اسلامی سربرہ کانفرنس سے مسلم امہ کی مایوسی
  19  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

48سال قبل جب ایک جنونی آسٹریلوی عیسائی، ڈینس مایکل روہن نے 8سو سال پرانی مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی تھی اور مسجد کا منبر اور چوبی چھت خاکستر کر دی تھی تو اس وقت سارے عالم اسلام میںزبردست احتجاج بھڑک اٹھا تھا ۔یروشلم کے مفتی امین الحسینی نے عالم اسلام کے سربراہوں کو للکارہ تھاکہ وہ مسلمانوںکے قبلہ اول کی انتہائی مقدس مسجد پر حملہ کا بھرپور جواب دیں ۔ مفتی یروشلم کی اس للکار اورمسلم امہ کے شدید غیض و غضب کے پیش نظر اس سانحہ کے ایک ماہ بعد مراکش کے دارالحکومت رباط میں پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی تھی ۔ میں یہ کانفرنس کَور کرنے کے لئے رباط میں تھا۔اس وقت مسلم سربراہوں کا عزم دیکھنے کے قابل تھا لیکن افسوس کہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے پہلے ہی کانفرنس میں ہندوستان کے وفد کی شرکت پر تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اسی روز گجرات کے شہر احمد آباد میں خونریز مسلم کُش فسادات کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس کے باوجود بیشتر مسلم سربراہوں نے کانفرنس میں ہندوستان کی شرکت کی حمایت کی تھی ۔ ان کی دلیل تھی کہ ہندوستان اسلامی ملک نہ سہی لیکن وہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور خلافت کے تحفظ کی تحریک میں ہندوستان کے مسلمانوں نے اہم رول ادا کیا تھااس لئے ہندوستان کوکانفرنس میں شریک کیا جائے۔ لیکن جب پاکستان کے صدریحییٰ خان نے کانفرنس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا اور اس پر ڈٹ گئے تو ہندوستان کے وفد کو صرف مبصر کی حیثیت سے شرکت کی رعایت دی گئی جس کے بعد کانفرنس کا انعقاد ممکن ہوا۔ گو یہ خوش آیند بات تھی کہ اسلامی سربراہوں کی اس پہلی کانفرنس میں یہ طے کیا گیا کہ اقتصادیات ، سائینس ، ثقافت اور روحانی شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے مسلم ممالک مشترکہ جدو جہد کریں گے لیکن یہ امر مایوس کن تھا کہ اس کانفرنس میں جو مسجد اقصی میں آتش زدگی کے سانحہ سے پیدا شدہ صورت حال پر غور کرنے کے لئے بلائی گئی تھی ، مسجد اقصیٰ اور گنبد خضریٰ کے تحفظ اور فلسطینیوں کو اسرائیل سے آزاد کرانے کے لئے کوئی تدبیر نہ سوچی گئی اور نہ کوئی لائحہ عمل وضع کیا گیا۔ مسلم امہ کو بڑی توقعات تھیں کہ پہلی بار اسلامی دنیا کے 57ممالک کے سربراہ جمع ہوئے ہیں تو فلسطین کی آزادی اور یروشلم کے اسلامی تشخص کے تحفظ کے بارے میں کوئی ٹھوس فیصلے کریں گے۔ لیکن مسلم سربراہوں کے اس قدر بودے رد عمل نے مسلم امہ کو سخت مایوس کیا۔ رباط کی سربراہ کانفرنس کے چھ مہینے بعد جدہ میں مسلم وزراء خارجہ کے اجلاس میں اسلامی کانفرنس کی تنظیم OICقائم کی گئی۔ پھر 31سال گذر گئے ، اس دوران امریکا کی کانگریس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کی ، ارض فلسطین پر مستقل قبضہ کرنے کے لئے بڑے پیمانہ پر یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا، اور محصور غزہ پر 20 حملے ہوئے ،کشمیر میں ہندوستان کی فوج تحریک آزادی کو بری طرح سے کچلتی رہی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتی رہی،بوسنیا میں مسلمانوں کاقتل عام ہوتا رہا اور عراق پر حملہ کے بعد لیبیا میں قذافی کا تختہ الٹنے کے لئے امریکا ، برطانیہ اور فرانس نے فوجی مداخلت کی لیکن OIC ایسی خاموش رہی کہ جیسے کہ اس کا وجود ہی نہیں ۔ آخر کار 2011میں OICکا نام بدلنے کا فیصلہ کیا گیا اور اسے اسلامی تعاون کی تنظیم کا نام دیا گیا۔ یوں اسے بے اختیار تنظیم بنا دیا گیا۔ مارچ 2015میں بہت سے مسلم ممالک کو سخت حیرت ہوئی جب کسی صلاح مشورہ کے بغیر OICنے یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں فوجی مداخلت کی حمایت کی۔ مسجد اقصیٰ میں آتش زنی کے سانحہ کے نصف صدی کے بعد ، جب یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تو پورے عالم اسلام میں احتجاج کی آگ بھڑک اٹھی اس صورت حال کے پیش نظر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی تحریک پر 13دسمبر کو استنبول میں اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ لیکن کئی اعتبار سے یہ اسلامی سربراہ کانفرنس مسلم امہ کے لئے مایوس کن رہی۔ اول تو کانفرنس میں سعودی عرب، مصر اور مراکش کے سربراہوں کی عدم شرکت مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو عیاں کرتی تھی جب کہ رباط میں پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس کے انعقاد میں سعودی عرب کے شاہ فیصل، مصر کے انوار سادات اور مراکش کے شاہ حسن پیش پیش تھے ۔ استنبول کانفرنس سے مسلم امہ کو توقع تھی کہ ٹرمپ کے اعلان پر پورے عالم اسلام میں جو شدید احتجاج اور ناراضگی بھڑکی ہے اس کے پیش نظر کانفرنس میں یروشلم کے بارے میں ٹرمپ کے اعلان کے جواب میں کوئی عملی اقدام اٹھایا جائے گااور فلسطینیوں کو اسرائیل کے تسلط سے آزاد کرانے کے لئے جدوجہد کا کوئی قابل عمل منصوبہ تیار کیا جائے گا ، عام توقع تھی کہ استنبول کانفرنس میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی بائیکاٹ کا فیصلہ کیا جائے گااور کم از کم امریکا سے اسلامی ممالک کے سفیروں کی واپسی اور ٹرمپ کے اس اعلان کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے اور ایک مقبوضہ علاقہ کے بارے میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن ایسا محسوس ہوا کہ اسلامی سربراہ تھک ہار گئے ہیں۔ استنبول میں اسلامی سربراہ کانفرنس کے اعلانیہ میں صرف اتنا کہا گیا کہ 57ملکوں کی اسلامی سربراہوں کی تنظیم ، مشرقی یورشلم کو فلسطین کی ''آزاد مملکت''کا دارالحکومت تسلیم کرتی ہے ۔ یہ عجیب و غریب اعلان ہے کیونکہ ابھی تو فلسطین کی آزاد مملکت وجود میں نہیں آئی ہے اور حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو مستقبل قریب میں اس کا امکان نظر نہیں آتا۔ جہاں تک مسلم ممالک کی طرف سے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی بائیکاٹ کا سوال ہے تو اس کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ لوگ کہتے ہیںکہ اسلامی ممالک امریکا کے خلاف کیا اقتصادی بائیکاٹ کر سکتے ہیں جب کہ خود عرب ممالک ، قطر کا اقتصادی بائیکاٹ کر رہے ہیں۔مصر میں عبد الفتح السیسی کی فوجی حکومت اپنی بقا کے لئے امریکا کی حمایت او ر امریکی اسلحہ کی دست نگر ہے۔ اور سعودی عرب کی قیادت میں متعدد عرب ممالک ایران کے خلاف معرکہ آرائی میں شامل ہیں اور کھلم کھلا اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں۔

بہت سے مغربی مبصرین کی رائے ہے کہ OICکبھی بھی دنیا کے ایک ارب اسی کروڑ مسلمانوں کی مضبوط ، طاقت ور اور با اثر تنظیم نہیں رہی ۔ اسے کبھی بھی عالمی طاقت تصو ر نہیں کیا گیااور اب بھی اس تنظیم کے بارے میں نہیں کہا جاسکتا کہ یہ واقعی مسلم امہ کی ترجمانی کرتی اور ان کی امیدوں ، تمناوںاور خواہشات کی عکاس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استنبول کی اسلامی سربراہ کانفرنس مسلم امہ کے لئے مایوس کن رہی ہے۔ کہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد کہ ہے مردِ مسلمان کا لہو سرد


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved