چاہ بہاراور پیاری بابری مسجد
  7  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے صرف سو کلو میٹر دور ایران نے چاہ بہار میں مکمل ہونے والی نئی شہید بہشتی نامی بندرگاہ...مسلمانوں کے بدنام زمانہ قاتل نریندر مودی کے بھارت کے حوالے کر دی۔ ویسے تو ایران اپنے مفادات کے تحت بھارت سمیت کسی بھی ملک سے تجارتی روابطہ بڑھانے کا حق رکھتا ہے... لیکن ''شہید بہشتی'' بندرگاہ بہرحال ایک خوبصورت نام ہے... اسے بھارت جیسے مسلمانوں کے دشمن ملک کے حوالے کرنا... اپنی جگہ اک سوالیہ نشان ضرور ہے۔ بھارت صرف کشمیر یا ہندوستان کے مسلمانوں کا ہی نہیں... بلکہ پاکستان کا بھی ازلی دشمن ہے اور اب تو بھارت کو امریکہ بہادر نے اپنی گود میں بٹھا رکھا ہے... ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ چاہ بہار پورٹ میں شہید بہشتی بندرگاہ بھارت کو دینے کا مطلب پاکستانی بندرگاہ ''گوادر'' کو ہدف بنانا ہے۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے اتوار کے دن افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے... اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا مقصد پاکستان کی بندرگاہ گوادر کو ہدف بنانا نہیں... بلکہ نئی بندرگاہ سے علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اللہ کرے کہ جناب حسن روحانی نے جیسا فرمایا ہے ویسا ہی ہو... مگر کیا بھارت کے تلوں میں بھی تیل ہے؟ کیا بھارت' ایرانی صدر کے کہے ہوئے ان الفاظ کی لاج رکھنے کے لئے تیار ہوگا؟ دنیا جانتی ہے کہ امریکہ اور بھارت سی پیک منصوبے کے کٹر مخالف اور دشمن ہیں... اور یہ بھی کہ یہ بندرگاہ بھارت کی تجارتی راہیں افغانستان تک کھولنے میں ترپ کا پتہ ثابت ہوگی... بتایا جاتا ہے کہ 34کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری سے تعمیر ہونے والی اس بندرگاہ کے منصوبے میں بھارت نے نہ صرف مالی تعاون بلکہ دیگر معاملات میں بھی اہم اور نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ گوادر بندرگاہ کی تعمیر و ترقی میں چین کی دلچسپی بھارت اور امریکہ کو ایک آنکھ نہ بھائی' چنانچہ انہوں نے ...ایران کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیاء تک اپنی رسائی کی خاطر بہشتی بندرگاہ کی توسیع کے لئے 50کروڑ ڈالر کا معاہدہ کیا... جو یقینا ایران کے بھی مفاد میں ہے... لیکن بھارت اس منصوبے سے فائدہ اٹھا کر ... پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو مہمیز دینے سے باز نہیں آئے گا... ایران پاکستان کا پڑوسی اور برادر ملک ہے... بھارت کے ساتھ تجارتی روابط بڑھاتے ہوئے اسے اس بات کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے کہ ... بھارت اگر منہ سے رام' رام کرتا ہے... تو بغل میں چھری بھی رکھنے کا عادی ہے... یہ نہ ہو کہ ایران دیکھتا ہی رہ جائے اور بھارت چھری ایرانی کمر میں گھونپ کر ... رام' رام کرتے ہوئے نو' دو گیارہ ہو جائے۔ اب آتے ہیں دوسرے موضوع کی طرف ... 25سال قبل وہ 6دسمبر ہی کا سیاہ دن تھا کہ ... جب بھارت کے شیطان صفت ہندوئوں نے ایودھیا میں مسلمان کی تاریخی بابری مسجد پر حملہ کرکے... اسے شہید کر ڈالا تھا... بھارت کے پلید ہندوئوں کے اس خوفناک ظلم کو... ممکن ہے کہ شریف برادران... اور سیاست دان بھول گئے ہوں... لیکن ہندوستان اور پاکستان کے مسلمان... آج تک نہیں بھولے اور نہ ہی ان شاء اللہ کبھی بھولیں گے۔ ''بابری مسجد'' شہادت کا جام نوش کرکے قربانی دینے میں تو پہل کر گئی... مگر بھارت کے ظالم ہندو بھی... اپنی اس دہشت گردی کا مزہ ضرور چکھتے رہیں گے... ''بابری مسجد'' بیت اللہ کی بیٹی ہے... اور بیت اللہ... اللہ کا وہ گھر ہے کہ جس کی تعمیر انبیاء کے مقدس ہاتھوں سے ہوئی تھی ...بابری مسجد کی توہین' شہادت اور وہاں زبردستی مندر بنانے کی کوششیں بھارت کی بنیادیں کھودنے کے مترادف ہے... 25سال گزر گئے ان 25سالوں میں بھارت میں کبھی کانگرس اور کبھی بی جے پی حکمران رہی...مگر ایودھیا کے مسلمانوں کی اشک شوئی کرنے کے لئے کوئی بھی تیار نہ ہوا' یہاں تک کہ بھارتی عدالتیں بھی مسلمانوں کے خلاف کمین گاہوں کا کردار ادا کرنے لگیں۔ سیکولر ازم کے دعویدار بھارتی شیطانوں نے ...ایل کے ایڈوانی' بال ٹھاکرے' ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کی قیادت اور آشیرباد سے ... بھارتی فوج اور ایودھیا پولیس کی زیر نگرانی... بیت اللہ کی بیٹی بابری مسجد کو انتہائی ظالمانہ انداز میں شہید کر دیا... بات' بات پر پاکستانی مسلمانوں کو ... اقلیتوں کے حقوق کا سبق پڑھانے والے ... امریکہ اور دیگر عالمی شیطان شدت پسند ہندوئوں کی یہ دہشت گردی کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھتے رہے مگر ان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ 25سال ہوگئے... ایودھیا اور ہندوستان کے مسلمانوں... بابری مسجد کی شہادت پر آنسو بہاتے ہوئے... 25سالوں سے ایودھیا کے مسلمان ہر سال 6دسمبر کو بابری مسجد کی شہادت کے خلاف جلوس بھی نکالتے ہیں... بازار اور کاروبار بھی بند رکھتے ہیں۔

بھارتی لوک سبھا میں بھی بابری مسجد کے حوالے سے مسلمان لیڈران احتجاجی آواز بلند کرتے ہیں مگر پلید ہندو خواہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں... اعلیٰ عدلیہ میں ہوں یا بھارتی فوج میں بھارت کے مظلوم مسلمانوں کی آواز پر... کوئی بھی کان دھرنے کے لئے نہ آمادہ ہے اور نہ تیار؟ کیا ان حالات میں ''جہاد'' کے علاوہ بھی کوئی راستہ باقی بچتا ہے کہ جس پر چلتے ہوئے ہندوستان کے مسلمان... اپنی پیاری بابری مسجد کا دفاع کر سکیں؟ کل جب ہندوستان کا مسلم جوان... بابری مسجد کے انتقام کے لئے ''جہادی'' بنے گا تو پھر دہلی کے فتنہ گر ایوانوں سے لے کر امریکہ کے قصر سفید تک ... ہر طرف سے مسلم دہشت گردی اور مسلم شدت پسندی کی صدائیں اٹھنا شروع ہو جائیں گی... اس لئے ہم کہتے ہیں کہ اسے دنیا کے منصفو! اب بھی قت ہے پیاری بابری مسجد مسلمانوں کو لوٹا دو... کیونکہ دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved