نیا عمرانی معاہدہ، ایک خطرناک مطالبہ
  12  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭میں حیرت کے عالم میں ہوں کہ ن لیگ کے مرکزی رہنما اور پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے نئے عمرانی معاہدہ کا مطالبہ کر دیا ہے! یہ مطالبہ اس سے قبل بلوچستان کے باغی براہم داغ بگٹی اور سندھ کے قوم پرست نادر مگسی وغیرہ بھی کر چکے ہیں۔ شائد عام لوگ عمرانی معاہدہ کے معنی نہ سمجھ پائیں۔ آئین کو انگریزی میں سوشل کنٹریکٹ اور اُردو میں عمرانی معاہدہ کا نام دیا جاتا ہے۔ ملک کا آئین ملک کے عوامی منتخب نمائندے تیار کرتے ہیں۔ 1956ء 62ء اور 73ء کے آئین منتخب عوامی نمائندوں نے ہی تیار کئے۔ میاں شہباز شریف نے جس نئے آئین کا مطالبہ کیا اس کی تیاری میں فوج اور عدلیہ کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ دونوں ادارے سرکاری طور پر منتخب نمائندوں کی حکومت کے ذریعے قائم ہوتے ہیں۔ فوج اور عدلیہ کے منصب داروں کا تقرر حکومت ہی کیا کرتی ہے۔ انہیں عوامی نمائندوں کے مساوی حیثیت نہیں ہوتی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ان دونوں اداروں کی بھی آئین سازی میں شراکت ضروری قرار دے دی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال میں نئے آئین کا تقاضا ہی خطرناک ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ 1973ء سے نافذ موجودہ آئین کو ختم کر کے نئے سرے سے نیا آئین تیار کیا جائے۔ موجودہ آئین وفاقی نوعیت کا ہے اس میں مختلف صوبوں کے منتخب عوامی نمائندوں پر مشتمل قومی اسمبلی اور تمام صوبوں کی مساوی نمائندگی کی بنیاد پر سینٹ تشکیل پاتا ہے تا کہ قومی اسمبلی میں کسی ایک صوبے کے ارکان کی اکثریت ملکی معاملات پر حاوی نہ ہو سکے۔ 1956ء کا آئین 9 سال کے بعد بنا تھا۔ 1962ء کا آئین جنرل ایوب خاں نے ذاتی نگرانی میں منظور قادر وغیرہ سے بنوایا اور اسے نافذ کر دیا۔ یہ صدارتی نوعیت کا آئین تھا۔ 1971ء میں جنرل یحییٰ خاں نے بھی ایک صدارتی آئین جاری کیا مگر یہ ابھی نصف جاری ہوا تھا کہ اسے واپس لے لیا گیا (اس آئین کو جماعت اسلامی کے امیر میاں محمد طفیل نے مکمل اسلامی آئین قرار دیا تھا)۔ 1973ء کا آئین پیپلزپارٹی کی حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو کی زیر نگرانی قومی اسمبلی میں پیش کیا جو دِن کے وقت قومی اسمبلی اور شام کے بعد آئین ساز اسمبلی بن جاتی تھی۔ اس وقت حالات بہت نازک تھے۔ مشرقی پاکستان الگ ہو چکا تھا اور مغربی پاکستان میں بھارت وغیرہ نے انتشار پیدا کیا ہوا تھا۔ ان حالات میں ذوالفقار علی بھٹو نے بہت محنت کی اور پیپلزپارٹی کے مخالف نمائندو ںکو بھی متفقہ طور پر ایک آئین پر دستخط کرنے پر آمادہ کر لیا (احمد رضا قصوری اور سندھ کے ایک رکن نے دستخط نہیں کئے تھے) انتہائی نامساعد حالات میں ایک متفقہ آئین کی تیاری واقعی بہت بڑا کارنامہ تھا۔ اس آئین کی تیاری میں صرف عوامی نمائندوں نے حصہ لیا۔ عدلیہ یا فوج کی اس میں کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت بلوچستان اور سندھ میں کوئی باغیانہ تحریک موجود نہیں تھی پھر بھی مختلف سیاسی پارٹیوں میں شدید کشیدگی پائی جاتی تھی۔ اس کے باوجود یہ سارے لوگ ایک آئین پر متفق ہو گئے۔ اس میں اب تک 23 ترامیم ہو چکی ہیں، مزید کا بھی امکان ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے نئے آئین کی تیاری میں عدلیہ اور فوج کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دنیا بھر میں جمہوری نظام میں ان اداروں کو آئین سازی میں شریک نہیں کیا جاتا۔ صرف ترکی کے آئین میں فوج کو بھی آئین کردار دیا جاتا رہا ہے۔ فوج سب سے زیادہ طاقت ور ادارہ ہوتی ہے۔ آئین میں شرکت بلکہ بالادستی کے باعث کمال اتاترک کے بعد ترکی میں ہمیشہ فوج سیاسی معاملات پر بالادست رہی۔ اب اس میں تبدیلی آئی ہے۔ یہ منطقی بات ہے کہ کسی بھی نظام میں سب سے طاقت ور ادارے کی بالواسطہ یا بلاواسطہ بالادستی دکھائی د یتی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے بعد اب تک تقریباً ساڑھے نو برسوں میں عوامی منتخب نمائندگی بالادست چلی آ رہی ہے۔ اسے قائم رکھنا ضروری ہے۔ موجودہ حالات میں کسی نئے آئین کی تیاری مشکل ہی نہیں، بالکل ناممکن ہے۔ اس سے ملک میں انتشار تو پھیل سکتا ہے، نیا آئین نہیں بن سکتا۔ ویسے یہ وضاحت بھی ضروری کہ موجودہ آئین میں کیا بات ناقابل عمل دکھائی دے رہی ہے؟ ایسی کوئی بات ہے بھی تو اس کی اصلاح کے لئے ترامیم کا راستہ موجود ہے مگر یہ کہ سارا آئین ہی یکسر بدل دیا جائے!! ناقابل فہم بات ہے۔ یہ ملک چار جرنیلوں کے صدارتی نظام کا تلخ تجربہ دیکھ چکا ہے۔ ایک آمر جرنل مشرف نے این آر او کا مکرومعاہدہ کیا اسے کون روک سکا تھا؟ ٭وزیراعظم کے غیر ملکی دورے ہی ختم نہیں ہو رہے۔ سابق وزیراعظم نے چار سال میں 70 سے زیادہ غیر ملکی دورے کئے، موجودہ عبوری وزیراعظم مختصر وقت میں 9 سے زیادہ دورے کر چکے ہیں۔ ترکی لندن، اور سعودی عرب کے تین تین سے زیادہ دورے آ چکے ہیں۔ اب 13 دسمبر کو ترکی میں اسلامی وزرائے خارجہ کانفرنس ہو رہی ہے۔ اس میں وزیرخارجہ خواجہ آصف کی شرکت کی ضرورت ہے، مگر وزیراعظم وزیرخارجہ کے ساتھ خود بھی جا رہے ہیں! (کیوں؟) ملک کے اندر ہوتے ہیں تو فیتے کاٹنے سے فرصت نہیں ملتی۔ ٭ملک میں استعفوں کی بہار آئی ہوئی ہے۔ گزشتہ روز صرف ایک دن میں ن لیگ کی قومی اسمبلی کے دو اور پنجاب اسمبلی کے تین ارکان کے استعفو ںکا اعلان ہوا (دعویٰ 14 استعفوں کا کیا گیا تھا) دوسری طرف ایم کیو ایم لندن کے چار استعفے آ گئے۔ ان میں بابر غوری، شمیم صدیقی، ڈاکٹر ندیم اور ان کی بیوی امبر کے نام شامل ہیں۔ ان چاروں افراد کو اب پتہ چلا ہے کہ پچھلے سال 22 اگست کو الطاف حسین نے پاکستان کے زندہ رہنے کے خلاف نعرے لگائے اور پاکستان پر حملے کے لئے بھارت سے امداد مانگی تھی!! یہ افراد عمر بھر اور 22 اگست کے بعدبھی پاکستان کے اس دشمن کے ساتھ چپکے رہے۔ انہیں کسی نے نہ بتایا کہ وہ پاکستان کی دشمنی میںکیا کیا ہرزہ سرائی کر رہا ہے۔ اب اچانک انہیں پاکستان یاد آ گیا ہے (فاروق ستار اور مصطفی کمال کو بھی اسی طرح یاد آیا تھا) بابر غوری وفاقی مخلوط حکومت میں جہاز رانی اور بندرگاہوں کے محکمہ کا وزیر تھا۔ وہ ہر بار ضد کر کے یہ وزارت لیا کرتا تھا۔ اس کے دور میں افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے لئے کراچی آنے والے اسلحہ سے بھرے سینکڑوں کنٹینر پراسرار طور پر غائب ہو گئے۔ آج تک سراغ نہیں ملا۔ بابر غوری کے خلاف 900 افراد کی غیر قانونی بھرتیوں کے مقدمات کراچی کی عدالتوں میں دائر ہیں۔ اس کے خلاف بار بار طلبی کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔ اب برطانوی پولیس نے الطاف حسین کے گرد شکنجہ کسنا شروع کیا ہے تو بابر غوری غیرہ کو خدا یاد آ گیا ہے! الطاف حسین کی شخصیت میں ویسے کیا اثر انگیزی باقی رہ گئی ہے؟ سہارے کے بغیر دو قدم نہیں چل سکتا۔ مسلسل شراب نوشی نے پورے جسم کو مفلوج کر دیا ہے۔ سارے اہم رفقا ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔ ہر وقت نیم دیوانگی کا عالم طاری رہتا ہے۔ دوسرے مقدمات کے علاوہ عمران فاروق کے قتل کا الزام ہی اس کے لئے اعصاب شکن ثابت ہو رہا ہے۔ استعفے دینے والے یہ سب لوگ مستقل طور پر اس کے دربار دار رہے ہیں۔ اب اچانک اس کی 22 اگست کی تقریر یاد آ گئی ہے!

چلتے چلتے، ملک کے وزیراعظم کے منصب کے لئے چار امیدوار سامنے آ چکے ہیں! میاں شہباز شریف، عمران خاں، بلاول زرداری اور سراج الحق! اب فاروق ستار کا نام بھی آ گیا ہے مگر اس عہدہ کے لئے 2023ء کا سال مقرر کیا ہے۔ فی الحال اگلے سال وزیراعلیٰ سندھ بننے کا دعویٰ کیا ہے۔ فاروق ستار کے 2023ء تک انتظار پر ایک چشم دید واقعہ یاد آ گیا ہے۔ کافی عرصہ پہلے میں امرتسر سے گورداسپورجا رہا تھا۔ بس سکھوں سے بھری ہوئی تھی۔ راستے میں ایک سکھ مسافر سوار ہوا۔ اس کی کرائے پر کنڈکٹر سے گرما گرمی ہو گئی۔ بات بڑھ گئی تو اس مسافر نے کہا کہ میں تمہیں دیکھ لوں گا۔ کنڈکٹر نے ڈرائیور کو آواز دی کہ گاڑی روکیں۔ اس نے مجھے دیکھنا ہے۔ اس پر وہ مسافربولا کہ نہیں آج نہیں دیکھوں گا، آج میرے گھر میں میرے بیٹے کا ماما (سالا) آیا ہوا ہے، آج میں نے کسی سے نہیں لڑنا!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved