دھماکے' تہلکے'دھمالیں
  29  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭دھماکے، تہلکے ، ہرطرف سنسنی! سپریم کورٹ کا جلال،نیب کی دھمال ،صوبائی محتسب کا کمال! ایف آئی اے کی گرما گرم چال! محشر برپا ہورہاہے ، ہونے والا ہے کہ سخت ہیں فطرت کی تعزیریں! بڑے بڑے گر گے کانپ رہے ہیں۔ اربوں ، کھربوں کی لوٹ مار کا حساب شروع ہوگیا۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کے لاہور میں گھر تک سرکاری خزانے سے ساڑھے بارہ کروڑروپے سے سڑک کی تعمیر کا محاسبہ! سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف' بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی ، سابق وزیر ڈاکٹر بابر اعوان ، واپڈا کے سابق چیئرمین طارق حمید، متروکہ اوقاف بورڈ کے مفرور چیئرمین آصف ہاشمی، بہت سے دوسرے موجودہ اور سابق اعلیٰ افسر ،یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر! نیب کے لپیٹ میں آنے والوں کی لمبی فہرست ہے۔ ان لوگوں پر کروڑوں نہیں اربوں بلکہ کھربوں کی لوٹ مار، ہزاروں غیر قانونی بھرتیوں ، بے تحاشا کرپشن وغیرہ کے الزامات ہیں۔ ان کی تفصیل خبروں کے صفحات میں موجود ہے۔ سندھ والے الزام لگاتے تھے کہ نیب صرف سندھ کے پیچھے پڑا ہواہے، پنجاب کوکچھ نہیںکہتا! اب جو معاملہ سامنے آیا ہے تو سب سے زیادہ پنجاب ہی کے خونخوار مگرمچھوں کے نام نمایاں ہیں۔ ایک دو کے سوا کوئی لوٹ مار بھی اربوں سے کم نہیں۔کوئٹہ میں صوبائی محتسب نے ناجائز تعمیرات گروا دیں۔ آئی ایم ایف کے قرضوں سے ان قوم دشمن عناصر نے محلات بنالئے، ان میں بیشتر کے بیرون ملک بھاری اثاثے بن چکے ہیں، بے شمار آف شور کمپنیاں بن چکی ہیں۔ نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاویداقبال نے واضح بیان دیا ہے کہ کسی بھی ملزم سے کوئی رعائت نہیں کی جائے گی۔ شریف خاندان ابھی احتساب عدالت کی موجودہ پیشیوں سے ہی فارغ نہیں ہوا تھا کہ رائے ونڈ روڈ سے جاتی عمرا تک کئی کلو میٹر طویل سڑک بھی گلے پڑ گئی ہے۔ اس سڑک پر عام لوگوں کی آمد ورفت ممنوع تھی۔ کہاں وہ جاہ وجلال کہ اسلام آباد کے وزیراعظم ہاؤس سے ہیلی کاپٹر پر لاہور کی گوال منڈی سے سری پائے منگوائے جاتے تھے اور کہاں یہ حال کہ عدالتوں میں مسلسل پیشیاں ناک میں دَم کئے ہوئے ہیں۔ ٭یوں لگتا ہے کہ بقول فیض احمد فیض ''ہم بھی دیکھیں گے وہ دن کہ جب تخت گرائے جائیں گے ، جب تاج اچھالے جائیں گے! ''۔ میر تقی میر کیا کلام کہہ گئے ہیں کہ '' ایک راہ گیر کا پاؤں ایک کاسئہ سر( کھوپڑی) سے ٹکرا یا تو اس سے آواز آئی کہ او بے خبر ! ذرا دیکھ کے چل، میں بھی کبھی کسی کا سرِپُر غرور تھا!''۔ تخت پر بیٹھے ہوں، سر پر تاج رکھا ہواتو تاجورکو بالکل یاد نہیں رہتاکہ تقدیرکب پلٹا کھاجاتی ہے۔ اپنے وقت میں ایران کے انتہائی طاقت ور جابر شہنشاہ رضا پہلوی کا جاہ وجلال میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ تہران کی بڑی سڑک بڑی دیرسے بند تھی۔ دور تک پولیس کھڑی تھی، سینکڑوں کھمبوں پر خیر مقدمی بینر لہرا رہے تھے۔ میں نے ایک ایرانی سے پوچھا کہ کسی ملک کا کوئی سربراہ آرہا ہے۔ اس نے کہا کہ نہیں شہنشاہ معظم رضا پہلوی ایک بیرونی دورے سے واپس آرہے ہیں۔ ایرانی ٹی وی اور ریڈیو پر ہر جملہ 'والا حضرت ہمایونی شہنشاہ معظم' سے شروع ہوتاتھا۔ ایک عرصے کے بعد میں دوبارہ ایران گیا اوراس محل کو دیکھنے کااتفاق ہوا جس میں ملکہ فرح پہلوی سے شادی کے وقت شہنشاہ رہا کرتاتھا۔ فرح پہلوی کی اجڑی ہوئی ویران خواب گاہ دیکھ کرعبرت یاد آئی۔ اسی طرح اپنے وقت میں عالم اسلام کے خلیفہ عبدالحمید II کے استنبول کے محل میں اس کی خواب گاہ دیکھی، وہی حال جو فرح پہلوی کی خواب گاہ کا تھا! اور پھرجب شہنشاہ رضا پہلوی کو ملک سے بھاگنا پڑا تو ان ملکوں نے جن سے شاہ کے گہرے تعلقات تھے، اس کے طیارہ کو اپنے ہاں اترنے کی اجازت دینے سے انکارکردیا! کئی ملکوں کے چکر کاٹنے کے بعد طیارے میں تیل ختم ہو نے لگا تو ایک ملک نے صرف تیل لینے کی حد تک اترنے کی اجازت دی۔ بالآخر مصر نے رحم کھایا۔ طیارہ ہوائی اڈے پر اترا، شاہ کی حالت انتہائی خراب تھی، اسے سیدھے ہسپتال پہنچایاگیا جہاں وہ تیسرے یاچوتھے روز چل بسا ! ٭بے نظیر بھٹو کے قتل کے باعث دسمبر پیپلز پارٹی کے لیے سوگ کا مہینہ ہے مگرپیپلزپارٹی کی قیادت نے چند روز پہلے پارٹی کے50سال پورے ہونے پر بھرپور جشن مسرت پھربے نظیر بھٹو کے قتل کے دس سال پورے ہونے پر سوگ منایا۔ جشن مسرت میں آصف زرداری نے دھمال ڈالی اور پھر سوگ کی تقریب میں بی بی بے نظیر کے غم میں نوحے پڑھے! اسی تقریب میں پارٹی کے خود بخود چیئرمین بلاول زرداری نے کھلے الفاظ میں کہا کہ میری ماں کا قاتل پرویز مشرف ہے۔ اس کے جواب میں پرویز مشرف نے آصف زرداری کوقاتل قراردے دیا اور اس کی وجوہ بھی بیان کر دیں۔ یہ تو جواب درجواب کی باتیں ہیں مگر ایک بات کا بلاول زرداری اور آصف زرداری کیوں جواب نہیں دیتے کہ یہ لوگ پانچ سال تک برسراقتدارہے۔ آصف زرداری صدر 'یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف وزیراعظم رہے، اس دور میں پرویز مشرف کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہ کی؟ اس کے برعکس یوسف رضا گیلانی نے پرویز مشرف کے روبرو وزیراعظم کے عہدہ کا حلف اٹھایااور پھر پرویز مشرف کواعلیٰ عشائیہ اور گارڈ آف آنر کے ذریعے رخصت کرکے ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی! برخوردار! پرویز مشرف کے سوال کاجواب تو دیں کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کافائدہ کسے پہنچا؟ اس سوال کا جواب بالکل واضح ہے۔ ٭بھارت کی لوک سبھا ( قومی اسمبلی) میں وزیر خارجہ سشماراج کے بیان پر ہنگامہ ہوگیا کہ پاکستان میں کل بھوشن کی بیوی اور ماں کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ ان کے گلے سے ہار( منگل سوتر) ، چوڑیاں اور جوتیاں رکھوالی گئیں وغیرہ وغیرہ۔ اس ہنگامے کے بعد سابق مرکزی وزیر سبرامینیم سوامی نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اب پاکستان پرحملے کا وقت آگیا ہے،یہ حملہ ہوناچاہئے۔ یہ ایک دیوانے کی بڑھک ہے۔ ویسے بھارت یہ شوق پورا کرکے دیکھ لے۔ اس کے اپنے اندر مختلف صوبوں کی آزادی کی 32 تحریکیں چل رہی ہیں، پہلے ان سے تو نمٹ لے۔ ٭بجلی پانی کے وزیر مملکت عابد شیر علی نے ایک کھلی کچہری میں کہا کہ ہم نے لوڈشیڈنگ ختم کردی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہاں بجلی بند ہوگئی۔ ٭سابق وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کسی کی ہمت نہیں کہ بے نظیر بھٹو کے قاتل کوپکڑے! رحمان ملک پانچ سال وزیر داخلہ رہے۔ بڑی طاقت ور ایجنسیاں ان کے ماتحت تھیں، انہوں کس نے روکا تھا قاتل کو پکڑنے سے ؟اس وقت کے صدر آصف زرداری نے واضح بیان دیا کہ وہ بے نظیر کے قاتل کو جانتے ہیں، پھرکیوں خاموش رہے؟ بزدلی ، کمزوری یا کوئی مفاداتی مصلحت! ٭ملک کے متوقع وزیراعظم میاں شہبازشریف کا ابھی سے اعلیٰ سطح کا پروٹوکول شروع ہوگیا۔ سعودی عرب سے ایک خصوصی شاہی طیارہ اچانک آیااور انہیںریاض لے گیا۔ اس سے قبل16 ملکوں کے سفیر شہبازشریف سے ملاقات کرچکے ہیں۔ میاں شہبازشریف کے ایک بیٹے حمزہ شہباز پہلے ہی سیاست میں سرگرم ہیں اوردوسرے بیٹے سلمان شریف نے بھی سیاسی بیانات شروع کردیئے ہیں! سیاسی حلقوں میں گرم گرم قیاس آرائیاں ہورہی ہیں ۔ پاکستان کے معاملہ میں سعودی عرب کیوں اچانک سرگرم ہوگیاہے؟ ٭ایک خبر:59 وزیروں مشیروں کی کابینہ کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے59ویں سالگرہ منائی اس کے بعد کابینہ میں مزید دو افراد کا اضافہ کردیا۔

٭تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور پنجاب کے سابق گورنر چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ حکومت نے ترقیاتی سکیم میں رشوت کے طورپر اپنے ارکان اسمبلی میں74 ارب روپے تقسیم کردیئے ہیں۔ یہ ناقابل برداشت لوٹ مار ہے۔ چودھری صاحب کا اعتراض اپنی جگہ مگر پھر ارکان اسمبلی اسی لوٹ مار کے لیے تو الیکشن لڑتے ہیں۔ الیکشن پر ان کے کروڑوں خرچ ہوتے ہیں ، وہ اور ان کا بھاری سود بھی تو وصول کرناہوتاہے! ٭پاکستان سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفےٰ کمال کا بیان ہے کہ کراچی میں چند روز قبل بننے والی مشہور فیصل روڈ بیٹھ گئی ہے! تبصرہ کی ضرورت نہیں۔ ٭خبروں کے مطابق خیبر پختونخوا میں بلدیات کے متعدد ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کو بری طرح شکست ہوئی۔ بیشتر بلکہ تقریباً تمام خالی نشستوں پر جماعت اسلامی، اے این پی اور دوسری جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جماعت اسلامی کا اعلان آگیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی! پتہ نہیں عمران خاں صاحب کو اب تک یہ خبریں پہنچی ہیں یا نہیں!!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved