قائداعظم ، بلوچستان اور کشمیر
  24  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ قائداعظم محمد علی جناح ایک غیر معمولی انسان تھے ان کی سوچ زمانے کی سوچ سے سینکڑوں سال آگے ہوتی تھی۔ وہ جب کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہوئے تو برصغیرکے ہندوؤں اور انگریز کو خطرے کا احسا س ہو گیا تھا۔کیونکہ اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کو بولنے اور دلائل پیش کرنے کا انداز دیا تھا۔وہ عام انسانوں کے پاس نہیں ہوتا ۔انہوں نے جب برصغیر میں اپنے دوروں کا آغازکیا اور نامور مسلمان رہنماؤں اور دانشوروں نے ان کے ساتھ الحاق شروع کیا۔تو ہندو بنیئے نے انگریز کی رفاقت حاصل کرنی شروع کر دی۔دو قومی نظریہ کا نعرہ بلندہوا۔جس نے پورے برصغیر میں ایک واضح پیغام چھوڑا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومتیں ہیں اور ان کا ایک جگہ اکٹھا رہنا کسی بھی صورت ممکن نہیں ۔برصغیر پر انگریز حاکم تھا اور انگریز حکمران لارڈ ماؤنٹ بیٹن تھا۔جس کے نہرو خاندان سے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔ ا سلئے ہندو انگریز گٹھ جوڑ مسلمان کی راہ میں خاصی مشکلات پیش کر رہا ہے ۔ اس دوران قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقاء کی ثابت قدمی انگریز اور ہندو کی ایک بھی چال کامیاب نہیں ہونے دے رہی تھی۔ادھرمصور پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال نے 1930ء میں خطبہ ٔ آ لہ آباد پیش کیا۔جس نے مسلمانوں کی تحریک میں ایک روح پھونک دی۔حضرت علامہ اقبال اور قائداعظم کے ساتھ نے ہندوؤں اور انگریزوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا۔بدقسمتی سے 1938ء میں اللہ تبارک تعالیٰ نے علامہ محمد اقبال کو اپنے پاس بلا لیااور قائداعظم محمد علی جناح اس میدان میں بظاہر اکیلے رہ گئے۔ لیکن چونکہ اللہ کی پاک ذات نے مسلمانوں کی الگ ریاست کا فیصلہ کر لیا تھا۔اس لئے قائداعظم کے پاس ایک مضبوط اور نظریاتی ٹیم قائم ہو چکی تھی جن میں ا کبراداران بھی شامل تھے۔وقت کی رفتار تیزی پکڑ رہی تھی۔بلاآخر 23مارچ 1940ء بروز ہفتہ منٹو پارک لاہور میں ایک تاریخی جلسہ منعقد ہوا۔جس میں دو قومی نظریہ کی بنیاد پر برصغیر کی تقسیم کا فیصلہ ہوا۔یہ وہ کامیاب جلسہ تھا جس نے مسلمانوں کی الگ ریاست قائم ہونے کا فیصلہ سنا دیا تھا۔لیکن ایک طرف مسلمانوں کی قلیل تعداد تھی اور دوسری طرف ہندوستان کا بہت بڑ ارتبہ ۔ بہت ساری قوتیں اور پھر انگریز حکمران کی ہمدردیاں بھی اس طرف تھیں ۔مسلمانوں کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے رہنما قائداعظم کی صحت بھی بہت حد تک گر چکی تھی لیکن اس کے باوجود اللہ کے فضل و کرم سے ان کے اور ان کی ٹیم کے حوصلے بہت بلند تھے۔ جب تقسیمِ ہند کا فیصلہ قریب ہونے کو آیا تو بین الاقوامی سازشوں نے بھی زور پکڑ لیا۔خاص طور پر کشمیر اور بلوچستان کوپاکستان سے الگ کرنے کے پورے جتن شروع کر دئیے گئے۔ادھر صوبہ سرحد (خیبر پختونخواہ) میں بھی خان عبدالغفار خان کی پوری ہمدردیاں ہندوستان کے ساتھ تھیں ۔بدقسمتی سے کچھ علمائے کرام کا بھی اس معاملے میں بڑا منفی کردار سامنے آ رہا ہے۔خان عبدالغفار خان کو اس معاملے میں اپنا ہم خیال بنانے کے لئے قائداعظم خود تشریف لے گئے اور کئی دن تک نوشہرہ ریسٹ ہاؤس میں قیام پذیر رہے لیکن دونوں طرف کے دشمن نما دوستوں نے قائداعظم اور خان عبدالغفار خان کی ملاقات نہ ہونے دی ۔ قائداعظم تقسیمِ ہند کے وقت خیبر پختونخواہ ، کشمیر اور بلوچستان کے معا ملے میں سخت فکر مند تھے۔ کشمیر کے متعلق انہوں نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔آج سے 80سال پہلے یہ بات شاید عام لوگوں کو سمجھ نہ آئی ہوگی۔لیکن آج جب ہندوستان نے دریاؤں کے پانی کا رخ ہندوستان کی طرف موڑ کر پاکستان میں خشک سالی کی ابتداء کی تو محسوس ہوا کہ ہندوستان پاکستان کی شہہ رگ کو دبوچ رہا ہے۔ آج بھی انڈیا دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی خوفناک وارداتیں کروا رہا ہے۔شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جس دن خیبر پختونخواہ ، کشمیر اور بلوچستان میں ہندوستان دہشت گردی کی وارداتیں نہ کراتا ہو۔بلوچستان دو حصوں میں تقسیم تھا (1) برٹش بلوچستان اور (2) ریاستی بلوچستان ۔برٹش بلوچستان میں سارا پشتون علاقہ بلکہ کوئٹہ سے شہداد کوٹ سندھ کی طرف آنے والی مین شاہراہ سے جنوب کی طرف سارا علاقہ ریاستی بلوچستان کہلاتا تھااور اس کی چار ریاستیں تھیں ۔متحدہ چار ریاستوں کاسربراہ خان آف قلات تھے۔اس مین شاہراہ سے شمال کی طرف سارا علاقہ کوئٹہ ، کچلاک ، پشین ، چمن ، قلعہ سیف اللہ ، ژوب ، ڈیرہ بگٹی اور کوہلو وغیرہ سب برٹش بلوچستان میں شامل تھے۔شمالی بلوچستان سے قاضی عیسیٰ کی سربراہی میں ایک مضبوط گروپ قائداعظم کے ساتھ تھا ۔جب مخالفت میں محمود خان اچکزئی کے والد عبدالصمد اچکزئی غفار خان کے دوست اور متحدہ ہندوستان کے حامی تھے۔لیکن قاضی عیسیٰ کی قائداعظم محمد علی جناح سے خصوصی محبت میں بہت ہی خلوص اور شدت تھی جو غداروں کی کوئی چال چلنے نہیں دیتے تھے۔اس لئے برٹش بلوچستان میں قائداعظم کو اتنے مقابلے کا سامنانہیں تھا ۔لیکن ریاستی بلوچستان میں قائداعظم خود تشریف لے گئے۔سب سے پہلے ریاست حکمران نے پاکستان میں شمولیت کا اعلان کیا۔پھر لسبیلہ اور سب سے آخر میں خان آف قلات میر احمد یار خان نے پاکستان کے ساتھ اپنی ریاست قلات کا الحاق کیا ہے۔ میں خود بھی خان آف قلات کے بنگلے پر حاضر ہوا ۔بنگلے کے تمام کمرے میرے لئے کھولے گئے۔ پورے بنگلے کی سیر کرائی گئی۔سب سے اوپر والی چھت پر ایک کمرہ بالکل مقفل تھا ۔ مجھے بتایا گیا کہ اس کمرہ میں وہ ترازو پڑا ہوا ہے ۔

جس میں ریاست قلات کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے وقت خان آف قلات نے قائداعظم کو سونے میں تول کر وہ سونا پاکستان کے فنڈ میں جمع کرایا تھا۔قائد اعظم کی بلوچستان سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب زندگی کے آخری ایام میں بیماری نے انہیں بے حال کر رکھا تھا۔تو انہوں نے لندن ، کراچی ، لاہور یا کسی بھی بڑے ہسپتال میں جانے کی بجائے بلوچستان کے پُر فضا مقام زیارت میں جانے اور رہنے کو ترجیح دی اور اپنی زندگی کی آخری ہر ہر سانس کے ساتھ بلوچستان کے ساتھ اپنی محبت کا گہرا ثبوت دیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved