سیرت مصطفی ۖ کے اہم گوشے
  17  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) مکہ کے بڑے بڑے سردار ان سے نکاح کے خواہش مند تھے' مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا دل آپۖ کی طرف پھیر دیااور انہوںنے خود آپۖ کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔ آپ ۖ سیرت کے لحاظ سے سب سے اونچے مقام پر تھے لیکن مالدار نہیں تھے ۔ البتہ آپۖ کی خواہش ہوتی تھی کہ یتیموں ، بیواؤں ، مسافروں کی مدد کریں اور جو قافلے حج کے لیے آرہے تھے ان کی ضروریات کا خیال کریں ۔ خدمت خلق کا جذبہ اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو تھا ۔ چنانچہ حضرت خدیجہ سے نکاح کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آپۖ کو آپۖ کی خواہش کے مطابق تمام اسباب فراہم کر دئیے۔ سیرت کا ایک واقعہ ہے کہ حضور ۖ ایک مرتبہ پریشانی کی حالت میں گھر تشریف لائے تو حضرت خدیجہk نے پوچھا کہ پریشان کیوں ہیں۔ فرمایا : حاجیوں کا ایک قافلہ آیا ہے لیکن ان لوگوں کے پاس نہ کھانے کو کچھ ہے اور نہ ہی موسم کی مناسبت سے کپڑے ہمراہ ہیں ، انتہائی بُرے حالوں میں ہیں اور میرے پاس کچھ نہیں کہ میں ان کی مدد کر سکوں۔ چونکہ آپۖ حضرت خدیجہ کے مال کو اپنا نہیں سمجھتے تھے لہٰذا حضرت خدیجہ کو احساس ہو ا کہ حضورۖ کی پریشانی کیا ہے ۔ انہوں نے قریش کے سرداروں کو بلایا اور ان کے سامنے اپنے سارے مال کا ڈھیر لگا دیا اورکہا کہ گواہ رہنا میں نے اپنا سارا مال محمد ۖ کو دے دیا ہے۔ اب یہ ان کی ملکیت ہے ۔ چنانچہ اب آپ ۖ کو سہولت ہوگئی کہ خدمت خلق کا کام بھرپور طریقے سے کر سکیں ۔اس آیت میں اس پس منظر کو بیان کیا گیا ہے اور آپ ۖ کو احساس دلایا گیا ہے کہ وہ رب آپ ۖ کو اکیلا چھوڑنے والا نہیں ہے ۔ ''تو آپۖ کسی یتیم پر سختی نہ کریں۔'' حضور ۖ پر اللہ تعالیٰ کے تین بڑے احسانات کے ذکر کے بعد اب یہاں اسی مناسبت سے تین راہنما اُصول بتائے گئے ہیں ۔یتیم چونکہ معاشرے کا سب سے کمزور اور قابل رحم طبقہ ہوتا ہے لہٰذا سب سے پہلے آنحضور ۖ کی حیات مبارکہ کو یتیموں کے لیے ایک نمونہ بنایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے خود آپۖ کی سرپرستی فرما کر اُمت کے لیے ایک راہنما اُصول بنا دیا اور یہاں یہی اُصول بتایا جارہاہے کہ آپۖ بھی اسی طرح یتیموں کی سرپرستی کا اہتمام کریں اور معاشرے میں اُن پر سختی نہ ہونے پائے ۔ آپ ۖ تو خود یتیم تھے ، لہٰذا آپ ۖ کو احساس تو تھا ہی لیکن آپۖ رحمتہ اللعالمین بھی بنا کر بھیجے گئے ہیں ، آپ ۖ تو ہیں ہی احسان کرنے والے اور رحم دل ۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ آپۖ سے کسی یتیم پر سختی کا معاملہ ہو ۔ لہٰذا آپۖ کے ذریعے یہ اُمت کو بتایا جارہاہے کہ یتیم معاشرے کاقابل رحم طبقہ ہے اور سب سے زیادہ بے یارو مددگار ۔ لہٰذا اس کا اکرام ہو اور اس کے حقوق سلب نہ ہونے پائیں ۔ ''اور آپۖ کسی سائل کو نہ جھڑکیں۔'' سائل دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو دست سوال دراز کرتے ہیں۔ اگر کسی وقت آپ کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو آپ معذرت تو کر سکتے ہیں لیکن جھڑکیں مت۔ سائل کے حوالے سے ہمارے دین کی تعلیمات بہت ہی متوازن ہیں۔ ایک طرف دین میں مانگنے والوں کی انتہائی سرزنش کی گئی ہے تاکہ بے عملی و بے توقیری کا رحجان پیدا نہ ہو اور دوسری طرف یہ کہا گیا کہ اگر سائل مانگنے کے لیے آجائے تو خالی ہاتھ نہ جانے دو، تمہارے مال میں محتاجوں اور ضرورت مندوں کا بھی حق ہے ۔چنانچہ ان میں سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں میںدیکھا جائے کہ جو ضرورت مند اور محتاج ہیں ان کی مدد کی جائے۔ اسی طرح پڑوسیوں کے حقوق معین کر دئیے گئے ۔ چالیس گھر تک اگر کوئی پڑوسی بھوکا سوگیا اور تمہارے پاس ڈھیروں مال پڑا ہوا ہے تو تمہاری گردن پکڑی جائے گی ۔ زکوٰة کا معاملہ اپنی جگہ ہے لیکن اس کے علاوہ یہ حقوق بھی معین ہیں ۔ان کے بارے میں روز قیامت سوال کیا جائے گا ۔ اسی طرح سائلین کے بھی حقوق ہیں کہ ان کو بھی دے دیا کرو ۔ اگرچہ اس میں ایک سوال تو بنتا ہے ہمارے ہاں کے پروفیشنل بھکاری ، چمٹ جانے والے بھی ہوتے ہیں۔ ''اور اپنے رب کی نعمت کا بیان کریں۔''

آپۖ پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کے تین لیول بیان ہوئے (آیت: 6 تا8) کہ ہم نے آپۖ کو یتیم پایا تو ٹھکانہ فراہم کردیا۔ آپۖ کو تنگ دست پایا تو غنی کردیا اور آپۖ کو تلاش حقیقت میں سرگرداں پایا تو ہدایت کے سارے دروازے کھول دئیے۔اسی حوالے سے شکر گزاری کے تین راہنما اُصول بھی بتا دیے گئے کہ یتیم پر سختی نہ ہونے پائے ، سائل علم کا طالب ہو یا مال کا اُس کو جھڑکا نہ جائے اور تیسری بات یہ بیان ہوئی ہے کہ آپۖ کو قرآن کی صورت میں جو عظیم نعمت عطا ہوئی ہے اس پر شکر کا تقاضا ہے کہ آپۖ اس کی اس نعمت کاچرچا کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلائیں۔اس حکم میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved