قرآن کی فضیلت
  28  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولۖ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ''عنقریب ایک بہت بڑا فتنہ رونما ہوگا۔'' نبی اکرمۖ نے جس فتنے کی خبر دی تھی وہ حضرت عثمان کے آخری عہد میں رونما ہوا۔ یہ فتنہ ایک یہودی عبداللہ بن سبا کا اُٹھایا ہوا تھا۔ جس میں حضرت عثمان شہید ہوئے۔ اس کے بعد مسلسل چار سال تک جنگ ہوتی رہی اور حضرت علیکا پورا دور خلافت خانہ جنگی اور فتنے کی نذر ہوگیا۔ جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں تقریباً ایک لاکھ مسلمان ایک دوسرے کی تلواروں، نیزوں اور تیروں سے قتل ہوئے۔ یہ بہت بڑا فتنہ تھا۔ ایسے حالات میں ایک حدیث کے مطابق نہ مرنے والے کو پتا ہوتا ہے کہ مجھے کیوں مارا جارہا ہے، نہ مارنے والے کو ہی معلوم ہوتا ہے کہ میں کیوں مار رہا ہوں۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی، اے اللہ کے رسولۖ! فتنے سے نکلنے کا راستہ کون سا ہوگا؟ یہاں آپ نوٹ کریں کہ صحابہ کرام کا ہماری طرح یہ انداز نہیں ہوتا تھا کہ کوئی علمی سوال کریں کہ حضور یہ بتائیے فتنہ کیا ہوگا، کیسا ہوگا، اس کی نوعیت کیا ہوگی؟ کہاں سے نکلے گا؟ اس کی شدت کتنی ہوگی،بلکہ وہ عملی سوال پوچھتے تھے۔ چنانچہ حضرت علی نے بھی ایک عملی سوال پوچھا کہ اس فتنہ سے نکلنے کا راستہ بتائیے۔ آپۖ نے فرمایا: ''اللہ کی کتاب''۔ اس کو مضبوطی سے پکڑو، یہ فتنوں سے نکالے گی۔ اب اس کے بعد آپۖ کی زبان مبارک سے اس کتاب کی فضیلت یوں بیان ہوتی ہے جیسے پھول جھڑتے ہیں۔ یہ کلام نبویۖ کی فصاحت و بلاغت کی بہترین مثال ہے۔ آپۖ نے فرمایا: ''اِس قرآن میں تم سے پہلی قوموں کا تذکرہ بھی موجود ہے۔'' سابقہ اقوام کی خبریں، ان کے حالات کا اس میں ذکر آیا ہے۔ جیسے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود اور آل فرعون وغیرہ۔ ''اور اس میں تمہارے بعد میں آنے والوں کی بھی خبریں (اشارے) موجود ہیں، اور تمہارے درمیان جو اختلافات ہو جائیں (یا مسائل کھڑے ہو جائیں) ان سب کا فیصلہ بھی اس کے اندر ہے''۔ یعنی قرآن قیامت تک کے لیے راہنما کتاب ہے۔ لہٰذا رہتی دنیا تک جو بھی مسئلے کھڑے ہوں گے اور جو بھی جھگڑے اُٹھیں گے ان سب کا فیصلہ، اس کی راہنمائی، اس قرآن میں ہے۔ ''یہ فیصلہ کن کلام ہے، یہ یا واگوئی نہیں ہے۔'' یہ کلام کس درجے میں فیصلہ کن ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ حضورۖ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسی قرآن کی بدولت قوموں کو اُٹھائے گا اور اسی کو ترک کرنے کی وجہ سے ذلیل و خوار کرے گا۔ قوموں کی قسمت کا فیصلہ اسی قرآن کی بنیاد پر ہوگا۔ ''جو شخص تکبر اور سرکشی کی بنیاد پر اس قرآن کو چھوڑے (نظر انداز کرے) اللہ تعالیٰ اسے تباہ و برباد کردے گا۔'' اللہ کا کلام اس زمین کے اوپر اور آسمان کے نیچے انسان کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ تو جو شخص اس نعمت عظیمہ کے ساتھ اس طرح کا رویہ برتے، بربادی ہی اُس کا مقدر ہے۔ اللہ اسے برباد کرکے چھوڑے گا۔ ''اور جو کوئی اس قرآن کے سوا کسی اور شے سے ہدایت تلاش کرے گا (جیسے آج کے مسلمان قرآن کو چھوڑ کر مغربی افکار میں مسائل کا حل ڈھونڈنا چاہ رہے ہیں) تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو گمراہ کرکے چھوڑے گا''۔ قرآن عام کتاب نہیں ہے کہ جب چاہا پڑھ لیا اور جب چاہانہ پڑھا۔ چاہا تو استفادہ کرلیا، نہ چاہا تو اُٹھا کر اوپر رکھ دیا، بلکہ یہ ہر معاملے کے لیے کامل راہنمائی ہے۔ ہمیں بہرصورت اِسی کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ اگر ہم کہیں اور سے راہنمائی چاہیں گے تو صرف گمراہی ہی ہمارے حصے میں آئے گی۔ ہمیں قرآن کو چھوڑ کر کہیں سے بھی ہدایت نہیںملے گی۔ ''اور یہی ہے حبل اللہ (اللہ کی مضبوط رسی)'' ان الفاظ کو پڑھتے ہوئے آپ کے ذہن میں قرآن مجید کی وہ آیت آئی ہوگی: ''(اے مسلمانو!) مل جل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو، اور تفرقے میں مت پڑو۔'' (آل عمران:103)تو یہاں اللہ کی جس رسی کا تذکرہ ہوا، اس سے مراد کیا ہے؟ آپۖ نے اس کی وضاحت اس حدیث میں فرمادی کہ یہی قرآن اللہ کی مضبوط رسی ہے جس کو تھامنے کا حکم ہوا۔ ظاہر ہے قرآن مجید کی تفسیر و تشریح اور وضاحت آپ کے ذمے تھی۔ ایک اور حدیث کے مطابق یہ رسی آسمان سے زمین تک تنی ہوئی ہے۔ اِس کا ایک سرا ہمارے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پس قرآن اللہ کے ساتھ براہِ راست مستقل رابطہ کا ذریعہ ہے۔ ''اور یہ انتہائی حکیمانہ ذکر ہے۔'' ذکر کی ہمارے دین میں بہت فضیلت آئی ہے۔ اِس کا سب سے مؤثر ذریعہ یہ قرآن ہے جو الذکر اور انتہائی حکیمانہ کلام ہے۔ ''اور یہی سیدھا راستہ ہے۔'' ہم نماز کی ہر رکعت میں جس صراط مستقیم کی دعا مانگتے ہیں، وہ یہ قرآن ہے۔ قرآن بالکل سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ''یہ وہ شے ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے خواہشات نفس (تمہیں) گمراہ نہیں کرسکتیں۔'' اس قرآن سے مستحکم اور مضبوط تعلق استوار کرو گے تو نفسانی خواہشات ٹیڑھے رخ پر نہیںلے جاسکیں گی۔ ''اور زبانیں اِس میں گڑ بڑ نہیں کرسکیں گی۔'' یہ اللہ کا کلام ہے جس میں التباس نہیں کیا جاسکتا۔ گڈ مڈ کرکے اس کے مفہوم کو نہیں بدلا جاسکتا۔ سابقہ آسمانی کتابوں میں تحریف کی گئی۔ حق و باطل کو گڈ مڈ کیا گیا۔ لیکن اس کتاب میں یہ کام نہیں ہوسکتا۔ یہ اپنی حفاظت خود کرتا ہے۔ ''علماء کبھی اس سے سیری محسوس نہیں کریں گے۔'' اہل علم ساری عمر قرآن مجید پر تدبر اور غوروفکر کریں گے، لیکن انہیںکبھی یہ محسوس نہیں ہوگا کہ اس میں جو حکمت کے موتی یا راہنمائی تھی، وہ ساری کی ساری ہم نے حاصل کرلی ہے، بلکہ ان کی تشنگی ہمیشہ برقرار رہے گی۔ ''اور تکرار تلاوت سے اس پر باسی پن طاری نہیں ہوگا۔'' ساری عمر انسان قرآن پڑھتا رہے گا لیکن یہ محسوس نہیں کرے گا کہ بس پیٹ بھر گیا، بلکہ اُس کی تشنگی بڑھتی جائے گی۔ ''اور اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔'' قرآن مجید بنیادی طور پر کتاب ہدایت ہے۔ اس میں تخلیق کائنات کا بھی ذکر ہے، جیالوجی کے بارے میںبھی اشارے آئے ہیں، فزیکل سائنسز کے حوالے سے بھی اشارات موجود ہیں۔ یہ عجائبات سے بھرا ہوا کلام ہے۔ یہ عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے، بلکہ ہر دور میں نئی نئی چیزیں سامنے آئیں گی۔جب سائنس کی دنیا میں نئی چیز دریافت ہو گی تب معلوم ہوگا کہ ہاں یہ بات بھی قرآن نے کہی تھی۔ اس وقت سمجھ میں نہیں آئی، اب سمجھ میں آرہی ہے۔ بہر کیف سائنس کے ارتقاء اور فزیکل سائنسز میں نئے نئے مشاہدات سے انسان کے سامنے قرآن کے عجائبات سامنے آتے رہیں گے۔ ڈاکٹر رفیع الدین نے بہت اچھی بات کہی ہے کہ قرآن مجید اللہ کا قول اور کائنات اللہ کا فعل ہے، اور اللہ تعالیٰ کے قول (قرآن) اور فعل (کائنات) میں تضاد نہیں ہوسکتا۔ یعنی قرآن مجید میں کوئی شے ایسی ہو ہی نہیں سکتی جو کائنات کی اصل حقیقتوں سے ٹکرائے یا اُس کے مخالف ہو، بلکہ اس میں اصل حقیقتوں کی طرف اشارے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ انسان کو وہاں تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔

''یہ وہ کتاب ہے کہ اِسے جیسے ہی جنوں نے سنا تو بے اختیار پکار اُٹھے: ہم نے سنا ہے قرآن جو بہت دل کو لبھانے والا ہے، جو سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے، تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔'' اِس طویل حدیث کے آخری ٹکڑے اس حدیث کا کلائمکس ہیں۔ فرمایا: ''جس نے اس قرآن کی بنیاد پر کوئی بات کہی اس نے سچ کہا۔'' ظاہر ہے کہ قرآن سے زیادہ سچی بات کسی کی ہو نہیں سکتی۔ ایک آدمی کسی واقعہ کے مشاہدہ کے بعد اگر اس کو سچ سچ بھی بیان کرے تو پورا سچ بیان نہیں کرسکتا۔ اِس لئے کہ اس واقعہ کے بہت سے پہلو جو اُس کے سامنے نہیں ہیں،اُس سے بیان ہونے سے رہ جائیں گے۔ یہ صرف اللہ کی ذات ہے جو کُل علم رکھتی ہے۔ لہٰذا اُس کی بات سو فیصد حق اور سچ ہے۔ چنانچہ جو شخص اس قرآن کی بنیاد پر، اس میں آنے والی خبروں، اس کی ہدایت و راہنمائی کی بنیاد پر بات کرے گا وہ سب سے زیادہ سچا ہوگا۔''اور جو قرآن پر عمل کرے گا اس کا اجر محفوظ ہے۔ جس نے قرآن کی بنیاد پر فیصلہ کیا تو اس نے یقینا عدل سے کام لیا۔'' آخری بات یہ فرمائی ''اور جس نے (لوگوں کو) قرآن کی طرف بلایا، اس کو تو سیدھے راستے کی ہدایت مل گئی۔'' کوئی اور اس ہدایت سے فائدہ اُٹھائے یا نہ اُٹھائے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved