مذاکرات امن کاڈھونگ
  23  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) تحریک حریت نے حکیم الامت علامہ اقبال کے اس ابدی پیغام کے پیش نظر ''مذاکرات امن''کاڈھونگ مستردکیاکہ'' توجھکاجب غیر کے آگے نہ من تیرانہ تن''اسی پیغام کوبنیادبناکر کشمیری اپنی جانیں قربان کررہے ہیں۔ علامہ اقبال کی زندگی میں ایک ایسادورآیاجب کشمیر کاہرمسلمان مفلوج ہوکررہ گیا تھا اور کشمیریوں کی بدترین حالت زارنے علامہ کوانتہائی بے چین اورمضطرب کررکھاتھااورانہوں نے کشمیر کی آزادی کے علمبردارکے طورپراپنے کلام میں بھی اس کابڑے دکھ سے اظہارفرمایا: ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے دیرگیر چہ بے پرواہ گزشتہ ازنوائے صبح گاہِ من یہ شاعرمشرق کی بے چینی اوراضطراب ہی توتھاکہ ''برداں شورومستی سیاہ چشمان کشمیری''اورایک اورجگہ فرمایا:وہ میری نوائے سحرسے کتنی بے نیازی سے گزرگئے''۔ برصغیرکی آزادی کو70برس گزرگئے مگراب بھی ریاست جموں وکشمیرکابیشترحصہ برہمن کے ظلم وستم کاشکارہے لیکن صدآفریں کہ اب تک کشمیرکے مسلماں سرزمین کشمیرکومتعصب برہمن کے پنجۂ استبدادسے چھڑانے،آزادکرانے اورحق خودارادیت کیلئے جہادمی مصروف اپنی جانیں قربان کررہے ہیںاوراب تو ان شاء اللہ جہادکی کامیابی منزل کے بہت قریب ہے۔کشمیرمیں ڈوگرہ شاہی نے ایک مدت سے کشمیری مسلمانوں کی زندگی تلخ بنارکھی تھی۔ ١٣٩١ء میں جب ڈوگرہ راج کے خلاف تحریک شروع ہوئی توعلامہ اقبال نے خوداس میں بھرپورکرداراداکیا۔اس سال ٣١جولائی کو مسلمانوں کے ایک اجتماع کومنتشرکرنے کیلئے ڈوگرہ پولیس نے گولی چلادی جس میں دودرجن کے قریب مسلمان جام شہادت نوش کر گئے۔اس پراہلیان کشمیرسرااپااحتجاج بن گئے ۔لگتاتھاآتش فشاں نے خونی لاوااگلناشروع کردیا ہے۔ مسلمانوں نے اپنے سینے پرگولیاں کھانا اپنا اعزازسمجھتے ہوئے جانیں جان آفرین کے سپردکرکے ثابت کردیاکہ ان کاجذبۂ آزادی بیدار ہوچکاہے ۔حالات مہاراجہ ہری سنگھ کے قابوسے باہرہوگئے اوراس نے مارشل لاء نافذکرکے برطانوی استعمار کو طلب کرلیا اورفوج کوحکم دے دیاکہ جہاں بھی مسلمان نظرآئے اسے گولی سے اڑادیاجائے۔سچ تویہ ہے کہ ان شہداء کے خون ہی سے کشمیرکی سرزمین پرحریت کے پھول کھلے جن کی آج تک کشمیری قوم اپنے خون سے آبیاری کررہی ہے۔ ٣١جولائی١٣٩١ء کے سانحہ نے شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کومجبورکردیاکہ وہ شہرمیں دہشتگردی ختم کرنے کیلئے تحریک چلائیں۔اس مقصدکیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی جس کے مقاصدمیں اوّلاًکشمیری مسلمانوں کے حق میں رائے عامہ منظم کرنا،دوم آئینی ذرائع سے ریاست کے اندراصلاحات نافذکرنا،سوم یہ کہ شہیدوں کے ورثاء اورزخمیوں کو مالی مدد فراہم کرنااورچوتھاگرفتارشدگان کی رہائی کیلئے قانونی امدادفراہم کرناتھا۔علامہ اقبال کی سربراہی میں تحریک بڑی کامیابی سے چلائی گئی ،صورتحال بھانپتے ہوئے مہاراجہ نے ریاست کے سیاسی رہنماؤں سے سمجھوتہ کرلیااورتحریک ختم کردی گئی اوراس سلسلے میں گرفتارکئے گئے عام قیدیوں کورہاکردیاگیا۔کشمیرکی تحریک آزادی کے ہرمرحلے میں علامہ قبال کشمیریوں کی جدوجہدمیں ان کے ساتھ شریک رہے۔ ١٣٩١ء میں دوسری گول میزکانفرنس میں علامہ اقبال نے ایک مندوب کی حیثیت سے شرکت کی۔٩نومبر١٣٩١ء کودوسری گول میزکانفرنس کے مسلم مندوبین نے انڈرسیکرٹری آف سٹیٹ سے ملاقات کی ۔کشمیرکے مسئلے پربات چیت ہوئی ،سرمحمدشفیع نے کشمیرمیں افسوس ناک صورتحال پرتفصیلاً بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری مسلمانوں پرہرقسم کا جبر روا رکھا گیا ،ان کی مقدس کتاب،عبات گاہوں اورخواتین کی پولیس نے بے حرمتی کی۔یہ صورتحال ٥٢سال سے چل رہی ہے مگربرطانوی حکومت نے کشمیرمیں مداخلت نہیں کی اس پربھی علامہ اقبال بے حدمضطرب ہوئے اورانہوں نے کہا:''اگرمہاراجہ نے اس قسم کے حالات کی اجازت دیئے رکھی تووہی اس کے ذمہ دار ہوں گے''۔علامہ نے کشمیرکے بارے میں اپنی تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا:اب تمام حقائق آپ کے سامنے ہیںمیں اس میں اضافہ نہیں کرناچاہتا کہ سرینگرکے بازاروں میں بچوں کوسنگدلی سے قتل کیاجارہاہے۔اس سے زیادہ کیابیان کروں کہ سرینگرکے بازاروں میں ڈوگرہ پولیس نے مسلم خواتین کی بے حرمتی کی ہے۔اب پنجاب اور کشمیربلکہ پورے ہندوستان میں مسلمان یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ بجائے کشمیری مسلمانوں کے مطالبات کی انکوائری کے ڈوگرہ فوج کے ظلم وتشددکی انکوائری کی جائے،اگرعوام ذمہ دارہوں توانہیں سزادی جائے یاان کی مذمت کی جائے اوراگر مہاراجہ اوراس کی انتظامیہ قصور وارہوں تومہاراجہ کولازماًمعزول اورظلم کرنے والی فوج کوسزادی جائے۔

کشمیرکے لوگوں کی خودی کاشعلہ قریباً بجھ چکاتھا۔ان کاحوصلہ بڑھانے کیلئے ١٢مارچ ٢٣٩١ء کوآل انڈیامسلم کانفرنس کے صدرکی حیثیت سے علامہ اقبال نے اپنے خطبہ صدارت میں کشمیرکے بارے میںببانگ دہل فرمایا: مہاراجہ اوراس کی انتظامیہ نے جوظلم وستم کشمیرکے مسلمانوں پرڈھایاہے اس کاتقاضہ ہے کہ فوری مہاراجہ کومعزول کرکے عوام کوان کے ظلم وستم سے نجات دلائی جائے ۔ان کے دل میں مسلمانوں کی محبت کاجوشعلہ بھڑک رہاتھاوہ ظلم وستم کی چوب جلانے کیلئے بے قرارتھا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی زندگی کایہ رخ کبھی عوام کے سامنے نہیں لایاگیا۔علامہ اقبال ایک شیرکی طرح دھاڑرہے تھے ،انہوں نے اس موقع پراپنوں کی پرواہ کی نہ غیروں کاکوئی لحاظ رکھا۔انہوں نے کئی رہنماؤں کے مصلحت آمیزرویے کوچیلنج کیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved