راولاکوٹ! جمعتہ المبارک کے دن دو کانفرنسیں
  25  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

آزاد کشمیر کی سرزمین ختم نبوتؐ کے منکرین یعنی قادیانی ٹولے کے خلاف۔۔۔ قانون سازی کے لئے ترس رہی ہے ۔۔۔ آزاد کشمیر کی اسمبلی میں قراردادوں پر قراردادیں بھی پیش کی جارہی ہے ۔۔۔ آزاد جموں و کشمیر کے حکمران ’’سچے‘‘ اور ’’پکے‘‘ مسلمان بلکہ عاشق رسولؐ بھی ہیں ۔۔۔ مگر اس سب کے باوجود پاکستان کی طرز پر آزاد کشمیر میں منکرین ختم نبوتؐ یعنی قادیانیوں کے خلاف قانون سازی کیوں نہیں ہوسکی؟ جمعتہ المبارک کو مرکزی جامع مسجد راولاکوٹ میں منعقدہ عظیم الشان ختم نبوتؐ کانفرنس میں ہزاروں فرزندان توحید کے سامنے جب اس خاکسار نے اپنے خطاب میں یہ گزارشات پیش کیں ۔۔۔ تو ان ہزاروں کشمیری مسلمانوں کا جواب تھا کہ ۔۔۔’’اپنے حکمرانوں کی اس ٹھنڈی پالیسی کی وجہ ہم بھی نہیں سمجھ سکے۔‘‘ اس خاکسار نے عرض کیا کہ اسلام اقلیتوں کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے ۔۔۔ اور ہر سچا مسلمان ۔۔۔ کسی بھی اقلیتی برادری کے حق کو غصب کرنے کی سورچ رکھنا بھی ناجائز سمجھتاہے ۔۔۔ پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں کے حقوق کو ہمارا آئین بھی تحفظ فراہم کرتا ہے ۔۔۔ لیکن پاکستان میں غیر مسلم قرار پانے والے قادیانی ۔۔۔ اگر آزاد کشمیر کے قانون میں مسلمان تصور کیے جائیں گے تو پھر یہ اکثریتی مسلمان آبادی کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ آزاد کشمیر کے حکمران ۔۔۔ سوا چودہ سو سال پہلے حل ہو جانے والے ختم نبوتؐ کے مسئلے پر کمیٹیاں بنانے کی بجائے قانون سازی کرنے سے شرما اور گھبرا کیوں رہے ہیں؟یہ حکمران ہوں ‘ سیاست دان ہوں یا عام عوام ۔۔۔ آخرت میں جام کوثر تو رسول اللہﷺ کے ہاتھوں پینے کی تمنا رکھتے ہیں ۔۔۔ حشر کے میدان میں شفاعت تو رسول اکرمﷺ کی چاہتے ہیں ۔۔۔ مگر جب خاتم الانبیاءﷺ کی ختم نبوتؐ کے تحفظ کی بات آتی ہے ۔۔۔ تو پھر یہ ’’اگرچہ ‘ مگر چہ ‘ چونکہ‘ چنانچہ‘‘ کے اصول کے تحت ’’کمیٹیاں‘‘ بناکر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی شروع کر دیتے ہیں۔ کیا انہیں شرم نہیں آتی ۔۔۔ تحفظ ختم نبوتؐ سے جی چرانے والے آج اگر لندن یا امریکہ کے خوف میں مبتلا ہوکر ’’قانون سازی‘‘ میں لیت و لعل کررہے ہیں تو کل قیامت کے دن ۔۔۔ وہ حضور ﷺ کا سامنا کس منہ سے کریں گے؟ مرکزی جامع مسجد راولاکوٹ آزادی کشمیر کی بھی عینی گواہ ہے ۔۔۔ اس عظیم مسجد میں عرصہ 38 سالوں سے خطابت و امامت کا فریضہ سرانجام دینے والے ‘ جامعہ اسلامیہ کے مہتمم مولانا مفتی عبد الخالق کے بقول اس جامع مسجد کے مشرقی جانب چند فرلانگ کے فاصلے پر وہ دارالجہاد ہے کہ 15 اگست1947 ء جہاں سے ڈوگرہ رجیم کے خلاف اعلان بغاوت ہوا تھا ۔۔۔ اور آزادی کے متوالوں‘ نے قرآن پاک پر حلف اٹھا کر شرعی جہاد کا اعلان کیا تھا ۔۔۔ تب یہ مرکزی مسجد جہاد آزادی کشمیر کے جانبازوں کا مرکز تھی ۔۔۔ شیخ الحدیث مولانا محمد یوسفؒ ‘ خطیب کشمیر مولانا عبد العزیزؒ ‘ حضرت اقدس مولانا غلام حیدر جنڈالویؒ سمیت متعدد دیگر ۔۔۔ اکابر علماء نے اس خطہ کشمیر کو آزاد کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ میرے لئے خوشی کی بات یہ تھی کہ آزاد کشمیر کے ضلع باغ کی طرح ۔۔۔ راولاکوٹ میں بھی مکمل مذہبی ہم آہنگی پائی جاتی ہے‘ دارالعلوم تعلیم القرآن باغ کے مہتمم مولانا امین الحق فاروقی نے دیگر تمام مسالک کے علماء کرام کے ساتھ مل کر باغ کو ہر قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگیوں سے پاک کررکھا ہے‘ 24نومبر کو یہ خاکسار باغ میں تھا تو باغ کے معروف بریلوی عالم دین مولانا امتیاز صدیقی ملاقات کے لئے تشریف لائے اور انہوں نے مولانا امین الحق فاروقی کی ضلع باغ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے کی کوششوں پر انہیں خراج تحسین بھی پیش کیا تھا‘ مجھے نوجوان عالم دین مولانا اتفاق احمد نے بتایا کہ راولاکوٹ میں تمام مسالک کے علماء نے مفتی عبد الخالق کی زیرقیادت تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کونسل قائم کررکھی ہے جس کی برکت سے راولاکوٹ کا ماحول بھی الحمد للہ ہر قسم کی فرقہ واریت سے پاک صاف ہے‘ مولانا اتفاق احمد کے بقول اس مشترکہ فورم سے تحفظ ناموس رسالت کے ساتھ ساتھ اتحاد ملت کا بھی درس دیا جاتا ہے ۔ میرے نزدیک جس شہر ‘ علاقے یا صوبے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار ہے اسے مثالی شہر یا صوبہ قرار دینے میں کوئی حر ج نہیں ہے ۔ مولانا مفتی عبد الخالق نے ہزاروں فرزندان توحید سے اپنے خطاب میں ۔۔۔ روزنامہ ’’اوصاف‘‘ کی تحفظ ختم نبوتؐ کے سلسلے میں کی جانے والی صحافتی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ راولاکوٹ کی مرکزی جامع مسجد میں میری ملاقات ایک ایسے بزرگ سے بھی ہوئی کہ جنہوں نے نہ صرف پاکستان بنتے بلکہ آزاد کشمیر کی آزادی کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا اور وہ اس میں شامل بھی رہے ۔ مصری خان نامی بزرگ مسجد کے صحن میں مجھ خاکسار سے بڑی محبت سے ملے اور فرمایا کہ ’’ہاشمی صاحب آپ نے مولانا عبد العزیزؒ کے بعد ختم نبوتؐ اور جہاد سے حوالے سے گفتگو کرکے ۔۔۔ہمارے ایمانوں کو تازہ کر دیا‘‘ انہوں نے بتایا کہ وہ سابق فوجی بھی ہیں ۔۔۔ صرف آزاد کشمیر کی آزادی میں ہی نہیں بلکہ ملک پاکستان کے دفاع کے لئے انہوں نے اپنی عمر عزیز کا اکثر حصہ کھپا ڈالا۔ جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد ۔۔۔ راولاکوٹ کے نواحی علاقے ’’میدان‘‘ میں ورثاء شہداء کشمیر نے فلک بوس پہاڑوں کے درمیان میدان سکول گراؤنڈ میں ’’شہداء اسلام‘‘ کانفرنس کا سٹیج سجا رکھا تھا۔۔۔ پیارے زوہیب اورنگزیب شہید کی یاد میں منعقدہ اس کانفرنس سے مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں دس سال تک قیدوبند کی صعوبتیں گزارنے والے مولانا سیف اللہ خالد اور مجاہد آباد کے مجاہد خطیب مولانا اتفاق احمد خطاب کرچکے تھے۔ بندہ ناچیز نے شہداء اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ۔۔۔ عرض کیا کہ اسلام کی تاریخ اپنے شہیدوں پر ہمیشہ نازاں رہی ہے ۔۔۔ ’’شہید‘‘ کی عظمت کی گواہی خود قرآن پاک دے رہا ہے‘ کشمیر کی آزادی کے لئے جانیں قربان کرنے والے ہمارے ہیرو اور اسلامی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔۔۔ کشمیر کو مودی کے خون آلود منہ سے چھیننے کے لئے ضروری ہے کہ ۔۔۔ خطہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان زیادہ سے زیادہ جہاد کے راستے میں نکلیں‘ کشمیر کا نہ کوئی مذاکراتی حل ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی حل ۔۔۔ بلکہ کشمیر جب بھی آزادہوا تو جہاد مقدس کی برکت سے ہی ہوگا۔(ان شاء اللہ)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved