نرگس سیٹھی سے فواد حسن فواد تک
  13  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

گریڈ بائیس بیوروکریسی کی معراج ہوتا ہے ۔وفاقی سروسز سے تعلق رکھنے والا ہر افسر اس گریڈ کے حصول کیلئے دن رات محنت بھی کرتا ہے اور لابنگ بھی،ہزاروں افسران اس گریڈ کی آس لگائے ریٹائر ہو گئے اور جن افسران کو یہ گریڈ ملا انکی اکثریت بھی ملک و قوم کیلئے کچھ نہ کر سکی،ہاں اپنے لئے بلکہ اپنی آئیندہ نسلوں کیلئے بہت کچھ کر گء ۔وہ افسران اس قوم کا سرمایہ ہیں جنہوں نے اس ملک اور عوام کیلئے کچھ نہ کچھ کیا ۔گئے وقتوں میں گریڈ بائیس وزیر اعظم کی صوابدید ہوتا تھا وہ جس افسر کو چاہتا تھا دے دیتا تھا مگر اس وقت نوے فیصد افسران کو میرٹ پر گریڈ بائیس مل جاتا تھا دس فیصد کو وزیر اعظم نواز دیتا تھا ۔اللہ بھلا کرے پیپلز پارٹی کے ایک وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور انکی پرنسپل سیکرٹری نرگس سیٹھی کا جنہوں نے اپنے اس حق کا اس بیدردی سے استعمال کیا کہ اہل رہ گئے اور نااہل گریڈ بائیس لے گئے ۔ میں نے اس پر لکھا تھا، گریڈ بائیس کا اتوار بازار لگا دیا گیا ۔اس وقت گریڈوں کے ساتھ پلاٹ بھی ملتے تھے،چپڑی اور دو دو ، اس لئے رشتہ داروں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر گریڈ اور پلاٹ الاٹ کئے گئے جس کو رشتہ دار نہ ملا اس نے دوست بنا لئے ، دونوں خوش ہو گئے ۔دوست نے گریڈ خود رکھ لیا پلاٹ سفارشی کو دے دیا۔ ان دنوں کئی افسروں نے ریٹائرمنٹ سے ایک دن پہلے بھی گریڈ حاصل کر لیا تھا اس گریڈ کا قوم اور ملک کو کیا فائدہ ملا؟گریڈ بائیس کے افسر پر حکومتی اور سیاسی دباو ختم ہو جاتا ہے اس لئے گریڈ بائیس کے بعد بھی کوئی افسر اپنی قابلیت اور صلاحیت سے اس ملک کی بہتری میں اپنا حصہ نہیں ڈالتا تو اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہو گی۔ وزیر اعظم کی ایک پرنسپل سیکرٹری نرگس سیٹھی تھیں اور ایک فواد حسن فواد ہیں ۔ اس بار ان ترقیوں کے لیے اعلی اختیاراتی پروموشن بورڈ کا اجلاس وزیراعظم کی سربراہی میں ہو ا تو اپنی پروفیشنل انٹیگرٹی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد نے شرکت نہیں کی کیونکہ ان کا اپنا نام اس اجلاس میں زیر بحث تھا۔مجھے یاد ہے کہ اکتوبر ننانوے میں مسلم لیگ ن کی حکومت ختم کی گئی اور جنرل مشرف نے عنان اقتدار سنبھالا تو بیوروکریسی بھی گرگٹ کی طرح اپنا رنگ بدل رہی تھی جو افسران میاں صاحبان کی گڈ بکس میں نہیں تھے وہ تو نئی فوجی حکومت کو اپنی خدمات پیش کرہی رہے تھے مگر جو لوگ میاں صاحبان کے دور میں ان کے ساتھ اچھی پوسٹوں پر کام کر چکے تھے انکی اکثریت بھی فوجی حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے یہ راگ الاپ رہی تھی کہ وہ تو سرکاری ملازم ہیں، سیاست دان نہیں اس لئے وہ تو حکومت کا انتظامی حصہ ہیں۔مجھے ایسے ایسے افسر یاد ہیں جو میاں صاحبان کے چہیتے تھے مگر بعد ازاں جنرل مشرف کی کورٹیم اور انکی صوبائی حکومتوں کا حصہ بنے اور میاں صاحبان کی واپسی کے بعد پھر میاں صاحبان کے گن گانے لگے۔ ایسے ہی ایک افسر سے میں نے پوچھا تو اس نے بڑی ڈھٹائی سے جواب دیا میں تو پہلے بھی وزیراعلی کے ساتھ تھا اب بھی وزیراعلی کے ساتھ ہوں۔ دوسری طرف ایک فواد حسن فواد جیسا افسر بھی ہے یہ اکتوبر ننانوے میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے فوج نے انتظام سنبھالتے ہی اس وقت کے بڑے نیک نام چیف سیکرٹری مرحوم اے زیڈ کے شیردل اور فواد حسن فواد کو بلایا تاکہ ان کے ساتھ معاملاات بہتر بنا کر ان سے میاں صاحبان کے خلاف کچھ اگلوایا جاسکے مگر کچھ دفتری امور کے علاوہ شیر دل صاحب اور فواد حسن فواد نے باقی معاملات میں معذرت کر لی اور اس کے بعد ایک طویل عرصہ نہ انہیں کوئی اچھی پوسٹنگ ملی اور نہ انہوں نے اس کے لیے کسی خواہش کا اظہار کیا۔

میں نے ایک طویل عرصہ تک رپورٹر کے طور پر سیاست اور بیور وکریسی کی بیٹ کی ہے۔ فواد حسن فواد ایک عرصہ تک پنجاب میں مختلف پوسٹوں پر فائز رہے۔ میاں شہباز شریف اپنی حکومت میں سب سے زیادہ بات میرٹ کی کرتے ہیں جبکہ فواد حسن فواد بھی ایک ایسے ہی افسر ہیں جن کو مین آف میرٹ کہا جاسکتا ہے۔ مسلم لیگ ق کے کچھ منحرف ارکان اسمبلی نے فیصل آباد چنیوٹ کی ایک سڑک کی تعمیر کی اپنے رشتہ دار ٹھیکیدار کو ادائیگی کے لیے فواد حسن فواد پر بہت دباو ڈالا مگر انہوں نے اس پر کوئی خلاف ضابطہ کام کرنے سے صاف انکار کردیا۔ بات وزیر قانون راناثنا االلہ اور بعد ازاں وزیراعلی تک پہنچی مگر فواد حسن فواد ڈٹے رہے ۔فواد نے سیکرٹری شپ کا چارج چھوڑ دیا مگر غلط کام نہ کیا۔ اس واقعے کے بعد ایک روز مجھے وزیرقانون پنجاب رانا ثنا اللہ ایک کھانے پر ملے تو میں نے ان سے اس معاملے کی حقیقت پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ فواد حسن فواد ٹھیک تھا وہ ہمارے سارے کام نہیں کرتا مگر ایماندار افسر ہے ہم نے اس کے متعلق بہت چھان بین کرائی مگر کچھ غلط نہیں ملا۔ ایک دوسرا واقعہ سنیے فواد حسن فواد سیکرٹری مواصلات و تعمیرات تھے انہیں جی او آر ون میں کلب روڈ پر ان کے عہدے کے مطابق ایک گھر الاٹ ہوا۔ گھر پرانا تھا اور اسکی خصوصی مرمت درکار تھی۔ وزیر اعلی پنجاب نے اس گھر کے لیے دس لاکھ کے فنڈز کی اجازت دے دی ۔ اس گھر کی مرمت کی ذمہ داری بھی چونکہ فواد حسن فواد کے محکمے کی تھی اس لئے ٹھیکیدار اور ایکسین نے اس پر زیادہ رقم خرچ کردی انہیں یہ یقین تھا کہ یہ محکمے کے سیکرٹری کا گھر ہے اس لئے سپلیمنٹری گرانٹ لے لیں گے۔ فواد حسن فواد نے گھر کا معائنہ کیا تو ایکسیئن اور ٹھیکیدار سے پوچھا کہ کتنی کاسٹ آئی ہے تو انہوں نے کہا کہ بارہ لاکھ سے کچھ زیادہ فواد نے پوچھا مجھے تو دس لاکھ کی اجازت تھی تو ایکسیئن نے کہا کہ سر یہ سرکاری گھر ہے کونسا آپ کا ذاتی ہے دس لاکھ سے زیادہ خرچ کا بل میں سپلیمنٹری ڈال دوں گا مگر فواد نے ایسا کرنے سے منع کردیا اور دس لاکھ سے زیادہ خرچ ہونے والی رقم اپنی جیب سے ادا کردی۔ فواد حسن فواد بہت اعلی افسر اور بہترین دوست ہے مگر مجھے اس سے ایک گلہ بھی ہے اس بار ترقی پانے والے افسران میں جہاں بہت ہی اچھے اور اپ رائٹ افسران شامل ہیں وہیں نیوز لیکس سکینڈل میں قربان کئے جانے والے انفرمیشن سروس کے سابق پرنسپل انفارمیشن افسر راو تحسین کو ترقی نہ دے کر پھر زیادتی کی گئی ہے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved