دسمبرمیں دہشت گردی کیوں؟
  30  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) ایک خودکش حملہ آورنے جب چرچ میں داخل نہ ہونے پرخودکوچرچ کے احاطے میں بم دھماکے سے اڑالیاتوفطری طورپرمعصوم بچے ،خواتین اوردعائیہ تقریب میں شامل دیگرافراد جان بچانے کیلئے بھاگ نکلے۔ان دہشتگردوں نے توایک مرتبہ پھرماں باپ کے جگرگوشوں کوخون میں نہلادینے کی مکروہ کوشش کی لیکن سیکورٹی فورسزنے ان درندوں کوخون میں نہلاکرجہنم واصل کردیا۔چرچ میں بعض نہتی خواتین زخمی بھی ہوئیں اوراس واقعے کی خبرکے بعدان کے دیگرعزیزواقارب اپنے پیاروں کی خبرلینے کیلئے مقامی ہسپتالوں میں بھی پہنچ گئے جہاں ابھی تک بعض زخمیوں کاسرکاری طورپرتسلی بخش علاج کیاجارہاہے اورکئی زخمی افرادکوابتدائی طبی امدادکے بعدگھروں کورخصت کردیاگیاہے۔وطن عزیزمیں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی گواہی توہماراقومی پرچم بھی دیتاہے لیکن معصوم بچوں اورخواتین پرچھپ کروارکرناصرف دہشتگردی ہی نہیں بلکہ حیوانیت ہے۔ کسی مسلم ریاست میں غیرمسلم شہریوں کی جان ومال اورعزت وآبروکے تحفظ کی ضمانت دینادین اسلام کااہم حصہ ہے لہندااس ضمن میں یہ سوچنا کہ اسلامی ریاست میں غیرمسلم اقلیتیں محفوظ نہیں ،درست نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان میں جان،مال،آبروکے تحفظ کے حوالے سے مسلم اورغیرمسلم میں کوئی فرق نہیں ،جہاں تک چرچ پرحملے کاتعلق ہے توپاکستان میں صرف گرجاگھروں پرہی نہیں بلکہ مساجد،مذہبی عقیدت کے جلسوں جلوسوں،امام بارگاہوں،جنازوں اورجمعہ اورعیدین کے اجتماعات پرحتیٰ کہ بچوں کے اسکولوں تک پر بھی حملے کیے گئے جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ دہشتگردوں کانہ کوئی مذہب ہے نہ ہی کوئی اخلاقیات،ان کاصرف ایک ہی مذہب ہے ۔اوروہ ہے شیطانیت کی پیروی۔وہ جس اندازمیں معصوم وبیگناہ شہریوں،خواتین اورننھے معصوم فرشتہ صفت بچوں کونشانہ بنارہے ہیں ،وہ ہرلحاظ سے قابل نفرت ہے۔ ایسامحسوس ہوتاہے کہ دہشتگردوں نے دسمبرکے تیسرے ہفتے کوغیرانسانی کاروائیوں کیلئے خصوصی اہمیت دے رکھی ہے کیونکہ ٦١دسمبر١٧٩١ء اور٦١دسمبر٤١٠٢ء کوسقوط ڈھاکہ اورسانحہ آرمی پبلک اسکول پشاورکے صدمات سے دوچارہوناپڑاتھا اوراب ٨١دسمبرکوچرچ کونشانہ بنایاگیا۔چرچ پرمجوزہ حملہ سے سوچناہوگاکہ آخرگزشتہ کچھ عرصے سے پنجاب اورسندھ میں دہشتگردی کی وارداتوں میں کماحقہ کمی دیکھنے میں آرہی ہے جبکہ خیبرپختونخواہ اوربلوچستان میں مقابلتاًان وارداتوں میں اضافہ نظرآرہاہے ۔ادھرحال ہی میں امریکی خارجہ سیکرٹری ریکس ٹلرسن کی جانب سے پاکستان کوبعض علاقوں کے الگ کرنے کی سنگین دھمکی کے بعدان خطوط پرغورکریں توایک ہی وجہ سامنے آتی ہے کہ سی پیک منصوبہ ہمارے ازلی وابدی دشمنوں کوبری طرح کھٹک رہاہے۔

یہ بھی یادرکھناضروری ہے کہ بھارت ،اسرائیل اورامریکاکی جانب سے سی پیک منصوبے کی شدیدترین مخالفت جاری ہے ۔بھارت اوراسرائیل کی مخالفت کی وجہ تو یہ ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان اپنی معیشت میں نہ صرف خودکفیل ہوجائے گابلکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائرمیں خاطرخواہ اضافے سے ملکی قرضے سے بھی نجات مل جائے گی جس کی وجہ سے پاکستان اپنی ہرطرح کی معاشی اورخارجہ پابندیوں سے نجات حاصل کرلے گا۔اس اقتصادی استحکام کی بنیادپرہمارے سائنسدان آزادی کے ساتھ اپنے تمام تجربات میں مصروف ہوجائیں گے اورجوسائنسدان وانجینئرزاب معاشی تنگی کے اس دورمیں جے ایف تھنڈر٧١جیسے جنگی طیارے اورمیزائل ٹینالوجی میں بھارت واسرائیل سے کہیں آگے اوربہترکارکردگی کامظاہرہ کررہے ہیں،مالی وسائل میں اضافے کے بعدبھارت اوراسرائیل کا اپنے اتحادیوںسمیت مقابلہ کرنانہ صرف ناممکن ہوجائے گابلکہ دفاعی میدان میں پاکستان کومزیدناقابل تسخیربنانے میں مددملے گی،یہی وجہ ہے کہ موساد''را''اورسی آئی اے کے ایجنٹوں کی پوری توجہ بلوچستان اورخیرپختونخواہ پرمرکوزہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved