قائداعظم کا فرمان! اسلامی پاکستانی' اسلامی پاکستان
  26  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

کاش کہ مسلمان ممالک کے حکمران' سیاست دان اور میڈیا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کہ ''یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست یا محافظ نہیں ہوسکتے... وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں' ان سے دوستی نہ کرو اور جو مسلمان ان کا ساتھ دے گا وہ انہی میں سے ہوگا' اور اس کا انجام برا ہوگا '' کو نہ بھلا دیتے تو آج امت مسلمہ کی یہ مخدوش حالت زار نہ ہوتی... امریکہ بہادر کی بھی سنیے... ایک طرف تو اس کا یہ کہنا ہے کہ ''سعودی عرب پہ حملہ امریکہ پہ حملہ سمجھا جائے گا'' مگر دوسری طرف خود بیت المقدس پہ حملہ آور ہے... جبکہ اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ معلمی نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد منظور ہونے کے بعد کہا ہے کہ ''امریکہ کو ایسا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے' عالمی برادری نے امریکہ کو پیغام دیا ہے کہ وہ ایسے یکطرفہ فیصلے نہیں کر سکتا۔'' اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 193کے ایوان میں 9 کے مقابلے میں 128ووٹوں سے ''ٹرمپ'' کے فیصلے کو مسترد کرکے یقینا یہ بات تو ثابت کر دی کہ کم از کم امریکہ کا مہذب دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے ... ''ٹرمپ'' امریکی طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر جس طرح سے پاکستان اور اسلامی دنیا کو دھمکیاں دے رہا ہے... اس سے اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ امریکی صدر ''ٹرمپ'' ایک دفعہ پھر دنیا کو خون اور آگ کے سمندر میں دھکیلنا چاہتا ہے... اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان ممالک کے حکمران کم از کم اب ہی ہوش کے ناخن لے کر آپس کے اختلافات کو ختم کرکے ایک ٹیبل پر اکٹھے ہو جائیں اور یہی فرمان اللہ تعالیٰ کا بھی ہے... اللہ فرماتے ہیں کہ ''مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں ... اور انہیں اپنے تمام تنازعات کو آپس میں افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہیے۔'' مسلمان ملکوں کے حکمرانوں' سیاستدانوں اور اہل علم و دانش کو اپنے اپنے ملکوں کے اندر رہنے والے عوام میں بھی محبت' بھائی چارے اور اتفاق و اتحاد کو فروغ دے کر ان میں مسلم ''امہ '' کے تصور کو مضبوط کرنے کی شدید ضرورت ہے... اگر مسلمان ملکوں کے حکمران' سیاست دان' ارباب علم و دانش اور میڈیا اپنے' اپنے عوام کے اندر اتفاق و اتحاد اور قومی یکجہتی پیدا کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اس کے مثبت اثرات یقینا عالمی حالات پر بھی پڑیں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ مسلمان ممالک کے حکمران اسلام کی طرف لوٹ آئیں... امریکہ اور دیگر طاغوٹی قوتوں کا ڈر اور خوف دلوں سے نکال کر اپنے اپنے ملکوں میں اسلامی نظام نافذ کر دیں... یقین مان لیجئے جس دن یہ ہوگیا... وہ دن مسلم امہ کی کامیابیوں ' کامرانیوں اور فتوحات کے آغاز کا دن ہوگا ہم چونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسی ہیں... اس لئے اپنے ملک کی باتیں کر لیتے ہیں... اور وہ یہ کہ آج قیام پاکستان کے 70 سالوں بعد بھی سیکولر لادین عناصر... یہ افواہیں چھوڑ تے ہوئے نہیں شرماتے کی ''پاکستان'' اسلام کے لئے نہیں بلکہ سیکولر ازم اور لبرل ازم کی بنیاد پر بنایا گیا تھا... حالانکہ یہ پروپیگنڈا بالکل لغو اور بے بنیاد ہے 'حقیقت یہ ہے کہ اپریل 1948ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ ''ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا' بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے ہیں جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں''15 نومبر 1942ء کو آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس سے قائداعظم نے نہایت بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں... مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیری سو سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا... الحمدللہ قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا۔'' 10ستمبر 1945ء کو عیدالفطر کے موقع پر قائداعظم نے فرمایا تھا کہ ''ہمارا پروگرام قرآن کریم میں موجود ہے... تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ قرآن غور سے پڑھیں... قرآن کے پروگرام کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ مسلمانوں کے سامنے کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کر سکتی۔'' بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے اتنے واضح اور دو ٹوک خیالات کے باوجود نجانے... شریفوں' زرداریوں' پرویزوں' مزاریوں' دولتانوں اور میڈیا کے پنڈت بردھانوں کو یہ بات کس نے سمجھائی کہ قائداعظم پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے؟ اگر پاکستان کو لبرل اور سیکولر ریاست ہی بنانا تھا تو پھر سیکولر ہندوستان سے علیحدگی کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟... قائداعظم کی تصاویر لگا کر ... ''سیکولر'' پاکستان کی بات کرنے والے... قائداعظم کے سچے وفادار نہیں ہوسکتے۔

پاکستان بننے کے بعد 2جنوری 1948ء کو کراچی میں قائداعظم محمد علی جناح نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ '' اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور وفا کا مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن کے احکام و اصول ہیں... اسلام میں اصلاً نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے... نہ پارلیمنٹ کی' نہ کسی شخص یا ادارے کی... قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدیں مقرر کر سکتے ہیں' دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت پاکستان کے قرآنی احکام و اصولوں کی حکومت ہے۔'' حکمرانوں' سیاست دانوں اور میڈیا کے پردھانوں کو چاہیے کہ وہ لبرل اور سیکولر لادینیت کے نام پر قوم کو تقسیم کرنے کی بجائے پاکستان میں عملاً اسلامی نظام نافذ کرنے کی جدوجہد کریں تاکہ پاکستانی قوم متحد ہوسکے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved