انتہائی اہم مگر نظرِ کرم سے محروم
  17  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

مجھے آج کالم لکھتے ہوئے دو لوگوں کے نام کے ساتھ مرحوم لکھتے ہوئے بڑا دکھ ہو رہا ہے۔ سب سے پہلے مولانا محمد اکرم اعوان آف منارہ جن کی پہچان دینی، روحانی اور نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں ہوتی تھی۔مجھے وہ بیٹا نہ صرف کہتے تھے بلکہ سمجھتے بھی تھے۔میں اکثر اسلام آباد سے ان کے دولت خانے پر حاضر ہوتا تھا۔بعض اوقات میرے ساتھ مسلمان ممالک کے سفراء بھی ہوتے تھے ۔ وہ بھی ان کے علم سے مستفید ہوتے تھے۔ان میں شیعہ، سنی، وہابی، دیوبندی حتیٰ کہ سب فرقوں کے لوگ ہوتے تھے۔مولانا محمد اکرم اعوان دراز قد اوردلیر اعوان ہونے کے ساتھ مذہبی تعلیم پر بھی مکمل عبورحاصل رکھتے تھے۔ وہ تمام مسالک سے ہٹ کر خالص مسلمان تھے۔ کیونکہ کئی واقعات کا میں چشم دید گواہ ہوں کہ وہ سفیر حضرات یا ان کے سیکرٹریز بڑے متنازعہ سوالات کرتے لیکن مولانا انتہائی دھیمے انداز میں بہت مضبوط دلائل سے انہیں لا جواب کر دیتے۔مولانا اردو کے علاوہ عربی، فارسی اور انگریزی زبان بڑی فراوانی سے بول اور سمجھ سکتے تھے۔پاکستان تعینات ہونے والے سفراء راستے میں مجھے بتاتے تھے کہ ہم نے مولانا کی شہرت اپنے اپنے ممالک میں سن رکھی تھی۔اس لئے ہم نے آتے ہی فیصلہ کیا کہ اس مردِ مجاہد کے پاس خود حاضر ہو کر ملاقات کا شرف حاصل کریں گے۔مولانا صاحب نے 7جلدوں پر مشتمل انتہائی خوبصورت جلد میں قرآن پاک کی تفسیر لکھی۔جس کو پڑھنے والا اسی میں ڈوب جاتا ہے۔اسی طرح خوبصورت جلدوں میں قرآن شریف کا آسان ترجمہ بھی کیا۔ان کے علاوہ سینکڑوں کتابیں لکھیں۔جو ہر مسلک کے لوگوں میں یکساں مقبول تھیں ۔اور انہی کی وجہ سے اللہ تبارک تعالیٰ نے انہیں دائمی عزت و احترام سے نوازا۔جمعرات کی رات ان کی روح پرواز کر گئی اور بعد نماز جمعہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔اسلام آباد سے فردوس عاشق اعوان سابق وزیر اور میں اکٹھے جنازے کے لئے گئے۔محترمہ خواتین میں اندر مولانا صاحب کی چارپائی کے پاس گئیں اور میں جنازے میں شریک ہوا۔جنازے میں کم و بیش 30ہزار سے بھی شاید کچھ زیادہ لوگوں نے شرکت کی ہوگی اور اندر خواتین کے متعلق فردوس عاشق نے بتایا کہ تقریباً8ہزار خواتین تھیں ۔پھر جو اندر نظم و ضبط جب خواتین چہرے کی زیارت کر رہی تھیں یا باہر جنازے کے وقت صفیں باندھتے وقت دیکھا گیا ۔ مولانا صاحب کے فدائی مرد اور خواتین جس طرح انتظامات کئے یہ بھی تاریخ کا ایک عظیم باب ہوگا۔مولانا محمد اکرم اعوان ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک سنہری عہد کا نام ہے ۔ ان کا آبائی گاؤں ستی تھا۔جسے چھوڑ کر وہ منارہ آباد ہوگئے۔وہاں کالج اور دینی درسگاہیں تعمیر کرائیں ۔ جہاں جدید تعلیم کا انتظام کیا گیا۔مولانا صاحب کا خطبہ سننے کے لئے پورے پاکستان سے لوگ آتے تھے۔اللہ تبارک تعالیٰ مولانا صاحب کو جنت میں بھی اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا۔اللہ نے ان کی شخصیت میں رعب، دبدبہ، خلوص، محبت ، شفقت، گفتگو میں دھیما پن اور قد کاٹھ نواز رکھا تھا۔وہ ہزاروں لوگوں میں بھی دور سے نظر آتے تھے۔اور ان کے ساتھ گفتگو کرنے کو دل چاہتاتھا۔دوسری بڑی قدآور اور خوبصورت سیاستدان ملک نعیم اعوان کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا۔ان کا گاؤں مولانا محمد اکرم اعوان کے گاؤں سے صرف چار کلو میٹر دور تھا۔خوبصورت شکل و مزاج کے مالک تھے۔جرأ ت ، دلیری اور دھڑلے سے سیاست کی۔چار دفعہ الیکشن میں کامیاب ہوئے اور وزیر بنے۔لیکن پھر 1997ء میں ایک موذی مرض کا شکار ہو گئے۔اور یہ دونوں پونے سات فٹ قد کے اور ان تین چار دنوں میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔اللہ ان کو بھی جنت الفردوس میں جگہ دے۔حکومتِ پاکستان نے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے ، نئی سڑکیں ، موٹرو ے بنانے ، میٹرو چلانے اور ٹرینیں چلانے کے لئے بہت بڑے بڑے منصوبوں پر کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔خاص کر گوادراور سی پیک کا تاریخی کارنامہ اس حکومت کا بہت بڑا عزاز ہے۔لیکن ایک طرف توجہ کی سخت ضرورت ہے جو پاکستان میں رزق کے دروازے بھی کھولے گا اور نئی نسل کو پاکستان کے چپے چپے سے پیارہو جائے گا۔سیاست ملک بھر میں صوبائی تعصب ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔فی الحال سیاست کا معیار پاکستان میں اس طرح نہیں ہے جیسے سیاست پر توجہ ہونی چاہیئے۔پی ٹی ڈی سی کے ہوٹل اور موٹل نہایت گندے اور مہنگے ہیں ۔ خانسامے بالکل نکمے ہیں ۔پی ٹی ڈی سی کے ہوٹلوں کا معیار بلند کرنے کی سخت ضرورت ہے۔اور ان کے ریٹ بھی مناسب رکھے جائیں ۔اس کے علاوہ اور جو سرمایہ کار سیاحتی مقامات پر سیاحوں کو بہترین سہولیات مہیا کریں انہیں پہلے پانچ سال کے ٹیکس میں خاصی سہولتیں فراہم کی جائیں ۔خاص طور پرپاکستانی عوام بلوچستان کی سیر و تفریح پر جانا چاہتے ہیںاور وہاں لاتعداد ایسے مقامات ہیں جو قابلِ بیان تک خوبصورت اور پر کشش ہیں ۔لیکن بدقسمتی سے بلوچستان حکومت کی نظرِ کرم سے محروم ہیں ۔بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ بلوچستان حکومت نے آج تک سیاحت پر بالکل ہی توجہ نہیں دی۔ جس طرح آجکل بلوچستان عالمی شہرت حاصل کرتا جا رہا ہے اور پوری دنیا کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں ۔اسی طرح پاکستانی عوام بھی اپنی اپنی فیملی کو لے کر بلوچستان کی سیر کو جانا چاہتے ہیں ۔لیکن ابھی تک پورے بلوچستان میں کوئٹہ کے علاوہ کوئی بھی ایسا ہوٹل یا موٹل نہیں جہاں کوئی دوسرے ممالک کے لوگ یا سفید پوش لوگ رات بسر کر سکیں ۔خیبر پختونخواہ میں سیر و سیاحت کے لئے آئیڈیل مقامات ہیں لیکن جس طرح 15/10سال پہلے لوگ بے خوف و خطر وہاں سیر کے لئے جاتے تھے اب وہاں بھی خوف محسوس کرتے ہیں اور ہوٹلوں کا معیاربھی دن بدن گرتا جا رہا ہے۔وفاقی حکومت سمیت تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیئے کہ سیاحت کے کام پر خصوصی توجہ دے کر اس کو زیادہ سے زیادہ وسعت دی جائے۔اب اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان اس پوزیشن پر پہنچ چکا ہے کہ دنیا بھر کے سیاح پاکستان کا رخ کریں گے۔اور پھر پاکستانی بھی سیر و سیاحت کے شوقین ہیں ۔لیکن وہ سیر کے لیے مری، دامنِ کوہ، مونال، جھیل سیف الملوک، ضلع ہزارہ، مانسہرہ اور سوات کا کتنی بار چکر لگائیں گے ۔ ہمیں سیاحت کے لئے نئے نئے مقام تلاش کرنے ہونگے۔پاکستان کی ترقی ، پاکستانیوں کے دلوں سے صوبائی تعصب مٹانے، آپس میں پیار و محبت کے رشتے بڑھانے ، نئی نسل کے دلوں میں پاکستان کے کونے کونے کی محبت ڈالنے کیلئے نئے سیاحتی مقام تلاش کرکے جدید سہولتوں سے آ راستہ ہوٹل و موٹل بنانے کے لئے وہاں بہترین سڑکیں تعمیر کر کے آسان ترین وسائل کے ذرائع مہیاکرنے ہونگے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved