بھارتی دہشت گرد سے انسانی ہمدردی
  29  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

کمال کر دیا... ن لیگی حکومت نے کمال کردیا' سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل کلبھوشن یادیو سے ''انسانی ہمدردی'' کے تحت اس کی ماں اور بیوی سے ملاقات کروا ڈالی... خواجہ آصف اور وزیراعظم عباسی کی ن لیگی حکومت نے یہ بھی نہ سوچا کہ بھارتی جاسوس اور قاتل سے ہمدردی رکھنے کا مطلب... سینکڑوں پاکستانی شہیدوں کے حقوق کو پامال کرنے کے مترادف ہے... سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی ''کم ظرف'' پہ احسان کرنے کا مطلب' اپنی رسوائی اور جگ ہنسائی ہوا کرتا ہے... اور پھر ''کم ظرف'' بھی ''ہندوئوں'' جیسا پلید اور نجس ہو تو اس کے آفٹر شاکس مزید بڑھ جایا کرتے ہیں۔ جو دہشت گرد بلوچستان سے لے کر ... کراچی تک پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیلتا رہا... اس بے غیرت دہشت گرد کے ساتھ ''انسانی ہمدردی والا آئیڈیاکس حکومتی شخصیت کا تھا... یہ بات زیادہ دیر تک چھپی نہیں رہے گی' بلکہ بعض اخبارات نے تو ابھی سے ہی... یہ رپورٹیں شائع کرنا شروع کر دی ''وزیر خارجہ خواجہ آصف امریکہ میں بھارتی دہشت گرد کل بھوشن یادیو کی رہائی کا وعدہ کرکے آئے تھے... امریکہ نے خواجہ آصف پر دبائو ڈالا تھا کہ وہ بھارت کے تعلقات کو بہتر بتائیں... جس کے لئے ضروری ہے کہ کل بھوشن یادیو کے کیس کو ختم کیا جائے... اور اسے بھارت واپس جانے دیا جائے... رپورٹ کے مطابق خواجہ آصف نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے لئے پہلے مرحلے کے طور پر کل بھوشن کی ماں اور بیوی سے ملاقات کا اہتمام کروایا ہے' بعدازاں اس بھارتی دہشت گرد امریکن جاسوس اور دہشت گرد ''ریمنڈ ڈیوس کی طرح ملک سے فرار کروا دیا جائے گا'' اللہ کرے کہ یہ رپورٹ غلط ہو... لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو پھر پاکستان کے عوام ن لیگی حکومت کو بھارتی دہشت گرد کے ساتھ مزید کرم فرمائیوں کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے... بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کل بھوشن یادیو 3مارچ 2016ء کو بلوچستان کے علاقے ''ماشکیل'' سے ایک آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تو اس کے پاس ایران سے جاری ہونے والا پاسپورٹ تھا' جس پر اس کا نام حسین مبارک پٹیل درج تھا... تفتیشی اداروں کے سامنے اس نے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ وہ ''را'' کا ایجنٹ ہے... تمام شواہد اور ثبوتوں کی موجودگی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے پاس ایجنٹ کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے مجریہ 1852 کے تحت سزائے موت سنائی تھی... جس کی توثیق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے بھی کر دی تھی... تب سے خونخوار دہشت گرد جیل میں سزائے موت کا منتظر ہے۔ بھارت اپنے جاسوس اور دہشت گرد کے کیس کو عالمی عدالت انصاف میں لے گیا' جہاں پاکستان نے موقف اپنایا کہ ''کلبھوشن یادیو بھارت کا عام شہری نہیں ہے' بلکہ اس نے ''را'' کے ایجنٹ کی حیثیت سے پاکستان میں داخل ہو کر تخریبی سرگرمیوں میں حصہ لیا' قتل و غارت میں ملوث ہوا اور اس نے مقامی ایجنٹوں میں رقوم بھی تقسیم کیں۔ بھارتی دہشت گرد کی بیوی اور ماں سے ملاقات کروانے کے بعد ... وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''کل بھوشن یادیو ایک جاسوس' دہشت گرد اور تخریب کار ہے... جو بلوچستان میں رنگے ہاتھوں پڑا گیا... بھارت اس کے حوالے سے کچھ بتانے کے لئے تیار نہیں اور اس کی یہی خاموشی ہماری داستان ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے' ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت کے ساتھ کئے جانے والے وعدوں کو پورا کیا' اور نہایت ہمدردی اور فراخ دلی کا ثبوت دیا۔'' کیا ہی اچھا ہو کہ اگر پاکستانی حکومت اسی طرح کی انسانی ہمدردی اور فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کی جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والی دختر پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ان کی والدہ اور بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی ملاقات کروانے کی بھی پوری کوشش کرے۔بھارت پاکستان کا آزمایا ہوا ملک ہے... ستر سالوں میں بھارت نے اس پہلے پاکستان سے کئے ہوئے وعدے کون سے پورے کئے کہ جو وہ اب کرے گا۔

اس سے قبل بھی پاکستان نے بھارت پر جتنے احسانات کئے اس کا جواب اس نے احسان فراموشی اور نمک حرامی کے ذریعے دیا' اقوام متحدہ کی قرارداد کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتی ہے... لیکن بھارت نے اس قرارداد کے ہوئے ہوئے بھی ... ایک لاکھ سے زائد کشمیری مسلمانوں کا قتل عام کرنے سے دریغ نہ کیا' پاکستانیوں کو پیاسا مارنے اور پاکستانی زمینوں کو بنجر کرنے کے لئے... بھارت کے حکمرانوں نے دریائوں کا پانی تک روکنے کی دھمکیاں دیں... اور تازہ ترین صورتحال دیکھ لیجئے کہ ادھر پاکستان نے ''انسانی ہمدردی'' کی بنیاد پر بھارتی دہشت گرد سے ان کی بیوی اور ماں کی ملاقات کروائی... اور ادھر بھارت نے نمک حرامی اور احسان فراموشی کا ثبوت دیتے ہوئے کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ کرکے تین پاکستانی فوجی شہید کر ڈالے' بھلا موذی سانپوں ' اژدھوں اور خونخوار درندوں سے بھی انسانی ہمدردی کرنی چاہیے؟ انسانی ہمدردی کے مستحق ''انسان'' ہوتے ہیں... ہندو دہشت گرد تو سانپوں' اژدھوں اور موذی خونخوار جانوروں سے بھی بدتر ہیں... ایسے ''بدتر'' موذیوں سے ''انسانی ہمدردی'' رکھنا بھی انسانیت کی توہین ہے۔ وما توفیقی الاباللہ


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved