مشرق وسطیٰ کانیاٹرمپ
  26  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

سعودی عرب میں حالیہ ڈرامائی تبدیلیوں کے بارے میں پہلے ہی لکھ چکاہوں لیکن سعودی عرب میں زیرزمین جوخدشات جنم لے رہے تھے وہ بالآخراب کھل کرمنظرعام پرآرہے ہیں جس میں سب سے بڑی تبدیلی32 سالہ نوجوان شہزادہ محمد بن سلمان کی بطور ولی عہدتقرری جبکہ وہاں کے شاہی روایات کے مطابق اس منصب کیلئے ان کانمبر40واں تھااور اپنا منصب سنبھالتے ہی ملک کے تمام اہم اداروں کابراہ راست انتظام وانصرام سنبھالنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس وقت بھرپوراورمکمل طاقت کو اپنی مٹھی میں لے چکے ہیں اوراپنے اس نئے منصب پر فائز ہوتے ہی انہوں نے اگلے دس سالوں کی ترقی کے ایک نئے منصوبے کااعلان کرتے ہوئے نوجوان نسل کواپنی طرف مائل کرنے کی ایک بھرپورکوشش کی ہے اوراپنے اس منصوبے کی آڑمیں انہوں نے کئی ایسے عملی آہنی اقدامات اٹھائے ہیں جن کی وجہ سے زیرزمین کئی ایسے خدشات جنم لے رہے ہیں جس سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالم اسلام میں ایک فکرکی لہردوڑگئی ہے۔ گزشتہ دنوں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بدعنوانی کے خلاف مہم کاآغازکرتے ہوئے کابینہ کے وزرااورسینئرشہزادوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاری کاحکم دیتے ہوئے بہت سے عرب مبصرین کو حیران وپریشان کردیا کہ ان کا قدم اقتدار اور اختیار کو تقویت دینے کا خطرناک کھیل ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان نے سلطنت کی انتہائی ممتازکاروباری اورسیاسی شخصیات کے خلاف کارروائی کی ہے تاکہ ملک میں سیاسی غلبے کے علاوہ تیل سے مالا مال سلطنت میں صوابدیدی تبدیلیاں رونما کی جائیں۔ لیکن سعودی عرب کی ملکیت العربیہ نیوزچینل کے مطابق گرفتارشدگان میں11 شہزادے،2 وزراء اوردرجنوں دیگرافرادشامل ہیں۔ ایک سعودی کاروباری کے مطابق سعودی ولی عہدشہزادہ محمد سلمان ایک نیاسعودی عر ب تخلیق کررہے ہیں۔مزید یہ کہ بدعنوانی کے خلاف مہم،ایک جارحانہ لیکن متنازع طرزِعمل ہے جس کے تحت سعودی خواتین کوگاڑی چلانے کی اجازت دینے کے علاوہ مذہبی پولیس پر پابندیوں کانفاذبھی کیاگیا ہے۔ گرفتار شدگان کی فہرست میں شہزادہ متعب بن عبداللہ بھی شامل ہیں،جو سابق شاہ کے بیٹے اورسعودی نیشنل گارڈکے سربراہ ہیں اوریہ عہدہ روایتی طورپرقبائلی قوت کامظہرہوتا ہے ۔ نیشنل گارڈ،شاہی خاندان میں توازن برقراررکھنے کاایک طریقہ ہوتاہے لیکن شہزادہ متعب بن عبداللہ کے متعلق یہ کہاگیا ہے کہ انہوں نے یہ توازن بگاڑدیاتھا۔ ایسامعلوم ہوتاہے کہ سعودی ولی عہدشہزادہ محمد بن سلمان سعودی عرب میں روایتی نظام طرزِحکمرانی کودانستہ مسمارکررہے ہیں،جوایک سست رولیکن بعض اوقات شاہی خاندان میں مؤثر اتفاق اور رضامندی پرمشتمل ہے لیکن نوجوان شہزادے نے جارحانہ اندازمیں انتظامی اختیاراورقوت کواپنے ہاتھ میں لے کراسے اپنے ایجنڈے کیلئے استعمال کرناشروع کر دیا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے ان کے اس جارحانہ طرزِعمل کاآغازاس وقت ایک ہفتے پہلے ہوگیاتھاجب انہوں نے دنیابھر کے فنی ماہرین اورکاروباری تجربہ کارافراد کی ایک کانفرنس کی میزبانی کی۔ حالیہ دنوں میں کی گئی گرفتاریوں سے مخملی دستانے میں آہنی مکے کی موجودگی کااحساس ہوتاہے۔ انہوں نے اپنی اس مہم کااحوال ایک ویڈیو کلپ میں بیان کیاہے، جواس وقت سعودی میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں وہ عوام کویقین دلارہے ہیں کہ بدعنوانی میں ملوث کسی بھی فردکو(خواہ شہزادہ ہویاوزیریاکوئی دوسرا فرد)معاف نہیں کیاجائے گا۔ ان گرفتاریوں کے ساتھ ہی ایک سپریم کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے تاکہ گرفتار شدگان کی بدعنوانی کی تفتیش کی جائے۔ کمیٹی کویہ حق حاصل ہے کہ ضرورت کے مطابق کوئی بھی ضروری قدم اٹھاسکتی ہے جس کے تحت بدعنوانی میں ملوث فردکے اثاثے ضبط کرنے کے علاوہ اس پرسفری پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے اس قدم کے ذریعے وہ راستہ اختیار کیا ہے جو انہیں سعودی نوجوانوں میں مقبول بنا سکے۔کئی نسلوں سے بدعنوانی، سعودی معاشرے میں سرایت کر چکی ہے جس کے باعث شاہی خزانہ کھوکھلاہو چکا ہے اور ملک میں جدیدیت کی راہ میں مشکلات کھڑی ہورہی ہیں۔ سعودی ولی عہد کا یہ قدم ان سعودی نوجوانوں کو متحرک کرسکتاہے جوایک نئی سلطنت کے خواہاں ہیں۔ وہ یہ بھی توقع کررہے ہیں کہ وہ مذہبی برادری کی حمایت سے ملک سے اشرافیہ کا قلع قمع کردیں گے۔ سعودی ولی عہد نے اب سابق بادشاہ عبداللہ کی طرف سے قیادت کے تخلیق شدہ نظام کو منتشر کردیا ہے، جن کی وفات 2015ء میں ہوئی۔ شہزادہ متعب کے علاوہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شہزادہ ترکی بن عبداللہ کو بھی گرفتارکرلیا ہے جو ایک اورممتاز بیٹے اور صوبہ ریاض کے سابق گورنر ہیں۔ علاوہ ازیں خالد بن توجیری کی بھی گرفتاری ہوئی ہے جنہوں نے عبداللہ کے شاہی دربارکے سربراہ کی حیثیت سے عملی وزیراعظم کاکرداراداکیاتھا۔جون میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سابق ولی عہد محمد بن نائف کوبھی عہدے سے ہٹا دیا تھا جنہوں نے بالآخران کے 81سالہ والدکاجانشین بننا تھا۔ اصلاحات کانعرہ بلند کرنے کے ساتھ اس ہفتے سعودی ولی عہد کی طرف سے اختیارکیاگیامطلق العنان طرزِ عمل دیگرممالک کے بعض مطلق العنان طرزِعمل کے مترادف ہے جس کی اس سے پہلے سعودی عرب میں کوئی مثال نہیں ملتی جہاں بدعنوانی کے خلاف مہم کے نام پراپنے سیاسی مخالفین کونکال باہرکیا جاتا رہاہو۔

ادھرقصرسفیدکے فرعون ٹرمپ نے دنیابھرکے تمام مذہبی اورمکتبہ فکرکے ملکوں،اداروں اوردانشوروں کامشورہ نظراندازکرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کادارلحکومت تسلیم کرکے امن عالم کوآگ لگادی ہے جس کادائرہ دن بدن وسیع ترہوتا چلا جارہا ہے۔ انمول انسانی جانیں اور گرانقدراملاک ضائع ہو رہی ہیں اورٹرمپ کایہ فیصلہ عالمی امن کیلئے کسی ناقابل تلافی نقصان کاپیش خیمہ ثابت ہوسکتاہے۔اسی لئے اقوام متحدہ اوراوآئی سی،عرب لیگ،یورپی برادری اور چہارسوبڑے اورچھوٹے ممالک میں احتجاج اورمذمت کا سلسلہ جاری ہے۔چین فرانس، عرب ممالک ،پاکستان اورمسیحی پوپ کے ساتھ ساتھ امریکابھرمیں بھی اس عمل کوانتہائی شرانگیزاوراشتعال انگیزقراردیاجارہاہے۔ خودامریکا کے سیاسی تجزیہ نگاراوردانشورٹرمپ کوذہنی عدم توازن کاشکارشخص قراردے رہے ہیں۔ صدیوں کے تاریخی سفرمیں انسان نے اختلاف رائے کااحترام، خواتین کی تکریم، شائستہ اطوار اوربین الاقوامی معاشرے کے فردکی حیثیت سے جن قابل قدراقدار کوفروغ دیا،ٹرمپ ان سب کوملیامیٹ کرنے پرتلے نظرآتے ہیں۔وہ اگرکسی معمولی یاچھوٹے ملک کے صدر ہوتے اوراپنے منفی تعصبات کااظہارکرتے تو یہ بات قابل مذمت ہونے کے باوجوددنیا کیلئے خطرے کاباعث نہ ہوتی لیکن عہد حاضرکی سپرپاورکے صدرساری دنیاکی رائے کو مسترد کرکے جب اسرائیل نوازی میں اس حدتک جائیں گے تویہ معمولی بات نہیں رہے گی۔سعودی ولی عہد کوٹرمپ اوران کے بااعتمادحلقے کی مضبوط حمایت حاصل ہے جوسعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کوایک اصلاح پسند سمجھتے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ گزشتہ ماہ ٹرمپ کے سینئر مشیراور داماد''جیئرڈکشنر''نے ریاض کا نجی دورہ کیااوردونوں نے کئی راتیں اکٹھے بسرکیں جن کے دوران انہوں نے ایک دوسرے کواپنی داستانیں سنائیں اورمستقبل کی منصوبہ بندی کی جس کے نتیجے میں امریکی صدرٹرمپ نے بالعموم عالمی امن اوربالخصوص مسلمانوں کے سینے میں خنجرگھونپتے ہوئے بیت المقدس یروشلم کواسرائیل کا باقاعدہ حصہ تسلیم کرنے کااعلان کردیاہے جس پرتمام عالم اسلام چیخ اٹھاہے لیکن حرمین کے خادمین چپ سادھے بیٹھے ہیں گویااس طرزعمل کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کوبجاطورپر سعودی ٹرمپ کہا جا سکتا ہے۔ان معروضی حالات میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کایہ رویہ ان کیلئے ایک خطرناک مثال ثابت ہوسکتا ہے جومستقبل میںسعودی عرب کوایک مہیب اورخطرناک گڑھے میں دھکیل سکتاہے اوریہ سعودی عرب میں امریکی اوراسرائیلی مذموم منصوبے "عرب بہار"کاآغازہوگاجس کے تحت پہلے ہی کئی عرب ممالک کوتاراج کیاجاچکاہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved