محسن ملتان سیّد یوسف رضا گیلانی
  20  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

محسنِ ملتان سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے تنِ مردہ میں پھر سے جان ڈال دی ہے اور وہ لوگ جو پی پی پی کو سیاسی یتیموں کی پارٹی کہتے تھے ان کے ہونٹوں پر قفل لگ گئے کیوں نہ لگتے کہ یہ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا کی شب و روز کی محنت ہی نہیں انتھک جدوجہد تھی کہ ملتان میں پی پی پی کا ایک بھر پور جلسہ ہوا ،جس میں بلاول زرداری بھٹو نے کھل کر سرائیکی وسیب کے عوام سے دکھ بانٹے ناصرف دکھ بانٹے بلکہ انہیں یہ یاد دلایا کہ سرائیکی صوبے کا مسئلہ اسمبلی کے فورم پر پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی ہی نے اٹھایا تھا اور آخر کو یہی اس وعدے کو بنھائے گی ،انہوں نے واشگاف الفاظ میں یہ کہا کہ نواز حکومت نے سرائیکی صوبے کو کبھی مسئلہ نہیں گردانا اور نہ شہباز شریف کے اندر یہ حوصلہ ہے کہ وہ پنجاب کی تقسیم کاکڑوا گھونٹ بھر سکے ،حقیقت حال بھی یہی ہے کہ مسلم ن کی کوئی حکومت کسی ایسے مطالبے پر سنجیدگی سے سوچ بھی نہیں سکتی کہ سرائیکی خطے کی عوام کو اپنی غلامی کے چنگل سے آزاد کرے کہ یہی وہ خطہ ہے جس میں کپاس کی صورت چاندی اگتی ہے اور گندم کی صورت سونا اسی دھرتی کے سینے میں آمجیسا رسیلا پھل ہے جو ہر سال خطیر زر مبادلہ بڑھانے کا سبب بنتا ہے، اسی خطے میں گنا اگتا ہے جس سے حکمران خاندان کی چینی کی ملیں آباد رہتی ہیں اور دشمن ملک کے ساتھ تعلق کی بنیادیں مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے اور کسی بھی خطرے کی صورت میں پناہ کے راستے بھی کھلے رہتے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے پیپلز پارٹی کی چھولداری تلے مستقل پناہ لیکر وفا کی ایک نئی تاریخ بھی رقم کی ہے کہ عام طور پر سرائیکی وسیب کے گیلانی ،قریشی ،گردیزی،لغاری ،مزاری اور کھوسے ہوا رخ دیکھ کر پیٹھ پھیر لیتے ہیں ،چڑھتا ہوا سورج ہی ان کی پوجا کامہبط ہوتاہے،مگر سید یوسف رضا گیلانی اس وسیب کے جاگیرداروں خصوصاََ اور پیروں میں پہلا پیر ہے جس نے اپنے مریدوں کے دکھوں کی سنبھال کی ذمہ داری کو سنجیدگی سے نبھایا ،یہی نہیں تاریخ میں پہلی بار اپنے آبائی شہر کے ناصرف نین نقش بدلے بلکہ اس کے باسیوں کی تقدیر بدلنے میں بھی مثالی کردار ادا کیا ،جس کی اسے کڑی سزا بھگتنی پڑی ،مگر اس نے نہ تو اپنے خطے کے عوام سے رخ بدلا نہ ہی ایک عوامی پارٹی کا در چھوڑ کر مقتدرہ کے حضور ماتھا ٹیکنے کی راہ تلاشنے کی کوشش کی جبکہ ان کے حریف شاہ محمود قریشی نے پی ٹی آئی میں جانے سے پہلے رائیونڈ یاترا کی اور وہاں سے کچھ نہ بن پڑا تو تحریک انصاف میں پناہ لی جو تاریخ کا کاٹھ کباڑ جمع کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دور کو سرائیکی وسیب کے لئے تارٰیخ کا سنہری دور بنایا یہ اور بات کہ٣١٠٢ء میں اس وسیب نے وفاداری نہ نبھائی ،یہاں تک کہ اس کا ایک بیٹا اغوا کاروں کے ہتھے ایسا چڑھا کہ لگ بھگ تین سال سید یوسف رضا گیلانی اور ان کی شریک حیات کونجوں کی طرح کُرلاتی رہیں اور پھر ایک دن تقدیر مہر بان ہوئی اور سید علی رضا گیلانی زندہ سلامت ماں باپ سے آن ملے سید یوسف رضا چاہتے تو اسی کو جواز بنا کر اپنا سیاسی قبلہ بدل لیتے اور حکمران جماعت میں شامل ہوکر غم کی لمبی رات کے کرب سے بچ جاتے ،اس بارے چہ میگوئیوں کے بازار بھی بہت گرم ہوئے مگر پی پی پی کی وفا کا دامن انہوں نے نہیں چھوڑا ،یہی وجہ ہے کہ چیئرمین پی پی پی بلاول زرداری بھٹو نے ان پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کی تمام تر ذمہ داری انہیں سونپی اور انہوں نے دن رات ایک کرکے قیادت کو یہ باور کرا دیا کہ سرائیکی وسیب میں پی پی پی آج بھی کل کی طرح زندہ و تابندہ ہے،اگر انتخابات کے موقع پر امیدوار کھڑے کر نے میں ،لاابالی ،بے اعتدالی اور اقربا پروری سے کام نہ لیا گیا تو پی پی پی بجا طور پر پورے قد سے کھڑے ہونے کے قابل ٹھہرے گی اور ملتان شہر جو ریت کے ذروں کی طرح اس کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے پھر سے پی پی پی کو اس کا کھویا ہوا وقار واپس دے دے اور یہ سب سید یوسف رضا گیلانی کی محنت کا ثمر ہوگا ۔

پیپلز پارٹی کا پندرہ دسمبر کا جلسہ واقعتاََ ایک کامیاب سیاسی شو تھا ،نوجوان چیئرمین بلاول بھٹونے تمام سیاسی قوتوں خصوصاََ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو چیلنج کیا کہ اس بار وہ ان کی بہت ساری وکٹیں گرا کے چھوڑیں گے۔یہ بظاہر ایک دعویٰ ہے مگر یہ اس وقت حقیقت کا روپ بھی دھار سکتا ہے جب بلاول زرداری جنوبی پنجاب ،سرایئکی وسیب کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے رکھیں ،خطے کے عوام کی دلجوئی اور قدردانی کے لئے پے درپے دورے کریں ،اس سے جہاں وسیب کے عوام کے دلوں میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی یاد جاگے گی وہاںسابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی وسیب کیلئے انجام دی جانے والی خدمات بھی نئے سرے سے اجاگر ہونگی۔پی پی پی کے سابق ممبر صوبائی اسمبلی احمد حسین دیہڑجو سید یوسف رضا گیلانی کے دست راست ہوا کرتے تھے ایک با رپی پی پی کو خیر باد کہہ کر گیلانی صاحب کی کوشش سے پی پی پی میں آگئے مگر اب کی بار وہ ایک بار حریف بن کر حلقہ ١٥١این اے سے تحریک انصاف کی طرف سے سید یوسف رضا کے مد مقابل ہونگے ،مگر گیلانی خاندان کی قربانیوں کے روبرو لگتا ہے سب ہیچ ٹھہرے گا ہاں مگر وفاقی وزیر زراعت سکندربوسن کے بارے سنا ہے وفاداریاں بدلنے کے موڈ میں ہیں جبکہ موصوف کے داماد اور برادری کے بہت سارے اہم لوگ پی ٹی آئی کے پلڑے میں وزن ڈالے ہوئے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved