جنرل باجوہ کے جوابات، کیا افواہ ساز فیکٹریاں بند ہو جائیں گی؟
  22  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

19 دسمبرکو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملکی تاریخ میں پہلی بار سینٹ کی پورے ایوان کی کمیٹی کو ملکی و علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حکمت عملی پر ان کیمرہ بریفنگ دی … چار گھنٹے تک جاری رہنے والی ان کیمرہ بریفنگ کے دوران انہوں نے سینیٹرز کے متعدد سوالات کے کھل کر جوابات بھی دیئے۔ بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینیٹرز کے سوالات کے جوابات میں جو کچھ کہا اس کا لب لباب یہ تھا ''کہ فیض آباد دھرنے میں اگر فوج کا ہاتھ ثابت ہوا تو مستعفی ہو جائوں گا… معاہدے میں فوجی افسر کے دستخط نہ ہوتے تو بہتر تھا … مگر فوجی افسر دستخط نہ کرتا تو دھرنا ختم نہ ہوتا… ٹی وی چینلز پر تبصرہ کرنے والے ریٹائرڈ افسران ہمارے نمائندے نہیں ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کی جنگ نہیں ہونے دیں گے … 41 اسلامی ممالک کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں … اتحاد کے ٹی او آرز طے ہونا باقی ہیں' اگر حکومت ڈرون گرانے کا کہے گی تو گرا دیں گے … سیاست دان فوج کو موقع نہ دیں ' صدارتی نظام ملک کو کمزور کرتا ہے … پارلیمنٹ دفاعی اور خارجہ پالیسی بنائے ہم عمل کریں گے' پارلیمنٹ ہی سب کچھ … ہم جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں … دھرنے پر لال مسجد کا واقعہ ذہن میں تھا''۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے جنرل قمر جاویدباجوہ نے سینیٹرز کے سوالات کے جواب میں اپنا دل کھول کر رکھ دیا ہو … آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ کے ان جوابات کے بعد وہ سیکولر اور ڈالر خور این جی اوز مارکہ شدت پسند کہ جوعدلیہ کے فیصلوں سے لے کر دھرنوں تک کے پیچھے خوردبین لے کر فوج کے ہاتھ تلاش کرتے رہتے ہیں … اور ذرا ذرا سی بات کو بہانہ بناکر فوج پر تنقید کرنا ثواب سمجھے ہیں … امید ہے کہ اب ان کی تسلی ہوگئی ہوگی' فیض آباد دھرنے کے حوالے سے اس خاکسار نے اس وقت بھی اپنے کالموں میں لکھا تھا کہ فیض آباد میں دھرنا دینے والوں کے اپنے مذہبی جذبات ہیں … تحفظ ختم نبوتۖ ہر مسلمان کا جزو ایمان ہے … قومی اسمبلی نے ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی کی سازش کرکے پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا تھا … جس کے ردعمل میں تحریک لبیک والوں نے فیض آباد میں اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دے دیا … یہ کہنا کہ مسلمان تو اور بھی کروڑوں تھے پھر تحریک لبیک والوں نے ہی دھرنا کیوں دیاتھا؟ لہٰذا ا س کے پیچھے کسی ایجنسی کا ہاتھ تھا … ایک فضول اور لایعنی الزام تھا … جس وقت ہندو راج پال نے گستاخانہ کتاب لکھی تھی … اس وقت ہندوستان میں کروڑوں مسلمان زندہ تھے … مگر گستاخ راج پال کو قتل غازی علم دین شہید نے کیا تھا … اب اگر کوئی ہی کہے کہ مسلمان تو اور بھی کروڑوں تھے … مگر غازی علم دین نے ہی راج پال کو قتل کیوں کیا تھا؟ اس قسم کے سوال کرنے والے کو بیوقوف اور جاہل ہی سمجھا جائے گا … ہماری سیاسی مافیا' میڈیا اور ڈالر خور این جی اوز کے شدت پسندوں نے یہ عجب چلن اختیار کررکھا ہے۔ اگر کوئی عاشق رسولۖ… ناموس رسالت ' دفاع صحابہ یا کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں جان قربان کر دے تو یہ سارے مل کر اس پر فوج اور ایجنسیوں کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں … اور خود یہ پولیس اور رینجرز کے جوانوں کے ساتھ پروٹوکول میں کھا کھا کر اپنی گردنیں موٹی کرلیتے ہیں … مگر کہلاتے یہ سب کے سب ''اللہ والے'' ہیں … جو سیکولر اور سیاسی مافیا کے شدت پسند فیض آباد دھرنے کا الزام ٹی وی شوز میں بیٹھ کر فوج پر عائد کرتے رہے … کیا و ہ فوج کی بدنامی کا سبب نہیں بنے؟ تجزیہ نگاروں' کالم نگاروں اور اینکرز کو کسی قیمت پر بھی انصاف کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ پاک فوج ہو یا آئی ایس آئی یہ ملکی سلامتی کے ضامن ادارے ہیں … پاکستان دشمن قوتیں ان اداروں کے جانبازوں سے خوفزدہ رہتی ہیں … انہی اداروں سے وابستہ جوانوں کی بے پناہ قربانیاں کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کے 22 کروڑ عوام آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں۔جو عناصر صرف شک و شبہ کی بنیاد پر ہی ان اداروں کے خلاف متنازعہ بیان بازی شروع کر دیتے ہیں … یا اپنی اپنی اپنی جماعتوں کے ''شرارتی ونگز'' کے ذریعے سوشل میڈیا پر ہرزہ سرائیاں کرواتے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے … کم از کم اب ہی ہوش کے ناخن لے کر اپنے نامناسب روئیوں پر نظرثانی کرلینی چاہیے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر سمیت بعض دیگر سینیٹرز سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے 41 ملکی فوجی اتحاد کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے تھے … انہیں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو 41 ملکی فوجی اتحاد کا سربراہ بنائے جانے پر بھی متعدد اشکالات تھے … امید ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ کے منہ سے اس حوالے سے جوابات سن کر ان کی بھی تشفی ہوگئی ہوگی۔آرمی چیف نے یہ کہہ کر ''اگر حکومت ڈرون گرانے کا کہے گی تو گرا دیں گے'' عقلمندوں کے سوچنے کی نئی راہیں کھول دیں ' پرویز مشرف کا تاریک دور ہو یا آصف علی زرداری کا پانچ سالہ دور … امریکہ نے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے کرکے سینکڑوں معصوم بچوں' بے گناہ عورتوں سمیت ہزاروں قبائلی شہید کر ڈالے … اگر اس وقت کے حکمران چاہتے تو ڈرون حملے رک سکتے تھے … اور اگر اس وقت کے حکمران ڈرون گرانے کا حکم دیتے تو ڈرون مار گرائے جاسکتے تھے … مگر افسوس کہ پاکستانیوں پر امریکی ڈرون حملے … پاکستانی حکومتوں کی مرضی سے ہوتے رہے۔افسوس صد افسوس۔۔۔!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved