کل بھوشن ملاقات پر بھارت کاواویلا
  28  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭بھارت کے میڈیا نے توکلبھوشن سے ماں اور بیوی کی ملاقات کے بارے میں جس زرد صحافت کا مظاہرہ کیا وہ تو کوئی نئی بات نہیں۔ ان لوگوں کی تو روزی روٹی اسی نہج پر چلتی ہے۔ مگر بھارت کی وزارت خارجہ کا رویہ! اُس نے سخت افسوس جاری کیا ہے کہ کل بھوشن کی ملاقات سے پاک بھارت مفاہمت کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ مفاہمت کیا تھی کہ ملاقات شروع ہونے سے پہلے آزاد کشمیر کی کنٹرول لائن پر بے تحاشا گولہ باری کرکے تین فوجی شہید ایک کو زخمی کردیا۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کردیا کہ بھارتی فوج نے آزاد کشمیر کے علاقے میں گھس کر یہ حملہ کیا۔ بہانہ یہ پیش کیا ہے کہ پاکستان کی فوج نے فائرنگ کرکے بھارتی فوج کاایک میجر اور تین سپاہیوں کوہلاک کردیا تھا، اس پر جوابی حملہ کیا ہے۔ پاکستان کی وزارت دفاع نے آزاد کشمیر میں سرحد پارکرکے پاکستانی فوجیوں پر حملے کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا کہ سرحد عبور کرنے کاکوئی واقعہ نہیں ہوا۔ اب ذرا کل بھوشن ملاقات کا کچھ ذکر! بھارتی میڈیا نے اس بات پر بہت شور مچایا ہے کہ کل بھوشن سے ملاقات سے پہلے اس کی والدہ اوراہلیہ کے لباس تبدیل کروائے گئے،پھر ملاقات کے لیے کمر ے کے اندرجانے سے ان کے منگل سوتر(ہار)، چوڑیاں، بیوی کی جوتی اور ماتھے پر لگائی ہوئی بندیا اتروالی گئیں اور یہ کہ کل بھوشن بہت کمزور تھا، چہرے کارنگ زرد تھا، اٹک اٹک کر بولتا تھا اس کے جملوں سے معلوم ہوتاتھاکہ اسے یہ جملے دباؤ کے ساتھ رٹائے گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ ملاقات بھارتی حکومت کے دباؤ پر کرائی گئی ہے۔ ان دعوؤں کی پاکستان کی وزارت خارجہ نے پرزور تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ماں بیوی کوجب سکیورٹی گیٹ سے گزار گیا تو بیوی کے گزرتے وقت گیٹ میں گھنٹیاں بجنے لگیں اس سے ظاہر ہوا کوئی دھاتی چیز اندر لے جارہی ہے۔ اس بناپر ان خواتین کے منگل سوتر ، ماتھے کی بندیا، چوڑیوں اور بیوی کی جوتیاں اتروالی گئیں۔ اسے دوسری جوتیاں فراہم کردی گئیں۔ واضح شک پیدا ہو اکہ بندیا ' چوڑیوں اور منگل سوتر کے زیور کے ساتھ جاسوسی اور فوٹوگرافی کی کوئی نہ کوئی چِپ لگی ہوئی ہے۔ بیوی ''چتین کل'' کی جوتیوں ساتھ تو واقعی دھاتی پلیٹیں لگی ہوئی تھیں۔ یہ لوگ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کے ساتھ کمرہ میں گئے۔ منگل سوتر اس ہار کوکہتے ہیں جو شادی کی رات ہندو خاوند اپنی بیوی کے گلے میں ڈالتا ہے۔ یہ بہت مہنگا اور بہت سستا بھی ہوتاہے۔اس کے آخر میں سونے چاندی یا کسی دوسر ی دھات کا ایک چھوٹا سا ٹوکن بھی لگا ہوتاہے۔ ان خواتین کی چوڑیاں اس لئے رکھ لی گئیں کہ کسی چوڑی کی شکل میں کوئی دھاتی چِپ اندر جاسکتی تھی۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ملاقات کے بعد یہ لوگ باہر آئے تو بیوی کو جوتیوں کے سوا ساری چیزیں واپس کردی گئیں ۔ اس کی جوتیوں کو تجزیہ کے لیے فرانزک لیبارٹری بھیج دیاگیاہے۔ اب اگلا قصہ! ملاقات کے بعد کل بھوشن اور اس کی والدہ نے تو پاکستان کی حکومت کا شکریہ اداکیا۔ مگر ماں بیٹیاں بھارت واپس پہنچیں تو انہیں وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے پاس طلب کرلیا، جہاں سیکرٹری خارجہ اور دوسرے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ان ماں بیٹیوں نے جوکچھ بتایااس پر سشما سوراج کے حکم پر بھارتی وزارت خارجہ کے ایک ترجما ن نے پاکستان کے خلاف سخت الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرکے مفاہمت کی فضا کو نقصان پہنچایا ہے! بھارتی ترجمان غالباً مفاہمت کی اس فضا کا حوالہ دے رہا تھا جو بھارتی فوج نے اسی روز آزاد کشمیر میں تین پاکستانی فوجیوں کوشہید اور ایک کو زخمی کرکے پیدا کی تھی! سوال یہ ہے کہ اس ملاقات کی ضرورت کیا تھی؟ اس سے کیا حاصل ہوا سوائے منفی پراپیگنڈہ کے ؟ ایک تجربہ کار تجزیہ کارنے توجہ دلائی ہے کہ اس قسم کا جاسوس ہاتھ آ جائے توساری معلومات حاصل کرکے اسے جلدی ختم کردیاجاتا ہے۔ بھارت نے یہی کیا کہ افضل گورو اور اجمل قصاب کو پاکستانی جاسوس بناکر انہیں پھانسی دے دی۔ ان سے تو کسی پاکستانی وفد کو ملاقات کا موقع نہ دیا گیا۔ پٹھان کوٹ میں بھارتی فوجی اڈے پر حملہ ہوا۔ حملہ آوروںکوگولی ماردی گئی۔ الزام لگایا گیا کہ حملہ پاکستانی افراد نے کیا ہے۔ پاکستانی سفارت کار وں کے وفدکو پٹھان کوٹ جانے کی اجازت دی گئی مگر اسے فوجی اڈے کی ڈیوڑھی دکھا کرواپس کردیاگیا۔ کسی شخص سے کوئی ملاقات نہ کرائی گئی۔ کل بھوشن والی ملاقات کو کیا کہا جائے؟ بدقسمتی! یا کیا؟ ٭سپریم کورٹ نے ایک خاتون وکیل کی درخواست پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے غیر رجسٹرڈ میڈیکل کالجوں میں بھاری فیسیں وصول کیے جانے کا سخت نوٹس لیااور تمام نجی میڈیکل کالجو ںمیں داخلے فوری طورپر بند کرنے کا حکم جاری کردیا۔ عدالت کو بتایاگیا کہ اسوقت 66میڈیکل کالج اور 35 ڈینٹل کالج نجی سطح پر کام کررہے ہیں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ڈاکٹر سلمان کاظمی نے بتایا کہ ان کالجو ںمیں فی طالب علم بارہ لاکھ روپے ابتدائی فیس لی جاتی ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ لاہور کے چودہ نجی میڈیکل کالجوں میں سے کوئی بھی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترا۔ فاضل عدالت کے روبرو خاتون وکیل نے بتایا کہ اسے درخواست دینے پر گورنر پنجاب کے بیٹے اور دوسرے بڑے لوگوں نے بہت دباؤ ڈالا ہے۔ اس پر چیف جسٹس برہم ہوگئے کہ گورنر کے بیٹے کو عدالت کارروائی پر اثرانداز ہونے کی جرأت کیسے ہوئی؟ چیف جسٹس نے گورنر کے بیٹے کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کردیا اور قانونی رائے بھی طلب کرلی کہ کیا گورنر کو عدالت میں طلب کیاجاسکتاہے؟ چیف جسٹس نے سخت وارننگ دی کہ عدالتی کارروائی کے حوالے سے ڈاکٹروں کی کوئی ہڑتال برداشت نہیں کی جائے گی۔ قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ جب میڈیکل کالجوں کی نگرانی اورکنٹرول کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل موجود ہے تو سپریم کورٹ تک یہ معاملہ کیوں پہنچا ؟اس کا جواب بھی خود ہی سوچ لیں۔ ٭پاکستان الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں کوہدائت کی تھی کہ گزشتہ تاریخ تک دو لاکھ روپے رجسٹریشن فیس اور دوہزارارکان کی فہرست جمع کرائی جائے۔ گزشتہ روز تک121سیاسی پارٹیوں نے کوئی فیس یا فہرست جمع نہیں کرائی۔ ان میں مولانافضل الرحمان اور مولاناسمیع الحق کی پارٹیاں، جمعیت اہل حدیث کی تین پارٹیاں، جسٹس افتخار چودھری کی پارٹی، جمہوری وطن پارٹی ' بی این پی وغیرہ شامل ہیں۔ جب کہ مسلم لیگ ن، ق ، بی این پی، پیپلز پارٹی اور کچھ دوسری پارٹیوں نے مطلوبہ تفصیلات فراہم کردی ہیں۔ چھ پارٹیوں کے معاملات کا جائزہ لیا جارہاہے۔ ٭پارلیمانی سیکرٹری رانامحمد افضل خان کو خزانے کا وزیر مملکت اور مفتاح اسماعیل کو وزارت خزانہ کامشیر بنادیا گیا یوں کابینہ کی تعداد 61 ہوگئی ہے۔ اسحاق ڈار بدستور وزیر خزانہ ہیں۔ خبر کے مطابق مشیر بنائے جانیوالے مفتاح اسماعیل نے تو اہم بیرونی یونیورسٹیوں سے مالیاتی امور کی پی ایچ ڈی تک ڈگریاں لی ہیں۔ آئی ایم ایف میں مشیر کے طورپر بھی کام کیا مگر رانامحمد افضل کے پاس مالیاتی امور کا کوئی تجربہ نہیں۔ ان کے پاس الیکٹریکل انجینئرنگ اور سیاسیات کی ڈگریاں ہیں! اس پر کیا تبصرہ کیاجائے، سوائے اس کے کہ سکھی وُہ جسے پِیا چاہے!

٭ایک دلچسپ خبر: لاہورمیں مغل پورہ پولیس نے شہبازشریف ولد محمدشریف کا تیزرفتاری کاچالان کرکے دو سوروپے جرمانہ کردیا! قارئین کی اطلاع کے لیے یہ وزیر اعلیٰ پنجاب کانہیں ایک عام آدمی کا معاملہ ہے۔ البتہ یہ خبر اہم ہے کہ موٹروے پولیس نے تیزرفتاری پر نئے بھارتی ہائی کمشنر بساریا کی گاڑی کاچالان کر750روپے جرمانہ وصول کرلیا۔ ابھی تک بھارت کااحتجاج سامنے نہیںآیا۔ ٭کراچی میں ریلوے ٹرین کے ڈرائیور کا چائے پینے کو دل چاہا۔اس نے ملیر وائرلیس گیٹ پر ٹرین روک دی اور ایک دکان پر چائے پینے چلا گیا۔ پھاٹک کے دونوں طرف گاڑیوں کی لائنیں لگ گئی۔ ٹرین اور گاڑیوں کے مسافر ڈرائیور کو ڈھونڈتے رہے ۔ اس نے بڑے آرام کے ساتھ چائے پی اور دس منٹ بعد واپس آکر گاڑی چلادی!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved