مذاکرات امن کاڈھونگ
  22  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

قیام لاہورمیں جب ایک شاہراہ سے گزرہواتوا چانک بیٹے نے جناب علامہ اقبال کی قیام گاہ کی طرف اشارہ کیاتومیں نے اسے گاڑی روکنے کااشارہ کیااوربغوراس کودیکھ کراس عمارت کے ان تمام باسیوں کویادکرنے لگاجوکبھی حکیم الامت سے محوکلام ہوتے تھے اورمسلم امہ کے مصائب دورکرنے کیلئے شب وروزسوچ وبچارمیں غلطاں رہتے تھے۔علامہ اقبال کاتعلق بھی میرے مادرِ وطن کشمیرسے تھااورمیں اس سوچ میں غلطاں تھاکہ آج اگرعلامہ اقبال موجودہوتے توکشمیرمیں نقدجاں کے نذرانے پیش کرنے والے حریت پسندوں کی بابت اپنے دردِ دل کوکیسے بیان کرتے۔ہم سب کے رہنماء ورہبرحکیم الامت اپنے ایک کشمیری عاشق سیدعلی گیلانی جنہوں نے اپنی ساری زندگی ان کے فلسفۂ خودی کے مطالعہ کے بعدکشمیر کی آزادی کیلئے وقف کررکھی ہے اوراب ایک مرتبہ پھراپنے دیگرساتھیوں سمیت جنہوں نے مذاکرات امن کے نام پر مودی سرکارکے نئے ڈھونگ کوبھی مستردکر دیا ہے ، کشمیر کی بہادر اور غیور بیٹی آسیہ اندرابی کی عزیمت کودیکھ کریقینا نازاں ہوتے کہ یہ ہیں جنہوں نے میرے پیغام کواپنے سینے سے لگاکرامت مسلمہ کیلئے تابناک مثالیں قائم کی ہیں، جنہوں نے اپنے خون سے آزادی کے چراغ جلاکرفتح مبین کے راستے کومنتخب کیاہے۔ مودی سرکارنے ایک مرتبہ پھراپنے گماشتے دنیشورکومذاکرات کے نام پراقوام عالم کودھوکہ دینے کیلئے ایک ڈرامہ رچارکھاہے جس کے جواب میں تمام حریت قیادت نے اس دھوکہ دہی کے عمل کومسترد کرتے ہوئے نہ صرف ملاقات سے انکارکردیاہے بلکہ یک زبان اپنے مؤقف کااعادہ کیاہے کہ کشمیرکیلئے کبھی بھی کسی مذاکرات میں پاکستان کوالگ تھلگ رکھنا، یہ سراسرایک بے سودعشق ہے۔کشمیرکے سن رسیدہ اورانتہائی مخلص قائداورتحریک حریت کے سالارِکارواں جناب سیدعلی گیلانی کی اقامت گاہ حیدرپورہ سرینگرمیں ایک اہم اجلاس کے بعد حریت کانفرنس نے مذاکراتی مشن کووقت کابدترین ضیاع قراردیتے ہوئے کہاکہ کشمیریوں کااصل ہدف بھارت کے جابرانہ تسلط سے مکمل آزادی ہے اور اہلیان کشمیرکبھی بھی مکمل خودمختاری کے سواکسی اورحل کے حق میں نہیں رہے ۔اس آ ہنی مؤقف کے سامنے نام نہادامن مذاکرات کاشوشہ کھڑاکرکے بھارت دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش میں ہرگزکامیاب نہیں ہوسکتا،اس لئے اس بات کی توقع رکھناکہ وہ تنازع کشمیرکے حل کے سلسلے میں کوئی پیش قدمی نہ کریں اور خودارادیت کامطالبہ کرنے والوں سے بات کریں''خیال است ومحال است وجنوں''۔ مودی نے سابقہ وزیرداخلہ چدم برم کے کشمیرمیں اندرونی خودمختاری کے بیان کی جوبات دہرائی ہے،کے جواب میں کہاتھاکہ جموں وکشمیرمیں بھارت کے مفادات کاتحفظ کرتے ہوئے فوجی مررہے ہیں،خودمختاری کی بات کیوں کی گئی،پرکشمیری رہنماء نے اپنے ردّعمل میں کہاکہ بھارتی وزیراعظم کے بیان سے ہمارے مؤقف کی تائیداور تقویت حاصل ہورہی ہے کہ کشمیرواقعی ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے جس کاواحدحل اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کے مطابق ہوناضروری ہے جس کااقراربھارت نے ساری دنیاکے سامنے کیاہے، اس سے قبل بھارتی نامزد جاسوس مذاکرات کارسابق انٹیلی جنس چیف دنیشور شرما کے اس بیان کاحوالہ دیاکہ''کشمیرمیں جاکرنوجوانوں کوسمجھائیں گے کہ وہ اسلام اورآزادی کامطالبہ دہراکراپنی زندگیاں ضائع کررہے ہیں اوراس طرح وہ جوانوں کواسلام سے دوررہنے کاسبق پڑھارہے ہیں۔جاسوس مذاکرات کارنے شام کی بات چھیڑکر اسے ایک مذہبی اورفرقہ وارانہ جنگ سے جوڑکر کہا تھاکہ وہ کشمیرکودوسراشام بننے نہیں دیں گے۔ان کے اس بیان سے واضح ہوتاہے کہ دنیشورنام نہادامن قائم کرنے کے ناکام مشن پرہیں نہ کہ تنازعہ کشمیرحل کرنے کے مشن پراوریہ بات واضح کی کہ شام اورجموں وکشمیرکے حالات کاکوئی موازنہ ممکن نہیںاوردونوں ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں اوردونوں میں سرے سے کوئی مطابقت ہی نہیں۔ تنازعہ کشمیرکواس کے تاریخی پس منظرمیں اورحق خودارادیت کی بناء پرحل کیاجاناچاہئے اوراس طرح نہ صرف بھارت بلکہ سارے برصغیرمیں امن قائم ہوگا۔سچی بات یہ ہے کہ بھارت ایک طرف مذاکرات کی پیش کش کررہاہے اوردوسری طرف خودہی اپنے ایجنڈے کومنظرعام پرلاکراس بات کاعندیہ دے رہاہے کہ مسئلہ صرف نام نہادامن تک کے قیام تک ہی محدودنہیں اگرچہ کشمیری کبھی بامعنی مذاکراتی عمل کے خلاف نہیں رہے بشرطیکہ ان کاواحدمقصدنتیجہ خیزاورمسئلہ کشمیرکاپائیدارحل تلاش کرناہو۔انہوں نے ہمیشہ اپنے اصولی مؤقف کاایک بارپھراعادہ کرتے ہوئے یہ بات واضح کردی ہے کہ دنیشورشرمانے مذاکرات کے متعلق جن خیالات کااظہارکیاہے اس سے پتہ چلتاہے کہ ان مذاکرات میں شمولیت سے کوئی نتیجہ برآمدنہیں ہوگاجومسئلہ حل کرنے کی بجائے اپنے جبری فوجی قبضے کوجاری رکھناہے لہنداعوام کوچاہئے کہ وہ شہداء کے خون سے مزین تحریک کے ساتھ اپنی وابستگی کی جدوجہدپوری استقامت کے ساتھ جاری رکھیں۔ ( جاری ہے ) تحریک حریت نے حکیم الامت علامہ اقبال کے اس ابدی پیغام کے پیش نظر ''مذاکرات امن''کاڈھونگ مستردکیاکہ'' توجھکاجب غیر کے آگے نہ من تیرانہ تن''اسی پیغام کوبنیادبناکر کشمیری اپنی جانیں قربان کررہے ہیں۔ علامہ اقبال کی زندگی میں ایک ایسادورآیاجب کشمیر کاہرمسلمان مفلوج ہوکررہ گیا تھا اور کشمیریوں کی بدترین حالت زارنے علامہ کوانتہائی بے چین اورمضطرب کررکھاتھااورانہوں نے کشمیر کی آزادی کے علمبردارکے طورپراپنے کلام میں بھی اس کابڑے دکھ سے اظہارفرمایا: ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے دیرگیر چہ بے پرواہ گزشتہ ازنوائے صبح گاہِ من یہ شاعرمشرق کی بے چینی اوراضطراب ہی توتھاکہ ''برداں شورومستی سیاہ چشمان کشمیری''اورایک اورجگہ فرمایا:وہ میری نوائے سحرسے کتنی بے نیازی سے گزرگئے''۔ برصغیرکی آزادی کو70برس گزرگئے مگراب بھی ریاست جموں وکشمیرکابیشترحصہ برہمن کے ظلم وستم کاشکارہے لیکن صدآفریں کہ اب تک کشمیرکے مسلماں سرزمین کشمیر کو متعصب برہمن کے پنجۂ استبدادسے چھڑانے ، آزادکرانے اورحق خودارادیت کیلئے جہادمیں مصروف اپنی جانیں قربان کررہے ہیںاوراب تو ان شاء اللہ جہادکی کامیابی منزل کے بہت قریب ہے۔کشمیرمیں ڈوگرہ شاہی نے ایک مدت سے کشمیری مسلمانوں کی زندگی تلخ بنارکھی تھی۔ ١٣٩١ء میں جب ڈوگرہ راج کے خلاف تحریک شروع ہوئی توعلامہ اقبال نے خوداس میں بھرپورکرداراداکیا۔اس سال ٣١جولائی کو مسلمانوں کے ایک اجتماع کومنتشرکرنے کیلئے ڈوگرہ پولیس نے گولی چلادی جس میں دودرجن کے قریب مسلمان جام شہادت نوش کر گئے۔اس پراہلیان کشمیرسرااپااحتجاج بن گئے ۔لگتاتھاآتش فشاں نے خونی لاوااگلناشروع کردیا ہے۔ مسلمانوں نے اپنے سینے پرگولیاں کھانا اپنا اعزازسمجھتے ہوئے جانیں جان آفرین کے سپردکرکے ثابت کردیاکہ ان کاجذبۂ آزادی بیدار ہوچکاہے ۔حالات مہاراجہ ہری سنگھ کے قابوسے باہرہوگئے اوراس نے مارشل لاء نافذکرکے برطانوی استعمار کو طلب کرلیا اورفوج کوحکم دے دیاکہ جہاں بھی مسلمان نظرآئے اسے گولی سے اڑادیاجائے۔سچ تویہ ہے کہ ان شہداء کے خون ہی سے کشمیرکی سرزمین پرحریت کے پھول کھلے جن کی آج تک کشمیری قوم اپنے خون سے آبیاری کررہی ہے۔ ٣١جولائی١٣٩١ء کے سانحہ نے شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کومجبورکردیاکہ وہ شہرمیں دہشتگردی ختم کرنے کیلئے تحریک چلائیں۔اس مقصدکیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی جس کے مقاصدمیں اوّلاًکشمیری مسلمانوں کے حق میں رائے عامہ منظم کرنا،دوم آئینی ذرائع سے ریاست کے اندراصلاحات نافذکرنا،سوم یہ کہ شہیدوں کے ورثاء اورزخمیوں کو مالی مدد فراہم کرنااورچوتھاگرفتارشدگان کی رہائی کیلئے قانونی امدادفراہم کرناتھا۔علامہ اقبال کی سربراہی میں تحریک بڑی کامیابی سے چلائی گئی ،صورتحال بھانپتے ہوئے مہاراجہ نے ریاست کے سیاسی رہنماؤں سے سمجھوتہ کرلیااورتحریک ختم کردی گئی اوراس سلسلے میں گرفتارکئے گئے عام قیدیوں کورہاکردیاگیا۔کشمیرکی تحریک آزادی کے ہرمرحلے میں علامہ قبال کشمیریوں کی جدوجہدمیں ان کے ساتھ شریک رہے۔ ١٣٩١ء میں دوسری گول میزکانفرنس میں علامہ اقبال نے ایک مندوب کی حیثیت سے شرکت کی۔٩نومبر١٣٩١ء کودوسری گول میزکانفرنس کے مسلم مندوبین نے انڈرسیکرٹری آف سٹیٹ سے ملاقات کی ۔کشمیرکے مسئلے پربات چیت ہوئی ،سرمحمدشفیع نے کشمیرمیں افسوس ناک صورتحال پرتفصیلاً بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری مسلمانوں پرہرقسم کا جبر روا رکھا گیا ،ان کی مقدس کتاب،عبات گاہوں اورخواتین کی پولیس نے بے حرمتی کی۔یہ صورتحال ٥٢سال سے چل رہی ہے مگربرطانوی حکومت نے کشمیرمیں مداخلت نہیں کی اس پربھی علامہ اقبال بے حدمضطرب ہوئے اورانہوں نے کہا:''اگرمہاراجہ نے اس قسم کے حالات کی اجازت دیئے رکھی تووہی اس کے ذمہ دار ہوں گے''۔علامہ نے کشمیرکے بارے میں اپنی تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا:اب تمام حقائق آپ کے سامنے ہیںمیں اس میں اضافہ نہیں کرناچاہتا کہ سرینگرکے بازاروں میں بچوں کوسنگدلی سے قتل کیاجارہاہے۔اس سے زیادہ کیابیان کروں کہ سرینگرکے بازاروں میں ڈوگرہ پولیس نے مسلم خواتین کی بے حرمتی کی ہے۔اب پنجاب اور کشمیربلکہ پورے ہندوستان میں مسلمان یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ بجائے کشمیری مسلمانوں کے مطالبات کی انکوائری کے ڈوگرہ فوج کے ظلم وتشددکی انکوائری کی جائے،اگرعوام ذمہ دارہوں توانہیں سزادی جائے یاان کی مذمت کی جائے اوراگر مہاراجہ اوراس کی انتظامیہ قصور وارہوں تومہاراجہ کولازماًمعزول اورظلم کرنے والی فوج کوسزادی جائے۔ کشمیرکے لوگوں کی خودی کاشعلہ قریباً بجھ چکاتھا۔ان کاحوصلہ بڑھانے کیلئے ١٢مارچ ٢٣٩١ء کوآل انڈیامسلم کانفرنس کے صدرکی حیثیت سے علامہ اقبال نے اپنے خطبہ صدارت میں کشمیرکے بارے میںببانگ دہل فرمایا: مہاراجہ اوراس کی انتظامیہ نے جوظلم وستم کشمیرکے مسلمانوں پرڈھایاہے اس کاتقاضہ ہے کہ فوری مہاراجہ کومعزول کرکے عوام کوان کے ظلم وستم سے نجات دلائی جائے ۔ان کے دل میں مسلمانوں کی محبت کاجوشعلہ بھڑک رہاتھاوہ ظلم وستم کی چوب جلانے کیلئے بے قرارتھا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی زندگی کایہ رخ کبھی عوام کے سامنے نہیں لایاگیا۔علامہ اقبال ایک شیرکی طرح دھاڑرہے تھے ،انہوں نے اس موقع پراپنوں کی پرواہ کی نہ غیروں کاکوئی لحاظ رکھا۔انہوں نے کئی رہنماؤں کے مصلحت آمیزرویے کوچیلنج کیا۔

آئین ِ جواں مرداں حق گوئی وبے باکی اللہ کے شیروں کوآتی نہیں روباہی ان حقائق کی روشنی میں اندازہ کرلیجئے کہ اس دورمیں اگرعلامہ زندہ ہوتے توان کارویہ کشمیرکے بارے میں کیاہوتا؟اگرہمارے سیاسی رہنماء صرف قومی مفادکوپیش نظررکھ کرسوچیں توپاکستان کہ شہ رگ کشمیرکوبھارت کے تسلط سے نجات ملنامشکل کام نہیں۔سچی بات تویہ ہے کہ اس دورمیں ہمیں اقبال اورقائداعظم جیسے رہنماء میسرنہیں: بیدارہوں دل جس کی فغان سحری سے اس قوم میں مدت سے درویش ہے نایاب


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved