دسمبرمیں دہشت گردی کیوں؟
  29  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جب سے ضرب عضب اورردّالفسادجیسے کامیاب آپریشنزمیں دہشتگردی کے محفوظ ٹھکانے ختم کیے ہیں اس وقت سے دہشتگردوں کے سلیپنگ سیل(Sleeping Cells) یا افغانستان سے بھارتی سرپرستی میں چلنے والے اڈوں سے مبینہ دہشتگردا سان اہداف کو نشانہ بنانے کی مکروہ اورانسانیت سوزکاروائیوں میں مصروف ہیں۔ کوئٹہ میں انہی ظالم دہشتگردوں نے چرچ پردعائیہ تقریب کے دوران ایک خودکش حملے میںخون کی جوہولی کھیلی ہے اس سے پاکستانی عوام غم میں ڈوبے اپنے مسیحی بہن بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ تعزیتی اجلاس منعقدکرکے ان سے مکمل یکجہتی کابھرپوراظہارکررہے ہیں۔ حکومت بلوچستان نے فی الفورمتاثرین کی فی کس دس دس لاکھ کی امدادکے اعلان کے ساتھ چرچ کی ازسرنوتمام تعمیرکی ذمہ داری کابیڑہ بھی اٹھایاہے ۔ملک بھرمیں ہرمذہب کے پیروکاراس سانحے کے سوگ میں بشپ لاہورکی اپیل پرملک بھرکے تمام بڑے شہروں کی معروف شاہراہوں پرشمعیں روشن کرکے مسیحی برادری کے ساتھ اپنی غمگساری کااظہاربھی کررہے ہیں۔ چرچ پرتین دہشتگردوں نے اس وقت حملہ کیاجب وہاں مسیحی برادری کے چارسوسے زائدافرادعبادت میں مصروف تھے۔سیکورٹی ایجنسیزکی فوری کاروائی کی بناء پرایک دہشتگردچرچ کے دروازے پرہی جہنم واصل کردیاگیاجبکہ دوسرے نے عجلت میں خودکوچرچ کے احاطے میں ہی اڑالیا اورتیسرا فرارہوگیا۔امن دشمنوں نے ایک بارپھرعورتوں اوربچوں پرحملہ کرکے اپنے بزدل چہروں کوننگاکردیاہے۔کوئٹہ میں چرچ پرعبادت کے دوران کاروائی اس امرکی مظہرہے کہ اس کاروائی میں بھارتی رسوائے زمانہ ''را''ملوث ہے کیونکہ اس کامقصدپاکستان کوپوری دنیامیں بدنام کرنے کے علاوہ وطن عزیزمیں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اورانتقامی جذبات ابھارنے کی سازش معلوم ہوتی ہے جوایک مرتبہ پھربری طرح ناکام ہوگئی ہے جبکہ اس سے قبل بھی بھارتی بدنامہ زمانہ ''را'' کئی مرتبہ ارض وطن میں فرقہ واریت پھیلانے کی کاروائیوں میں ملوث رہی ہے جس کے مصدقہ شواہدنہ صرف اقوام متحدہ بلکہ یورپی یونین کے علاوہ امریکاسمیت دوسرے اہم ملکوں کے سامنے بھی رکھے گئے ہیں۔یہ توشکرہے کہ سیکورٹی فورسزنے ان دہشتگردوں کوچرچ کے باہرہی الجھالیاوگرنہ جیسے بتایاجاتاہے کہ چرچ میں اس وقت چارسوسے زائد بچوں سمیت مردوزن عبادت میں مصروف تھے۔ان دہشتگردوں میں سے ایک بھی چرچ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتاتوخاکم بدہن خوفناک صورتحال پیداہوجاتی۔ اس ضمن میں بعض حلقوں کی جانب سے سیکورٹی فورسزپراعتراض بھی کئے جارہے ہیں کہ چرچ کے باہرنصب سی سی ٹی کیمروں سے حاصل ہونے والی فوٹیج سے ظاہرہوتاہے کہ وہاں سیکورٹی کے انتظامات ناکافی تھے جبکہ یہ درست نہیں ہے کیونکہ یہ آسان اہداف اتنی زیادہ تعدادمیں ہیں کہ ان تمام پرمستقل طورپرسیکورٹی اہلکارمتعین کرناممکن نہیں،وہ خواہ عبات گاہیں ہوںیامساجد،تفریحی مقامات ہوںیااسکول،یہ اتنی وسیع تعدادمیں ہیںکہ ان تمام پر سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے لاکھوں تربیت یافتہ افرادکی ضرورت ہے اس لئے ان اداروں اورعوام کوبھی حکومت کاہاتھ بٹانے کیلئے اپنے سیکورٹی گارڈزکی خدمات حاصل کرنی چاہئیں لیکن اس کے باوجودفورسزکاانتہائی سرعت کے ساتھ چرچ میں داخل ہونے سے قبل ان دہشتگردوں کے مذموم منصوبے کوناکام بنانے پران کی حوصلہ افزائی ضرورکرنی چاہئے۔ایسی ہی کاروائی پشاورمیں بھی دیکھنے میں آئی تھی جہاں پولیس اورسیکورٹی فورسزکے ساتھ فوری طورپردہشتگردوں کے ہدف پرپہنچ کرانہیں ان کے منصوبے کے مطابق اقدامات کی اجازت نہیں دی اورفوری طورپران کوراستے میں ہی الجھاکرنہ صرف ناکام بلکہ انہیں انجام بدتک پہنچادیاتھا۔ جہاں تک سیکورٹی فورسزکاتعلق ہے تواس ضمن میں آئی جی پولیس بلوچستان نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ خودکش بمباراگردعائیہ تقریب تک یااس کے قریب ترپہنچ جاتے توناقابل تلافی نقصان ہوسکتاتھا۔چرچ پردہشتگردوں کابزدلانہ حملہ سیکورٹی فورسزکی بروقت کاروائی کی وجہ سے ناکام ہوگیا،اب ان دونوں دہشتگردوں کی لاشیں ہسپتال میں مزیدکاروائی کیلئے بھیج دی گئی ہیں اورقانون نافذکرنے والے اداروں نے اپنی تحقیقات کابھی فوری آغازکردیاہے۔ بلوچستان کے وزیرداخلہ سرفرازبگٹی نے بھی میڈیاکوبتایاکہ پولیس فورسزکی تعیناتی کے باعث دہشتگردمسیحی بھائیوں کویرغمال بنانے میں ناکام رہے۔دہشتگردوں نے عورتوں اوربچوں پروارکرکے اپنی جس بزدلی کااظہارکیاہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ ان وحشیوں کوہمارے معصوم پھول جیسے بچوں اورعورتوں کونشانہ بنانے کاآسان ٹارگٹ اس لئے دیاجاتاہے تاکہ ایسے انسانیت سوزحملوں سے قوم میں دہشت ،خوف اور سراسیمگی کی کیفیت پیداکی جائے لیکن ان کاہرجگہ نہ صرف بھرپورمقابلہ بلکہ ان کاتعاقب بھی جاری ہے۔ ( جاری ہے ) ایک خودکش حملہ آورنے جب چرچ میں داخل نہ ہونے پرخودکوچرچ کے احاطے میں بم دھماکے سے اڑالیاتوفطری طورپرمعصوم بچے ،خواتین اوردعائیہ تقریب میں شامل دیگرافراد جان بچانے کیلئے بھاگ نکلے۔ان دہشتگردوں نے توایک مرتبہ پھرماں باپ کے جگرگوشوں کوخون میں نہلادینے کی مکروہ کوشش کی لیکن سیکورٹی فورسزنے ان درندوں کوخون میں نہلاکرجہنم واصل کردیا۔چرچ میں بعض نہتی خواتین زخمی بھی ہوئیں اوراس واقعے کی خبرکے بعدان کے دیگرعزیزواقارب اپنے پیاروں کی خبرلینے کیلئے مقامی ہسپتالوں میں بھی پہنچ گئے جہاں ابھی تک بعض زخمیوں کاسرکاری طورپرتسلی بخش علاج کیاجارہاہے اورکئی زخمی افرادکوابتدائی طبی امدادکے بعدگھروں کورخصت کردیاگیاہے۔وطن عزیزمیں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی گواہی توہماراقومی پرچم بھی دیتاہے لیکن معصوم بچوں اورخواتین پرچھپ کروارکرناصرف دہشتگردی ہی نہیں بلکہ حیوانیت ہے۔ کسی مسلم ریاست میں غیرمسلم شہریوں کی جان ومال اورعزت وآبروکے تحفظ کی ضمانت دینادین اسلام کااہم حصہ ہے لہندااس ضمن میں یہ سوچنا کہ اسلامی ریاست میں غیرمسلم اقلیتیں محفوظ نہیں ،درست نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان میں جان،مال،آبروکے تحفظ کے حوالے سے مسلم اورغیرمسلم میں کوئی فرق نہیں ،جہاں تک چرچ پرحملے کاتعلق ہے توپاکستان میں صرف گرجاگھروں پرہی نہیں بلکہ مساجد،مذہبی عقیدت کے جلسوں جلوسوں،امام بارگاہوں،جنازوں اورجمعہ اورعیدین کے اجتماعات پرحتیٰ کہ بچوں کے اسکولوں تک پر بھی حملے کیے گئے جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ دہشتگردوں کانہ کوئی مذہب ہے نہ ہی کوئی اخلاقیات،ان کاصرف ایک ہی مذہب ہے ۔اوروہ ہے شیطانیت کی پیروی۔وہ جس اندازمیں معصوم وبیگناہ شہریوں،خواتین اورننھے معصوم فرشتہ صفت بچوں کونشانہ بنارہے ہیں ،وہ ہرلحاظ سے قابل نفرت ہے۔ ایسامحسوس ہوتاہے کہ دہشتگردوں نے دسمبرکے تیسرے ہفتے کوغیرانسانی کاروائیوں کیلئے خصوصی اہمیت دے رکھی ہے کیونکہ ٦١دسمبر١٧٩١ء اور٦١دسمبر٤١٠٢ء کوسقوط ڈھاکہ اورسانحہ آرمی پبلک اسکول پشاورکے صدمات سے دوچارہوناپڑاتھااوراب ٨١دسمبرکوچرچ کونشانہ بنایاگیا۔چرچ پرمجوزہ حملہ سے سوچناہوگاکہ آخرگزشتہ کچھ عرصے سے پنجاب اورسندھ میں دہشتگردی کی وارداتوں میں کماحقہ کمی دیکھنے میں آرہی ہے جبکہ خیبرپختونخواہ اوربلوچستان میں مقابلتاًان وارداتوں میں اضافہ نظرآرہاہے ۔ادھرحال ہی میں امریکی خارجہ سیکرٹری ریکس ٹلرسن کی جانب سے پاکستان کوبعض علاقوں کے الگ کرنے کی سنگین دھمکی کے بعدان خطوط پرغورکریں توایک ہی وجہ سامنے آتی ہے کہ سی پیک منصوبہ ہمارے ازلی وابدی دشمنوں کوبری طرح کھٹک رہاہے۔

یہ بھی یادرکھناضروری ہے کہ بھارت ،اسرائیل اورامریکاکی جانب سے سی پیک منصوبے کی شدیدترین مخالفت جاری ہے ۔بھارت اوراسرائیل کی مخالفت کی وجہ تو یہ ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان اپنی معیشت میں نہ صرف خودکفیل ہوجائے گابلکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائرمیں خاطرخواہ اضافے سے ملکی قرضے سے بھی نجات مل جائے گی جس کی وجہ سے پاکستان اپنی ہرطرح کی معاشی اورخارجہ پابندیوں سے نجات حاصل کرلے گا۔اس اقتصادی استحکام کی بنیادپرہمارے سائنسدان آزادی کے ساتھ اپنے تمام تجربات میں مصروف ہوجائیں گے اورجوسائنسدان وانجینئرزاب معاشی تنگی کے اس دورمیں جے ایف تھنڈر٧١جیسے جنگی طیارے اورمیزائل ٹینالوجی میں بھارت واسرائیل سے کہیں آگے اوربہترکارکردگی کامظاہرہ کررہے ہیں،مالی وسائل میں اضافے کے بعدبھارت اوراسرائیل کا اپنے اتحادیوںسمیت مقابلہ کرنانہ صرف ناممکن ہوجائے گابلکہ دفاعی میدان میں پاکستان کومزیدناقابل تسخیربنانے میں مددملے گی،یہی وجہ ہے کہ موساد''را''اورسی آئی اے کے ایجنٹوں کی پوری توجہ بلوچستان اورخیرپختونخواہ پرمرکوزہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved