مقبوضہ کشمیر میں کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال
  12  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

بھارت کے ساتھ مذاکرات کرنے ، مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے ، کھیل کود ،ٹماٹر پیاز ، راگ رنگ ، کبڈی کرکٹ سے زیادہ پاکستان کو مقبوضہ جموں و کشمیر اور شہریوں کی آزادی عزیز، اور اس پر کسی طرح بھی صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ اب جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کا جذبہ آزادی یہ ہے کہ بھارتی افواج سے لڑنے والے مجاہدین اور بھارتی فوج و اداروں کا مقابلہ ہو جاتا ہے تو گھروں میں بیٹھی خواتین ، بیٹیاں مجاہدین کی کامیابی اور حفاظت کے لیے دعا کررہی ہوتی ہیں ، نوجوان و بوڑھے گلیوں کوچوں ، میدانوں ، چوراہوں میں نکل کر بھارتی مسلح فوجیوں اور انتظامی اداروں پر پتھراو کرتے ، اِن کے خلاف نعرے لگاتے اور مجاہدین کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں ۔ دونوں طرف کے جموں و کشمیر کا کون سا ذی شعور مرد و زن ہے جسے اپنے بہن بھائیوں رشتہ داروں کو اِس پار بھی آرام و سکون کی نیند آتی ہے ۔ بھارت کے اپنے انتظامی ، فوجی ، انٹیلی جنس اداروں میں ایک اپنی اپنی پھرتیاں دِکھانے کی ایک جنگ جاری ہے جس میں ہر طرح کا جھوٹ روا رکھا جا رہا ہے اور اِنڈین نیشنل اِنوسٹی گیشن ایجنسی نے تو مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہر باعزت باوقار صاحبِ ثروت ، کاروباری اور با اثر فرد اور افراد پر ہاتھ ڈالا ہوا ہے۔ صاحبِ ثرو ت کشمیریوں کو اِنکوائری ، انوسٹی گیشن ، اِنٹیروگیشن ، لوکل دفاتر سے لے کر دِہلی کے این آئی اے کے ہیڈ آفس اور ہیڈ آفس سے لے کر تہاڑ جیل تک ہر طرح سے خوفزدہ کر کے ، ڈرا کر ، دھمکا کر م، جھکا کر ، پھنسا کر ، لالچ دے کر ، ترغیب و تحریص دے کر حال میں بدحالی کا خوف اور مستقبل میں خوشحالی کے خوش خیالی خواب دِکھا کر کو شش کی جاتی ہے کہ یہ با اثر اور صاحبِ ثروت افراد ، شخصیات بھارت کے ایجنٹ بن کر کٹھ پتلی حکومت کے پٹھو بن کر بھارت کے لیے استعمال ہوں۔ ماہرین کے مطابق گھروں کی آتش زدگی اور لاشوں کی حالت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بھارتی فوج نے رہائشی آبادی میں ممنوعہ کیمیائی ہتھیار استعمال کئے ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پہ احتجاج کرتے ہوئے عالمی برادری سے احتجا ج کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سفاکانہ طرزِ عمل میں بھی بھارت اور اسرائیل کے درمیان گہری مطابقت پائی جاتی ہے۔ ماضی میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل نے بھاری توپ خانے کے ذریعے غزہ پہ کیمیائی شیل برسائے تھے۔ اِس بھیانک جرم کو ہیومن رائیٹس واچ کی 71 صفحات پہ مشتمل رپورٹ نے بے نقاب کیا تھا۔ اگرچہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پہ مکمل پابندی ہے۔ لیکن اسرائیل کی مسلم دشمن حکومت بین الاقوامی قوانین کو جوتے کی نوک پہ رکھتی ہے۔ 2005ََء میں بھارت کے شہرچندی گڑھ میں ہونے والے آٹھ روزہ سیمینار میں اسرائیل آرمی کے سابق چیف جیک امیڈوزور نے فلسطینی مظلوموں کے متعلق جب اپنے شدت پسندانہ خیالات کا اظہار کیا تو کچھ انصاف پسند شرکاء کا ماتھا ٹھنکا۔ جنرل جیک نے اپنے خبثِ باطن کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا واحد حل یہ ہے کہ تمام فلسطینیوں کو ختم کر دیا جائے ۔ غور کیا جائے تو درحقیقت اسرائیل اسی اصول پہ کاربند ہے۔ اسرائیل آرمی کے چیف نے سیمینار کے دوران کشمیر کی تحریک کو کچلنے کیلئے بھارتی فوج کو تربیت دینے کی پیشکش بھی کی تھی۔ گزشتہ دس برسوں میں اس معاملے پہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان عسکری تعاون زبانی کلامی باتوں سے بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ سب سے پہلے بھارت کے مستند صحافیوں نے یہ راز طشت ازبام کیا تھا کہ مظلوم کشمیریوں کو بینائی سے محروم کرنے والی بدنام زمانہ''پیلٹ گن'' اسرائیل سے در آمد کی گئی تھی۔ یہ سلسلہ نہ تورُکا ہے اور نہ ہی بھارت سرکار کی مسلم دشمنی میں کوئی کمی واقع ہوتی نظر آ رہی ہے ۔ جس طرح اسرائیل مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کیلئے فلسطینیوں کی نسل کشی کے راستے پہ گامزن ہے بالکل اسی طرح مودی سرکار بھی مسئلہ کشمیر سے نپٹنے کیلئے مظلوم کشمیریوں کو کچلنے کی پالیسی پہ کاربند ہے۔ اس اندو ہناک سلسلے کی تازہ کڑی مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ پلوامہ کے نواحی علاقے میں بے گناہ کشمیریوں کے مسمار شدہ گھروں سے پانچ کشمیری نوجوانوں کی سوختہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ مکمل طور پہ جلے ہوئے ان گھروں کے جلنے سے ملنے والی لاشیں نا قابلِ شناخت ہو چکی تھیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ظالمانہ پالیسی نئی بات نہیں، خالی کئے جانے والے مختلف بھارتی فوجی کیمپوں سے اجتماعی قبروں کی دریافت بڑی ظالمانہ کارروائیوں کا معمولی حصہ ہے جو بے نقاب ہوا ہے۔ بدمعاش بھارتی فوج جو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے جس نے اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق تحریک آزادی جاری رکھنے والے بے گناہ کشمیری عوام کا منظم قتل عام جاری رکھا ہوا ہے۔ ہزاروں کشمیریوں کے قتل عام کی مرتکب بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں مذہبی مقامات اور گھروں کو آگ لگانے کا بدترین ریکارڈ بھی رکھتی ہے۔ اجتماعی قبروں کی دریافت سے واضح ہو گیا ہے کہ بھارت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور میڈیا کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت کیوں نہیں دیتا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سینکڑوں کشمیریوں کے قتل عام میں ملوث بھارتی فوج کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ انٹرنیشنل کریمنل ٹربیونل میں چلایا جائے اور ایک بھرپور مہم کے ذریعے عالمی برادری کو اس مہم سے آگاہ کیا جائے تاکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد انسانیت سوز مظالم اور قتل عام کے ذمہ داروں کو سزا ملے۔ حقیقت یہ ہے کہ پانی کا مسئلہ دراصل مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر بھارت سے نہ تجارت کا جواز ہے نہ ضرورت کیونکہ مسئلہ کشمیر جو کہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی فلش پوائنٹ ہے اس کے حل کے بغیر بات نہیں بن سکے گی۔ امن کی آشا تبھی کامیاب ہوگی جب مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہوگا۔ پاک بھارت مذاکرات کو جامع مذاکرات کا نام دیا جائے یا صرف مذاکرات لیکن کشمیر کو بنیادی مسئلے کے طور پر ایجنڈے میں سرفہرست رکھے بغیر بات نہیں بنے گی۔

ان تمام تر مظالم کے باوجود جب کشمیری آزادی سے کم کسی چیز پر بات کرنے پر بھی تیار نہ ہوں اور بات یا مذاکرات کرنے والا اپنی پالتو کٹھ پتلی ریاستی حکومت اور اپنی جیب کی اپوزیشن سے مذاکرات ہی کرے گا تو مقبوضہ کشمیر میں اور تو سب کچھ ہو سکتا ہے مگر امن کا قیام نہیں ہو سکتا ۔ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی ناکامیوں پر جھنجھلا کر سیز فائر لائن پر آزاد ریاست جموں و کشمیر کے سویلین عوام پر گولہ باری کا زور رکھا ہوا ہے تاکہ آزاد ریاست کے شہریوں کو خوفزدہ کیا جا سکے۔ اِس طرح مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مجاہدین کے داخلے کو روکا جا سکے اور پاکستان کو جنگ سے ڈرایا جاسکے لیکن اسے ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پرے گا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved