سیرت مصطفی ۖ کے اہم گوشے
  16  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) یہاں حاضر کے صیغے میںبراہ راست حضور ۖ سے بات کی گئی ہے کہ اگرچہ ابھی حالات ایسے ہیں کہ ہر طرف سے پریشانیاں، مشکلات اور مصائب نے آپۖ کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور اوپر سے مخالفین کے زبانی حملے بھی آپۖ کے لیے باعث پریشانی ہیں لیکن مصائب اور تاریکیوں کے یہ بادل آہستہ آہستہ چھٹتے چلے جائیں گے اور ان کی جگہ ہدایت کی روشنی پھیلتی چلی جائے گی اور بالآخر وہ وقت آئے گا کہ آپ ۖ کی پریشانی طمانیت اور خوشی میں بدل جائے گی۔ یہ بشارت دنیا کے حوالے سے بھی ہے اور آخرت کے حوالے سے بھی ۔ ''کیا اُس نے نہیں پایا آپۖ کو یتیم 'پھرپناہ دی!'' تسلی کے انداز میں حضور ۖ پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح یتیمی میں آپۖ کی سرپرستی فرمائی۔ حالانکہ اس انتہائی بگڑے ہوئے معاشرے میں ایک یتیم کی حالت تو انتہائی قابل رحم ہوتی تھی ، اس کا تو کوئی وارث ہی نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ ۖ کے لیے بہترین پرورش اور تربیت کا اہتمام کیا ۔آپۖ کی ولادت سے قبل آپ ۖ کے والد ماجد کا انتقال ہو چکا تھا ۔ چھ سال کی عمر میں والدہ ماجدہ بھی داغ مفارقت دے گئیں۔اس کے بعد آپۖ کے دادا عبدالمطلب نے آپۖ کی پرورش کی۔ جب آٹھ سال کے ہوئے تو دادا بھی انتقال کر گئے۔ بعض سیرت کی کتابوں میںمذکور ہے کہ آپۖ کے دادا کے بعد آپۖ کے تایا زبیر بن عبدالمطلب نے آپۖ کی پرورش کی ۔ جب اُن کا بھی انتقال ہوگیا تو پھر آپ ۖ کی کفالت کا ذمہ ابو طالب نے لیا اور پھر انہوں نے اپنی موت تک ساتھ دیا۔ اگرچہ ابو طالب ایمان تو نہیں لائے لیکن چونکہ وہ بنو ہاشم کے سردار تھے اس لیے آپۖ کو انہوں نے بھرپور قبائلی تحفظ فراہم کیا ۔ یوں اللہ نے آپۖ کی یتیمی کا سفر محفوظ انداز میں طے کرایا کہ یتیم ہونے کے باوجود بالآخر اسی معاشرے کی قیادت آپۖ نے سنبھالی ۔ چنانچہ اس آیت میں آپۖ کو تسلی کے انداز میں بتایا جارہا ہے کہ یاد تو کیجئے کہ اللہ نے یتیمی کے دور میں بھی آپ ۖ پر کتنے احسانات کیے اور آپ ۖ کو لاوارث نہیں چھوڑا ۔ ''اور آپۖ کوتلاشِ حقیقت میں سرگرداں پایا تو ہدایت دی!'' نبی ۖ کے بارے میں یہ طے ہے کہ وہ معصوم عن الخطاء ہوتا ہے ۔اس سے بچپن میں بھی کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا۔اُس کا کردار ، عمل اور افکار عین فطرت کے مطابق ہوتے ہیں ۔ اور وہ فطرت اسلام ہے یعنی توحید کہ صرف ایک اللہ کو ماننا ۔یعنی نبی نہ مشرک ہو سکتا ہے ، نہ کافر ہو سکتا ہے اور نہ ہی گناہ گار ہو سکتا ہے۔ اس کی فطرت سو فیصد سلامتی پر ہوتی ہے۔وہ جانتا ہے کہ کائنات کا رب توایک اللہ ہی ہے لیکن نزولِ وحی سے قبل ہدایت کی تفصیلات اس کے سامنے نہیں ہوتیں، وہ جاننا چاہ رہا ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے ؟انسانیت کا یہ قافلہ کس طرف جارہا ہے ؟معاشرے میں ظلم اور ناانصافی کا سد باب کیسے ہو سکتا ہے ؟ تو آپۖ بھی تلاش حقیقت میں سرگرداں تھے ، اصل ہدایت تک پہنچنا چاہ رہے تھے ، تمام علمی سوالات کا جواب چاہ رہے تھے۔ اس کے لیے آپۖ کئی کئی دن غار حرا میں جایا کرتے تھے ۔ہم تو کہیں گے کہ عبادت کے لیے جایا کرتے تھے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عبادت کی نوعیت کیا تھی ؟کیونکہ عبادت کا موجودہ طریقہ تو نازل نہیں ہوا تھا ، ابھی وحی تو اُتری نہیں تھی۔ اُم المومنین حضرت عائشہ کا قول ہے کہ آپۖ جو عبادت غار حرا میں فرمایا کرتے تھے وہ تجسس ، غور وفکر پر مبنی ہوتی تھی کہ کائنات کی تخلیق اور انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟اصل حقائق کیا ہیں ؟ یعنی آپۖ تلاش حقیقت میں سرگرداں تھے ۔ تو اللہ نے دوسرا احسان آپۖ پر یہ کیا کہ آپ ۖ پر حقائق کے دروازے کھول دئیے ۔ سورة الشوریٰ(آیت:52) میں فرمایا :''(اے نبیۖ !)آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے'' ''لیکن اس (قرآن) کو ہم نے ایسا نور بنایا ہے جس کے ذریعے سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔'' آگے تیسرے احسان کا ذکر آرہا ہے ۔ ''اور اس نے آپۖ کو تنگ دست پایا تو غنی کر دیا!'' یہاں بھی اللہ جتا رہا ہے کہ وہ رب آپۖ کوتنہا نہیں چھوڑے گا جس نے قدم قدم پر آپۖ کی راہنمائی کی ہے اور یہاں تیسرا احسان یہ بیان کیا جارہاہے کہ آپۖ کو تنگ دست پایا تو غنی کر دیا۔ وہ عالم اسباب میں کسی کو ذریعہ بناتا ہے اور آپ ۖ کا ذریعہ آپۖ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجة الکبریkکو بنایا ۔ جس طرح حضور ۖ کو قریش نے الصادق و الامین کاخطاب دیا ہوا تھا، اسی طرح حضرت خدیجہکوانہی قریش نے طاہرہ کا خطاب دیا ہوا تھا۔کیونکہ وہ انتہائی پاکباز خاتون تھیں ۔ امیر اتنی تھیں کہ ان کے تجارتی قافلے یمن سے شام تک پھیلے ہوئے تھے۔ لیکن پورے معاشرے میں ان کا خاص وصف یہ تھا کہ وہ پاکباز تھیں ۔ (جاری ہے) مکہ کے بڑے بڑے سردار ان سے نکاح کے خواہش مند تھے' مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا دل آپۖ کی طرف پھیر دیااور انہوںنے خود آپۖ کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔ آپ ۖ سیرت کے لحاظ سے سب سے اونچے مقام پر تھے لیکن مالدار نہیں تھے ۔ البتہ آپۖ کی خواہش ہوتی تھی کہ یتیموں ، بیواؤں ، مسافروں کی مدد کریں اور جو قافلے حج کے لیے آرہے تھے ان کی ضروریات کا خیال کریں ۔ خدمت خلق کا جذبہ اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو تھا ۔ چنانچہ حضرت خدیجہ سے نکاح کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آپۖ کو آپۖ کی خواہش کے مطابق تمام اسباب فراہم کر دئیے۔ سیرت کا ایک واقعہ ہے کہ حضور ۖ ایک مرتبہ پریشانی کی حالت میں گھر تشریف لائے تو حضرت خدیجہk نے پوچھا کہ پریشان کیوں ہیں۔ فرمایا : حاجیوں کا ایک قافلہ آیا ہے لیکن ان لوگوں کے پاس نہ کھانے کو کچھ ہے اور نہ ہی موسم کی مناسبت سے کپڑے ہمراہ ہیں ، انتہائی بُرے حالوں میں ہیں اور میرے پاس کچھ نہیں کہ میں ان کی مدد کر سکوں۔ چونکہ آپۖ حضرت خدیجہ کے مال کو اپنا نہیں سمجھتے تھے لہٰذا حضرت خدیجہ کو احساس ہو ا کہ حضورۖ کی پریشانی کیا ہے ۔ انہوں نے قریش کے سرداروں کو بلایا اور ان کے سامنے اپنے سارے مال کا ڈھیر لگا دیا اورکہا کہ گواہ رہنا میں نے اپنا سارا مال محمد ۖ کو دے دیا ہے۔ اب یہ ان کی ملکیت ہے ۔ چنانچہ اب آپ ۖ کو سہولت ہوگئی کہ خدمت خلق کا کام بھرپور طریقے سے کر سکیں ۔اس آیت میں اس پس منظر کو بیان کیا گیا ہے اور آپ ۖ کو احساس دلایا گیا ہے کہ وہ رب آپ ۖ کو اکیلا چھوڑنے والا نہیں ہے ۔ ''تو آپۖ کسی یتیم پر سختی نہ کریں۔'' حضور ۖ پر اللہ تعالیٰ کے تین بڑے احسانات کے ذکر کے بعد اب یہاں اسی مناسبت سے تین راہنما اُصول بتائے گئے ہیں ۔یتیم چونکہ معاشرے کا سب سے کمزور اور قابل رحم طبقہ ہوتا ہے لہٰذا سب سے پہلے آنحضور ۖ کی حیات مبارکہ کو یتیموں کے لیے ایک نمونہ بنایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے خود آپۖ کی سرپرستی فرما کر اُمت کے لیے ایک راہنما اُصول بنا دیا اور یہاں یہی اُصول بتایا جارہاہے کہ آپۖ بھی اسی طرح یتیموں کی سرپرستی کا اہتمام کریں اور معاشرے میں اُن پر سختی نہ ہونے پائے ۔ آپ ۖ تو خود یتیم تھے ، لہٰذا آپ ۖ کو احساس تو تھا ہی لیکن آپۖ رحمتہ اللعالمین بھی بنا کر بھیجے گئے ہیں ، آپ ۖ تو ہیں ہی احسان کرنے والے اور رحم دل ۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ آپۖ سے کسی یتیم پر سختی کا معاملہ ہو ۔ لہٰذا آپۖ کے ذریعے یہ اُمت کو بتایا جارہاہے کہ یتیم معاشرے کاقابل رحم طبقہ ہے اور سب سے زیادہ بے یارو مددگار ۔ لہٰذا اس کا اکرام ہو اور اس کے حقوق سلب نہ ہونے پائیں ۔ ''اور آپۖ کسی سائل کو نہ جھڑکیں۔'' سائل دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو دست سوال دراز کرتے ہیں۔ اگر کسی وقت آپ کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو آپ معذرت تو کر سکتے ہیں لیکن جھڑکیں مت۔ سائل کے حوالے سے ہمارے دین کی تعلیمات بہت ہی متوازن ہیں۔ ایک طرف دین میں مانگنے والوں کی انتہائی سرزنش کی گئی ہے تاکہ بے عملی و بے توقیری کا رحجان پیدا نہ ہو اور دوسری طرف یہ کہا گیا کہ اگر سائل مانگنے کے لیے آجائے تو خالی ہاتھ نہ جانے دو، تمہارے مال میں محتاجوں اور ضرورت مندوں کا بھی حق ہے ۔چنانچہ ان میں سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں میںدیکھا جائے کہ جو ضرورت مند اور محتاج ہیں ان کی مدد کی جائے۔ اسی طرح پڑوسیوں کے حقوق معین کر دئیے گئے ۔ چالیس گھر تک اگر کوئی پڑوسی بھوکا سوگیا اور تمہارے پاس ڈھیروں مال پڑا ہوا ہے تو تمہاری گردن پکڑی جائے گی ۔ زکوٰة کا معاملہ اپنی جگہ ہے لیکن اس کے علاوہ یہ حقوق بھی معین ہیں ۔ان کے بارے میں روز قیامت سوال کیا جائے گا ۔ اسی طرح سائلین کے بھی حقوق ہیں کہ ان کو بھی دے دیا کرو ۔ اگرچہ اس میں ایک سوال تو بنتا ہے ہمارے ہاں کے پروفیشنل بھکاری ، چمٹ جانے والے بھی ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ beggaryکو فروغ نہ ملے ۔لیکن: ''اور ان کے اموال میں مانگنے والے اور محتاج کا حق ہوتا ہے۔''(ذاریات:19) اس آیت میں بہت واضح حکم ہے کہ سائلین اور محرومین دونوں کا حق ہے ۔ لہٰذا اس سے واضح ہوتا ہے کہ بہتر یہی ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دیا جائے ۔لیکن اگر دینے کے لیے کچھ بھی نہ ہو تو بات نرم انداز سے کی جائے ۔ جھڑکا نہ جائے ۔ ''اور اپنے رب کی نعمت کا بیان کریں۔''

آپۖ پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کے تین لیول بیان ہوئے (آیت: 6 تا8) کہ ہم نے آپۖ کو یتیم پایا تو ٹھکانہ فراہم کردیا۔ آپۖ کو تنگ دست پایا تو غنی کردیا اور آپۖ کو تلاش حقیقت میں سرگرداں پایا تو ہدایت کے سارے دروازے کھول دئیے۔اسی حوالے سے شکر گزاری کے تین راہنما اُصول بھی بتا دیے گئے کہ یتیم پر سختی نہ ہونے پائے ، سائل علم کا طالب ہو یا مال کا اُس کو جھڑکا نہ جائے اور تیسری بات یہ بیان ہوئی ہے کہ آپۖ کو قرآن کی صورت میں جو عظیم نعمت عطا ہوئی ہے اس پر شکر کا تقاضا ہے کہ آپۖ اس کی اس نعمت کاچرچا کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلائیں۔اس حکم میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ ہدایت کی نعمت کو اگر انسان اپنی ذات تک محدود کر کے بیٹھ رہے تو اس کا یہ طرزِعمل بخل کے مترادف ہو گا۔ لہٰذا جس کسی کو اللہ تعالیٰ ہدایت کی دولت سے نوازے اسے چاہیے کہ اس خیر کو عام کرے اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کا صحیح فہم اور عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved