خدا کی بستی
  23  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میں جہاز سے باہر نکلا تو ٹورنٹو کے مقامی وقت کے مطابق شام کے سوا پانچ بج چکے تھے اور درجہ حرارت کوئی چھ ڈگری تھا ۔ برقی زینے اور راستے سے ہوتا ہوا میںایک مشین کے سامنے جا کھڑا ہوا جو ایک خود کار امیگریشن سسٹم کا کام کرتی ہے ۔میں نے اس مشین کی ہدایات کے مطابق اپنا پاسپورٹ سکین کیا جس کے بعد مشین نے ایک سوالنامہ (ڈیکلریشن فارم) میرے سامنے سکرین پر رکھ دیا جس کے خانے میں نے ہاں یا ناں میں ٹک کر دیے ،آخر میں اسی مشین نے میری تصویر لی اور مجھے ایک پرنٹ دیدیا جو مجھے کینیڈا کی سر زمین پر داخل ہونے کا اجازت نامہ تھا۔یہاں سے میں اپنا سامان لینے کیلئے ایک بڑے ہال میں پہنچا جہاں بیسیوں بیلٹز پر مختلف ملکوں سے آنے والے مسافروں کا سامان تھا ۔مجھے ایک اعلان کے ذریعے بتایا گیا تھا کہ پی آئی اے کے مسافروں کا سامان بیلٹ نمبر چھ پر آ رہا ہے ۔میں شائد بہت جلد پہنچ گیا تھا اس لئے سامان کا تھوڑا سا انتظار کرنا پڑا ۔سامان ٹرالی پر رکھا اور ہال کے آخر میں کھڑے افسر کو اپنا پرنٹڈ اجازت نامہ دے کر ہال سے باہر نکل آیا۔میں پاکستانی شہریت رکھتے ہوئے اس سارے سسٹم سے مانوس ہو چکا ہوں۔ ائر پورٹ کے باہر میری اہلیہ مجھے لینے کیلئے موجود تھی ،کوئی پونے گھنٹے میں ہم واٹر لو سٹی اپنے گھر پہنچ گئے ۔رات کی تاریکی کے آثار شروع ہو چکے تھے مگر ائر پورٹ سے واٹر لو سٹی تک کرسمس ٹری،برقی قمقمے،جگنو لائیٹیں بتا رہی تھیں کہ کرسمس اور نیو ائیر کی تیاریاں اپنے عروج پر ہیں ۔ کینیڈا کے پاس بجلی وافر ہے اور یہ اسے امریکہ کو برآمد کرتا ہے اس لئے لوڈ شیڈنگ کا تو لفظ ہی یہاں استعمال نہیں ہوتا اس لئے ہر طرف رات بھی روشن ہی ہوتی ہے۔واٹر لو ایک ایجوکیشن سٹی ہے اور یہاں کینیڈا سمیت پوری دنیا سے آئے ہوئے ہزاروں سٹوڈنٹ اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان میں میری چار بیٹیاں بھی شامل ہیں اور اسی وجہ سے میرا یہاں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ قارئین، دنیا کے سب سے پرسکون اور رہائش کے لیے آئیڈیل ملکوں میں کینیڈا سرفہرست ہے اس کی وجہ کینیڈا کا نظام حکومت اور یہاںکے قوانین اور شہری سہولتیں ہیں جو عام لوگوں سے لے کر خاص لوگوں تک کیلئے ایک جیسی ہیں ۔ ایک ویلفئیر سٹیٹ ہونے کے ناطے یہاں کے شہریوںکا لائف سٹائل اور انہیں ملنے والی سہولیات دنیا کے دیگر ممالک سے بہت زیادہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت کینیڈا دنیا بھر کے تارکین وطن کی نمبر ون منزل ہے۔کینیڈا کی شہریت اب آسان کام نہیں مگر یہاں جو سٹوڈنٹس آتے ہیں انہیں بعد از تعلیم شہریت بآسانی مل جاتی ہے۔کینیڈا کی یونیورسٹیوں کا شمار دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے ۔کینیڈا کی خوبصورتی اور موسم بھی کمال ہے ۔ یہاں سال میں کافی عرصہ برف رہتی ہے اس کے باوجود اس طرح کا ماحول مہیا کیا جاتا ہے کہ کینیڈا کے شہری اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں آسانی سے نبھا سکیں۔کینیڈا کی خوبصورتی میں سب سے زیادہ کردار یہاں کی جھیلوں کا ہے ۔جبکہ کینیڈا کی انہی جھیلوں پر دنیا کی خوبصورت ترین آبشاریں ہیں اور ان میں سیاحوں کی نمبر ون منزل نیاگرہ فالز ہیں۔ کینیڈا روس کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ شائد سب سے زیادہ تعلیم یافتہ مملکت بھی ، اس کی آدھے سے زیادہ آبادی کالج ڈگری ہولڈر ہے۔کینیڈا کی تاریخ میں سب سے کم درجہ حرارت 1947میں منفی 63ڈگری سنٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ یہاں اتنی جھیلیں ہیں جتنی پوری دنیا میں نہیں ہیں۔کینیڈا کی ینگ سٹریٹ جسکی لمبائی 1896کلومیٹر ہے دنیا کی سب سے لمبی گلی کہلاتی ہے۔امریکہ او رکینیڈا کی سرحد دنیا کی سب سے بڑی بین الاقوامی سرحد ہے اور اس پر کسی قسم کا فوجی پہرہ نہیں ہے۔کینیڈا کے پاس 1984سے کوئی بڑی تباہی پھیلانے والا ہتھیار نہیں ہے اور اسی وجہ سے کینیڈا کی حکومت نے ہر وہ معاہدہ سائن کیا ہے جس سے ان ہتھیاروں پر پابندی لگائی جاسکے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران پرل ہاربر کی بندرگاہ پر جاپانی حملے کے بعد کینیڈا نے امریکہ سے پہلے جاپان کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا۔ کینیڈا کے بہت سے علاقوں میں دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت کشش ثقل کم ہے۔کینیڈامیں پولیس کا محکمہ اگر کسی کو غیر قانونی کام پر جرمانے کی ٹکٹ دیتا ہے تو کوئی مثبت کام کرنے پر انعام بھی دیتا ہے۔امریکیوں نے دومرتبہ 1775اور 1812میں کینیڈا پر حملہ کیا لیکن دونوں دفعہ امریکہ کو منہ کی کھانا پڑی او رانہیں شکست ہوئی۔سعودی عرب اور وینزویلا کے بعد کینیڈا کے پاس دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر موجود ہیں۔دنیا کے دیگر ممالک کی طرح کینیڈا کے کرنسی نوٹوں پر بھی خصوصی نشان لگائے جاتے ہیں جن کی مدد سے بینائی سے محروم افراد بھی ان کی پہچان کرسکتے ہیں۔پورے کینیڈا کی آبادی تین کروڑ چھیاسٹھ لاکھ ہے جو ٹوکیو کے شہری علاقوں سے کم ہے۔کینیڈا ایک ا یروکوئین زبان کا لفظ ہے جس کے معنی گائوو ں یا بستی کے ہیں اس وقت دنیا کے دیگر ممالک میں جن لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو ،ایسے مہاجروں کو کینیڈا پناہ دینے میں سر فہرست ہے اس لئے اسے خدا کی بستی بھی کہا جا سکتا ہے۔

اونٹاریو کینیڈا میں تقریبا ڈھائی لاکھ جھیلیں ہیں جو کہ پوری دنیا کے تازہ پانی کا تقریبا پانچواں حصہ ہیں۔ کلیننگ فار اے ریزن ایک ایسی سوشل سروس ہے جو کہ کینیڈا اور امریکہ میں کینسر کی مریضہ خواتین کے گھروں میں جاکرصفائی کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی صحت پر توجہ دے سکیں۔ نائن الیون کے بعد کینیڈامیں تقریبا تینتیس ہزار مسافروں کی مہمان نوازی کی گئی۔ کینیڈا کی البرٹا سٹیٹ میں گزشتہ پچاس برس سے چوہے بالکل نہیں پائے جاتے۔ کینیڈا میں ایسی کسی بھی شے کو لے کر چلنا غیر قانونی ہے جو کہ کسی بھی حملے کے جواب میں ذاتی حفاظت کے لیے استعمال کی جاسکے چاہے وہ مرچوں والا سپرے ہی کیوں نہ ہو۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved