل کردیے۔وہ افراد جو جنگی جرائم کا مطالبہ کرتے نہیں تھکتے وہ بھی دراصل من پسند ٹرائل چاہتے ہیں۔ وہ ہر گز نہیں چاہتے کہ تمام مجرموں کو بلاتخصیص گرفتار کرکے کٹہرے میں کھڑا کردیا جائے۔ (جاری ہے)

خواہ ان پر کوئی الزام ہو یا نہ ہو۔وہ ان طاقتور حلقوں کی تادیب نہیں چاہتے جن سے انہیں فنڈز ملتے ہیں یا جو ان سے ہتھیار خریدتے ہیں یا یو این کے بل ادا کرتے ہیں۔مثال کے طور پر یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ رفعت الاسد کئی عشروں سے یورپ میں رہ رہے تھے۔ ان پر اس وقت سے ہی حمہ میں شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام تھا تاہم وہ لندن میں پرتعیش زندگی بسر کرتے رہے۔ یہی نہیں دنیا کے بیشتر ملکوں کے حکمران جو اپنے اپنے ممالک کے خلاف سنگین جرائم کے مرتکب ہیں لندن میں نہ صرف ان کی عظیم الشان جائیدادیں ہیں بلکہ وہ یہاں بھی شاہانہ زندگی ہی گزارتے ہیں؟ ان میں غالباً دنیا کے ہر براعظم کے حکمران شامل ہیں۔ میں نے اس وقت بھی یہ سوال اٹھایا تھا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کئی برس سے برطانیہ میں پرسکون زندگی گزارنے والے رفعت الاسد کی طرف کیوں نہیں دیکھتی، آخر اس میں کیا چیز حائل ہے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved