بھارتی جاسوسی کلبھوشن یادیو سے فیملی کی ملاقات
  27  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

لڑائیوں اور جنگوں میں جاسوسی کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ساری جنگیں لڑی ہی صرف جاسوسی کی بنیاد پرجاتی ہیں ۔لیکن جاسوس اپنا کردار جنگ کے زمانے میں ادا کرتے ہیں ۔بدقسمتی سے ہم ہندوستان کے ساتھ حا لت ِ جنگ میں ہیں ۔ہندوستان اقوام ِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود عالمی طاقتوں کے واویلے کے باوجود نہ تو مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم بند کرتا ہے ، نہ قبضہ چھوڑتا ہے اور نہ ہی دل سے دشمنی کا بغض نکالتا ہے ۔ صرف کشمیر تک محدود رہتا تو یہ اس کی روزِ اول کی دشمنی کاحصہ تھا۔اب گزشتہ چند دہائیوں سے اس نے کشمیر سے زیادہ بلوچستان میں مداخلت شروع کر دی۔بلکہ کشمیر سے زیادہ ظلم و ستم کی داستانیں رقم کی ہیں ۔مذہبی تفرقہ بازی پھیلانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔سینکڑوں لوگوں کو خودکش حملوں میں شہید کرایا۔اس میں مختلف فرقوں کے لوگ شہید کرائے گئے۔پھر صوبائی تعصب پھیلانے کے لئے غیر بلوچی لوگوں خاص کر اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسر صاحبان ، طالبعلموں سمیت قابل ڈاکٹروں تک کو شہید کرایا گیا۔بلکہ ایک وقت ایسا بھی آیا جس میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید بلوچستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو تباہ وبرباد کر دیا جائے گا۔بلکہ 80فیصد قابل پروفیسر صاحبان بلوچستان چھوڑ کر دوسرے صوبوں یا دوسرے ملکوں میں چلے گئے تھے۔اور یہ تما م ترکردار کلبھوشن یا دیو جیسے کرداروں کا کارنامہ تھا۔کلبھوشن یادیو نے اعلیٰ تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل کر لی تھی۔بلکہ اپنی رہائش بھی جامعات کے ہاسٹل تک لے جانے میں کامیاب ہوگیا۔آج بھی سوشل میڈیا پر نائیلہ قادری بلوچ ہندوستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف زہر اگل رہی ہے۔یہ خاتون بلوچ نہیں ہے ۔ اس کا تعلق خیبر پختونخواہ کے ضلع ہزارہ سے ہے۔یہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں پروفیسر تھی لیکن اس کی ملاقات کلبھوشن یادیو سے ہوئی اور وہ اس کے بہکاوے میں آ کر یونیورسٹی کی جاب چھوڑ کر ہندوستان چلی گئی اور بے ہودہ پروپیگنڈہ کا آغاز کر دیا۔خدا بھلا کرے موجودہ حکومت ِ بلوچستان اور خصوصاً وائس چانسلریونیورسٹی آف بلوچستان پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کا جن کی ذاتی کوششوں سے یونیورسٹی آف بلوچستان کو شدت پسندوں سے خالی کرایا۔کلبھوشن یادیو کی بوئی ہوئی پنیری کا جڑوں سے خاتمہ کیا۔ اللہ کے فضل وکرم سے جو یونیورسٹی کلبھوشن یادیو کی منفی چالوں سے جہنم اور دہشت گردی کاگڑھ بن چکی تھی آج بالکل امن و سکون میں ہے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری میں آئی ایس آئی کمانڈر برگیڈئیر خالد فرید نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ کئی دن اور کئی راتوں کی مسلسل کوشش اور کاوش سے اس مکروہ کردار تک رسائی حاصل کی اور اس کو گرفتار کر کے اس سے بہت سے راز اگلوائے۔جس میں اس نے بین الاقوامی میڈیا کے سامنے آکر اپنے کرتوتوں کا اعتراف کیا۔اس کے اعتراف ِ جرم کی کہانیاں سن کر پاکستانی اور خاص کر بلوچ قوم کے اندر انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔لوگوں کا بس چلتا تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔لیکن حکومتِ پاکستان نے انسانی حقوق کو مدِ نظر لکھتے ہوئے اس کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں مقدمات درج کر کے باقاعدہ پاکستانی اور عالمی قوانین کے مطابق اس کے ساتھ رویہ اختیار کیا۔اس میں افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے کلبھوشن یادیو جیسے خطرناک اور ظالم جاسوس کی رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ حالانکہ بلوچی اور پاکستانی عوام اس کے لئے کسی قسم کی رعایت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔اس کے باوجود یہ پاکستان کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگی حالات کو ختم یا کم کرنے کے لئے کلبھوشن یادیو کو جلدی یا جذباتی سزا دینے سے اجتناب کیا اور ہر معاملے میں عدالتی احکامات پر عمل کیا۔اب بھی جب اس کی فیملی یعنی بیوی اور ماں نے کلبھوشن یادیو سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور ادھر کلبھوشن نے خود بھی ملاقات کے لئے حکومت ِ پاکستان کو درخواست دی۔تو حکومتِ پاکستان نے صرف اور صرف انسانی حقوق اور انسانیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ملاقات کی اجازت دے دی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ 25دسمبر براز سوموار ایک گھنٹے کے لئے یہ ملاقات ہوگی اور اس ملاقات میں ایک بھارتی سفارت کار بھی شریک ہوگا لیکن اسے اتنے فاصلے پربیٹھناہو گا کہ وہ کلبھوشن کی اپنی فیملی کے ساتھ ہونے والی گفتگو نہ سن سکیں ۔لہٰذا مقررہ وقت اور دن پر اس ملاقات کا اہتمام کر دیا گیا۔لیکن ہندوستان نے ہمیں اس انسانی ہمدردی کا یہ صلہ دیا کہ عین اس وقت جب کلبھوشن کی فیملی اس عالمی جاسوس کی انسانی ہمدردی کے تحت ملاقات کر رہی تھی اس وقت ہندوستان نے راولا کوٹ آزاد کشمیر میں بارڈر کے قریب اندھا دھند فائرنگ کر کے تین فوجیوں کو شہید اور ایک کو شدید زخمی کر دیا ۔ اور اس سے اگلے ہی روز 26دسمبر بروز منگل صبح 10بجے مقبوضہ کشمیر میں ایک بے گناہ کشمیر نوجوان کو شہید کر دیا گیا۔ہندوستان کی یہ حرکتیں عالمی طاقتوں اور اقوام ِ متحدہ کو نظر نہیں آتیں جو ہم سے کلبھوشن کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں اور جو ہمیں انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کا درس دیتے ہیں ۔لیکن ان عالمی تنظیموں اور عالمی طاقتوں کے علاوہ ایک طاقت اللہ تبارک تعالیٰ کی بھی ہے جو سمیع بھی ہے اور بصیر بھی۔ہم بحیثیت مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جو کچھ کلبھوشن کے لئے کیا اس کو اللہ دیکھ رہا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ہم سے پانچ گنا بڑا ملک ہونے کے باوجود اور پاکستان پر چاروں اطراف سے گھیرا ڈال کر حملے کرانے کے باوجود ہندوستان پاکستان کا ایک بال بھیگا نہیں کر سکااور نہ کر سکے گا۔انشا ء اللہ ہندوستان کو ہر قدم پر منہ کی کھانی پڑے گی۔کلبھوشن جیسے خطرناک جاسوس خودبخود آہنی کڑی میں جکڑے جائیں گے۔ہندوستان کی دنیا بھر میں رسوائی ہوتی رہے گی۔پاک فوج کا ہر سپاہی بھارت کے عزائم سے آگاہ ہے۔خاس طورپر بلوچستانی عوام کے دلوں میں ہندوستان کی سخت نفرت بھی پیدا کی جا چکی ہے

۔اس کا نقشہ12اگست 2017ء کو میں نے اپنی آنکھوں سے کوئٹہ شہر میں دیکھا۔جب وہاں شہر میں ایک خوفناک خودکش دھماکہ ہوا جس میں 100سے زیادہ لوگ شہید اور زخمی ہوئے۔تو اس وقت14اگست یوم آزادی کی وجہ سے پاکستانی جھنڈوں کی سینکڑوں دکانیں اور ریڑھیاں سجی ہوئی تھیں ۔بلوچستانی نوجوان بجلی کی طرح دھماکے والی جگہ پر پہنچے اپنے جیب خرچ سے سینکڑوں پاکستانی چاند ستارے والے جھنڈے خرید کر لائے جس سے وہ زخمیوں کا خون روکنے کے لئے پٹیاں بھی کر رہے تھے۔اور اس کے ساتھ وہ بلند آواز میں پاکستان زندہ باد ، ہندوستان مردہ باد کے علاوہ جیوے جیوے بلوچستان، جیوے جیوے پاکستان کے نعرے لگا رہے تھے۔یہ نعرے اور پاکستانی جھنڈوں کی پٹیاں بلوچوں کی پاکستان سے محبت اور ہندوستان کی منفی چالوں کو سمجھنے کا پتہ دے رہی تھیں ۔پاکستانی عوام کی سوچوں کے مطابق کلبھوشن یادیو اور اس جیسے دوسرے کرداروں کو پاکستان کے قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا ملنی چاہیئے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved