امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان
  12  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اس ہفتے کا اہم ترین ایشو امریکی صدر کا امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان ہے جس پر اسرائیل میں خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں ۔عالم اسلام کے لئے یہ انتہائی رنج و غم کا مقام ہے۔جو لوگ بھی اس معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہیں ، انہیں اندازہ ہوگا کہ یہ بہت ہی تشویشناک معاملہ ہے۔اس کے پہلے کے امریکی صدور کلنٹن، بش اور اوبامہ پر بھی یہودیوں اور امریکی کانگریس کا دبائو تھا کہ وہ یہ اعلان کریں۔لیکن پورے عالم اسلام کے رد عمل کے اندیشے کی وجہ سے انہوں نے ایسے اقدام سے گریز کیا۔امریکہ کس کی مٹھی میں ہے ، اس سے سب واقف ہیں۔علامہ اقبال نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں فرنگ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے۔ان کے زمانے میں فرنگ کا امام برطانیہ تھا اور اب امریکہ ہے ۔لیکن اس طوطے کی جان یہود میں ہے۔اب خبطی ہونے کی اداکاری کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعے یہ اعلان کروادیاگیا ہے۔یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوگیا بلکہ یہ دہائیوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ 1897 ء میں یہودیوں نے پروٹوکولزمرتب کئے تھے ۔ان کا موقف یہ تھا کہ اب تک ہمیں ساری دنیا میں مار پڑتی رہی ہے ۔ وہ ہیں تواقلیت میں لیکن پوری نوع انسانی کو غلام بنانا چاہتے ہیں۔ویسے توان کی سب سے زیادہ دشمنی اسلام اورمسلمانوںسے ہے لیکن وہ پوری نوع انسانی سے انتقام لینا چاہتے ہیں۔ رومن جنرل ٹایٹس نے سترھویں صدی عیسوی میں یروشلم پر حملہ کیا تھا اور بیت المقدس کو مسمار کیا تھا اور ان کو دیس نکالا دے دیا تھا۔ساری دنیا میں وہ اپنی پناہ گاہ تلاش کرتے رہے ہیں اور جہاں گئے ہیں ، انہیں مارپڑتی رہی ہے۔لیکن بالآخر انہوں نے مل بیٹھ کر یہ سوچا کہ کس طرح پوری نوع انسانی کو حیوان بناکر اور انہیں نکیل ڈال کر اپنا تابع کیا جائے۔اس کے لئے انہوں نے پروٹوکولز طے کئے کہ اب انہوں نے اس انداز سے کام کرنا ہے اور بالآخر پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کرنی ہے۔اسی طرح ان کی دنیا سے انتقام کی آگ سرد ہونی ہے۔بے حیائی اور فحاشی کو اس قدر عام کیا جائے کہ انسان انسانیت کی سطح سے گر کر حیوان بن جائے، یہ ان کے پروگراموں میں سر فہرست ہے۔ وہ شیطانی منصوبہ جو آج سے 120برس قبل بنا تھا اس میں بالخصوص مسلمانوں کو دین و مذہب سے دور کرکے انہیں کمزور کرنا اور انہیں پوری دنیا میں ذلیل و خوار کرنا ان کا اہم ہدف تھا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ عین شیڈول کے مطابق وہ اپنے ہدف یعنی گریٹر اسرائیل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔جو منصوبہ انہوں نے بنایا تھا اس پر انہوں نے عمل بھی کیا اور اس میں کامیابیاں بھی حاصل کررہے ہیں۔اس وقت پوری دنیا ان کے شکنجے میں ہے۔جبکہ عرب مسلسل پسپا ہورہے ہیں۔وہ اسرائیل جسے پورے عالم اسلام بالخصوص عرب دنیا میں ایک ناسور کہا جاتا تھا ، کچھ عرب ممالک باقاعدہ اسے تسلیم بھی کرچکے ہیں۔یہ بھی یہودیوں کی بہت بڑی کامیابی ہے۔کچھ عرب ممالک نے اسرائیل سے خفیہ تعلقات بھی قائم کررکھے ہیں۔ یہ ذلت و رسوائی عربوں کا مقدر اس لئے بنی کہ انہوں نے قرآن حکیم جو ان کی اپنی زبان میں نازل ہوا ، کے احکامات کو ماننے سے انکار کیا ہوا ہے اور رسول اللہ ۖ سے وفاداری سے قصداً انحراف کی روش اختیار کررکھی ہے۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر دین کے معاملے میںوہ کردار ادا نہیں کیا جو مطلوب تھا اور جو دنیا و آخرت کی کامیابی کے حصول کے لئے لازم تھا۔بقیہ امت مسلمہ کی حالت بھی اچھی نہیں۔کوئی مسلم حکمراں سوائے ترکی کی فرماں رواں طیب اردوان کے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت نہیں رکھتا ۔طیب اردگان کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔وہ اس وقت عالم اسلام کی رہنمائی کرتے نظر آرہے ہیں۔

یہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے۔ہر حکمراں کو اپنا اقتدار عزیز ہوتا ہے جس کی خاطر وہ امریکہ سمیت مغربی قوتوں کی غلامی کرنے پر مجبور ہوتاہے۔ہمارے حکمرانوں کامسئلہ بھی امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے کیونکہ وہ اقتدار پر بھی اسی کے ذریعے آتے ہیں۔لہٰذا وہ امریکہ کی ڈکٹیشن پر چلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ورنہ ان کی جگہ کسی اور کو موقع دے دیا جائے گا۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے فیصلے بھی ہمارے ہاتھوں میں نہیں ہیں۔ہم ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں۔ہماری ہر حکومت ان کی غلامی پر مجبور ہوتی ہے۔اگر 57ممالک متحدہوکر امریکہ سے یہ کہہ دیں کہ اگر تمہارا سفارت خانہ یروشلم منتقل ہوا تو ہم سب تم سے سفارتی تعلقات منقطع کردیں گے ،تجارتی لین دین ختم کردیں گے اورڈالر کا بائیکاٹ کردیں گے تو امریکہ کو جنگ کے بغیر بھی مسلمانوں کے مطالبات کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔لیکن افسوس کہ ہمارے حکمرانوں میں اتنا دم خم نہیں ہے۔وما علینا الا البلاغ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved