باقر نجفی رپورٹ اورآصف زرداری کارقص
  7  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭بالآخر بلی تھیلے سے باہر آگئی۔ پنجاب حکومت نے ساڑھے تین برس تک رپورٹ دبائے رکھنے کے بعد اسے اس انداز سے جاری کیاکہ پہلے اعلان کیاگیاکہ رپورٹ جاری کرنے کے بارے میں لاہورہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے کی بجائے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔ پنجاب کے وزیر قانون راناثناء اللہ نے پریس کانفرنس میں اس رپورٹ کو نامکمل، ناقص اور فرقہ واریت پر مبنی قراردیا اور پھر اچانک اعلان کیا کہ رپورٹ جاری کی جارہی ہے۔ وزیر قانون نے دعویٰ کیا کہ رپورٹ میں وزیراعلیٰ یا ان کے خلاف کوئی الزام نہیں لگایاگیا۔ بہرحال رپورٹ جاری ہوئی اور مختلف سنجیدہ سوالات شروع ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جج خلیل الرحمان پر مشتمل کمیٹی کی رپورٹ بھی سامنے آگئی ہے۔ اس میں جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ پر سخت اعتراضات کیے گئے ہیں۔ باقرنجفی ٹربیونل کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ٹربیونل کو تہ تک تحقیقات کے اختیارات نہیں دیئے گئے تھے۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس کیس کے بارے میں دو عدالتوں میں کیس چل رہے تھے۔ان کی موجودگی میں ٹربیونل کو یہ اختیارات نہیں دیئے جاسکتے تھے۔ جسٹس خلیل الرحمان کمیٹی کی رپورٹ میں حیرت ظاہر کی گئی ہے کہ ٹربیونل کی رپورٹ میں گلوبٹ کی کارروائی اور پولیس کے ارکان کے زخمی ہونے کا کوئی ذکرنہیں ، یہ کہ ٹربیونل نے بعض اہم گواہوں کوطلب ہی نہیں کیا۔ ان دونوں رپورٹوں کی تفصیلات اخبارات میں موجودہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ ٹربیونل کی رپورٹ ناقص یا نامکمل تھی تو اسے ساڑھے تین سال تک کیوں دبائے رکھا؟ اب اسے جاری کیاجاسکتا تھاتو پہلے ہی روز جاری کردیتے۔ اس رپورٹ میں مختلف تضادات بھی سامنے آئے ہیں یوں یہ سارا معاملہ مزید الجھ گیاہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ اب تک ماڈل ٹاؤن کے اس سانحہ میں14افراد شہید ہونے کی خبریں عام تھیں۔ جسٹس خلیل الرحمان کی رپورٹ کے مطابق14نہیں بلکہ10افراد شہید ہوئے تھے۔ صوبائی حکومت کا بیان آچکا ہے کہ باقر نجفی رپورٹ کے بارے میں سپریم کورٹ میں اپیل نہیں کی جائے گی۔ ٭میاں نوازشریف لندن پہنچ گئے۔ پھر سپریم کورٹ کے خلاف بیان دیا ہے۔ پہلے پانچ افراد کا حوالہ دیا جاتاتھااب سیدھے سیدھے پانچ ججوں کی بات کی ہے۔ باقی باتیں وہی پہلے والی البتہ یہ کہ ''مجھے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کے بعد ملک کا ستیاناس ہو گیا ہے! ''کیا ستیاناس ہواہے اس کی وضاحت نہیں کی۔ فرمایا ہے کہ ملک سے 21وزرائے اعظم کو نکالاگیا۔ یہ بھی بتا دیتے کہ اُن کے اپنے سوا کسی وزیراعظم نے نکالے جانے پر ملک بھر میں ہنگامے نہیں کرائے، کسی عدالت پر کھلے حملے نہیں کیے، ججوںکوگالیاں نہیں دیں… ویسے یہ بھی کہ کسی دوسرے وزیراعظم کے خلاف اندرون وبیرون ملک کھربوں کے اثاثوں کے الزامات اور تحقیقات سامنے نہیں آئیں۔ کسی وزیراعظم نے بیرون ملک علاج نہیںکرایا۔ قائداعظم شدید علیل تھے، ملک کے اندر ہی علاج کرایا، کسی بیرونی دورے پر بھی نہیں گئے۔1958ء کے مارشل لا تک وزیراعظم لیاقت علی خاں خواجہ ناظم الدین، محمد علی بوگرہ، چودھری محمدعلی، آئی آئی چند ریگر ، حسین شہید سہروردی، فیروزخان نون نے اندرون یا بیرون ملک کوئی اثاثہ نہیں بنایا، کوئی فیکٹری نہیں لگائی، بیرون ملک علاج نہیں کرایا۔ ان تمام حضرات کی کسی اولاد نے کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل نہیں کی۔اور میاں صاحب! کیا بات کی جائے کہ آپ کے دوبیٹے اعلان کررہے ہیں کہ وہ پاکستانی نہیں اورخود آپ وزیراعظم ہوتے ہوئے ایک ملک کا اقامہ اور وہاں کی ایک کمپنی کی ملازمت اختیارکیے ہوئے تھے! ایک ملک کا وزیراعظم دوسرے ملک میں ملازم اور ملازمت کے لیے اس ملک کے قوانین اور آئین کا وفادار !!اتنی ڈھیر ساری تحقیقات اور عدالتی کارروائیوں کے باوجود یہ بات نہیںکھل سکی میاں صاحب! کہ آپ نے لندن کے فلیٹس کیسے بنائے؟ مانچسٹر اور لندن میں بڑے بڑے پلازے کیسے بن گئے؟

٭اور کچھ ذکر5دسمبر کواسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے50سالہ جشن کا ! اچھا خاصاجلسہ تھا۔ اس جلسے میں آصف زرداری نے جس طرح والہانہ رقص کیا، اس نے حیرت زدہ کردیا۔ پتہ نہیں آصف زرداری نے رقص کس استاد سے سیکھا؟ اس سے پہلے بھی رقص کیاہوگا! گزشتہ رات پیپلز پارٹی کے جلسے میں گلوکار عارف لوہار نے اپنا مشہور گیت '' جگنی'' گایا تو آصف زرداری کے اندر کا رقاص جاگ اٹھا۔ سٹیج پر ہاتھ ہوا میں بلند کرکے اور انگلیاں ادھر اُدھرلہراتے ہوئے ایسا رقص پیش کیا کہ بڑے بڑے پیشہ ور رقاص حیرت زدہ رہ گئے۔ اپنے باس کوناچتے دیکھتے تک پارٹی کی متعدد خواتین بھی جوش میں آگئیں اور رقص کرنے لگیں۔ اچھا خاصا ماہرانہ رقص! جیالوں کو موقع مل گیا، انہوں نے دھمال شروع کردی! یہ منظر ٹیلی ویژنوں پر دیر تک دیکھاگیا…اور…اور یہ سب کچھ دسمبر کے مہینے میں ہوا جومحترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل (27دسمبر)اورپارٹی کے لیے سوگ کا مہینہ ہے۔ عام لوگوں کے ہاں کوئی عزیز انتقال کرجائے تو اس کے چہلم تک ایسی تقریبات سے گریز کیاجاتاہے مگر! میں نے لکھا تھاکہ5 دسمبر کو سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی کی برسی تھی، ناچنا گانا ہی تھاتو ایک آدھ دن آگے پیچھے کرلیتے۔ اور ہاں! صرف دو دن پہلے پنجابی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر استاد دامن کی بھی برسی تھی(3دسمبر1984) ۔ پیپلز پارٹی والے اس کا خیال کیسے کرسکتے تھے کہ استاد دامن پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی آمرانہ کارروائیوں پر سخت نکتہ چینی کرتارہتاتھا۔ ایک بار اس نے کہہ دیا کہ ''ایہہ بھٹو انصاف دامندر، رانی( جنرل رانی) باہر،رانا( مختار رانا ) اندر!''۔ مختار رانا کبھی بھٹو کا قریب ترین ساتھی تھا۔کسی بات پر اختلاف کیا تو بھٹو نے اسے جیل میں ڈال دیا۔ استاد دامن کا یہ شعر منظر پرآیا تو بھٹو کے حکم پر استاد دامن کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیاگیا۔ استاد پر الزام لگایا گیا کہ اس کے پاس سے دوپستول اور تین دستی بم نکلے ہیں۔یہ واقعہ ملک بھر میں خبروں کا موضوع بن گیا۔ استاد دامن کودہلی میں بھارت کے ویراعظم پنڈت نہرو نے بھارت کی شہریت اور بڑی جاگیر پیش کی تھی مگر استاد نے صاف انکار کردیاکہ وہ پاکستان میں پیدا ہوا وہیں رہے گا۔ استاد دامن کی بیوی اوربچی1947ء کے فسادات میں ہلاک کردیئے گئے، اس کاگھر جلا دیاگیا۔ اس کے پاس لاہور میں رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ محکمہ اوقاف نے اسے بادشاہی مسجد کے پاس وہ مختصر سا حجرہ د ے دیا جس میں کبھی مشہور صوفی شاعر شاہ حسین رہا کرتے تھے۔ اس حجرے میں بڑے بڑے لوگ استاد دامن سے ملنے آتے تھے۔ ان میں فیض احمد فیض بھی تھے جواستاد دامن کے ہاتھوں سے تیار ہونے والے کباب اور بٹیرے کھایا کرتے تھے۔ اس حجرے میں میری بھی استاد دامن سے ملاقاتیں رہیں۔ اس حجرے کی دیوارکی پڑچھتی پر کتابوں کے ڈھیرکے پیچھے بہت سے چوہے رہتے تھے۔ استاد انہیں روزانہ ایک خاص وقت پر موتی چور کے لڈو کھلایا کرتے تھے! قارئین کرام بات آصف زرداری کے رقص سے چلی اور استاد دامن کی باتوں تک پہنچ گئی۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے۔ چلئے اسی طرح استاد دامن کی یاد تازہ ہوگئی! ٭سینٹ کی ایک کمیٹی میں بتایاگیا کہ اسلام آباد میں آنے والا70 فیصد کھلا دودھ زہریلا اور مضر صحت ہوتا ہے ، استغفار! لاہور میں صور ت حال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ کچھ عرصے کے بعد کھلے دودھ پر پابندی لگادی جائے گی۔ یہ لوگ ملک وقوم کے دشمن ہیں مگر ستم یہ ہے کہ دودھ کے بڑے بڑے فارم بڑے بڑے وڈیروں کی ملکیت ہیں، فوڈ اتھارٹی ان سے کیسے نمٹے گی؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved