فوج کی سخت اور تلخ بریفنگ
  30  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭بڑی باتوں سے پہلے ایک چھوٹی سی خبر کہ کوئٹہ کی احتساب عدالت نے گردے صاف کرنے والی ناقص مشینیں خریدنے کی بھاری کرپشن کے جرم میں دو افراد ایڈیشنل ڈائریکٹر صحت عبدالغفار کیانی اور ڈاکٹر علی دوست کو تین تین سال قید اور فی کس 34 لاکھ 9ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنادی ۔ میں نے کل لکھاتھا کہ مکافات عمل کا دور شروع ہونے والا ہے۔ علامہ اقبال'ارمغان حجاز' میں بہت پہلے کہہ گئے کہ '' تقدیر ہے اک نام مکافات عمل کا''۔ میں بہت سے ناموروں، تاجوروں کے تاج گرتے دیکھ رہاہوں۔ چیر ہ دستوں نے جتنی چیرہ دستی کرلی ۔ اب فطرت کی سخت تعزیروں کا دور آرہاہے۔ اور پھر وہی باربار لکھی جانے والی بات کہ آخری آرام گاہ صرف سات فٹ لمبی ، ڈھائی فٹ چوڑی ہوتی ہے۔ اس میں کوئی سرے محل، کوئی سٹیل ملز ساتھ نہیں جاسکتی! ٭ایک عرصے بعد یا شاید پہلی بار فوج کے ترجمان نے صاف صاف کھلے الفاظ میں فوج کے بارے میںباتوں کا دوٹوک ذکر کیا اور سخت جواب بھی دے دیا۔ ایک عرصے سے اقتدار کے بعض گدی نشینوں نے عدلیہ کے خلاف ہڑبونگ مچار رکھی ہے۔ ججوں کے نام لے لے کر انتہائی ناشائستہ گفتگو کی جارہی ہے۔ اس عمل میںاقتدار کی ٹہنیوں پراچانک آبیٹھنے والی فاختائیں بھی شریک ہوگئیں۔ عدلیہ نے تو صبروتحمل سے کام لیا مگر اقتدار کے خانہ بدوشوں نے عدلیہ کے بعد پاک فوج کے بارے میں بھی شاعری شروع کردی ، اسے گزشتہ روز تینوں مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جس تلخ اور سخت اندازمیں موضوع بنایا ہے۔ اس پر یہ حلقے تلملا اٹھے ہیں۔ جنرل آصف غفور کی طویل پریس کانفرنس کی تفصیلات خبروں میں موجود ہیں۔ صرف چند باتیں! جنرل آصف نے کھلے الفاظ میں کہا کہ وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے فوج کے بارے میں نہایت غیر ذمہ دارانہ بیان دیا ہے۔بیان یوں تھا کہ ''جنرل باجوہ تو جمہوریت کی پوری حمائت کررہے ہیں مگر جن پر ان کا حکم چلتا ہے وہ کچھ اور کہہ اور کررہے ہیں''۔ جنرل آصف غفور نے کہا کہ اس بیان سے فوج کی چین آف کمانڈ کونشانہ بنایاگیاہے۔ انہوں نے فوج پر شریف خاندان کے اس الزام کا بھی جواب دیا کہ ان لوگوں کے خلاف سازش کی جارہی ہے۔فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ بالکل غلط الزام ہے ان لوگوں کے پاس کوئی ثبوت ہے تو پیش کریں۔ اب خواجہ سعد رفیق نے آئیں بائیں شائیں شروع کردی کہ میری ایک تقریر میں سے سیاق و سباق کے چند جملے نکال لئے گئے ہیں۔ یہ بات جیسی ہے، حکمرانوں اور فوج کے درمیان افسوناک واضح خلیج پیدا ہوچکی ہے۔ جنرل آصف نے درست کہا ہے کہ مسلح افواج انتہائی ڈسپلن والے ادارے ہیں۔ انہوں نے ایک معنی خیز بات بھی کہی ہے کہ پاک فوج کا چیف جس طر ف اشارہ کرے ، پوری فوج ادھر دیکھنے لگتی ہے۔ اس بات کی تشریح کی ضرورت نہیں۔ ماضی میں بہت سی مثالیں موجود ہیں فوج کے ساتھ جب بھی غیر معمولی سلوک کیاگیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالتے ہی دس جرنیل ریٹائرڈ کردیئے اور سقوط مشرقی پاکستان کے وقت ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں پاک فوج کے ہتھیار ڈالنے کی فلم بار بار چلوائی۔اس طرز عمل کاآخر کار نتیجہ کیا نکلا؟ پھرمیاں نوازشریف نے وزیراعظم کے طورپر پاک فوج کے جنرل کرامت جہانگیر کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا اور پھر اپنے ہی مقرر کردہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو جس انداز میں برطرف کیا ، اس کا جواب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ اب جب کہ پاک فوج کے تین جرنیلوں' جنرل کیانی' جنرل راحیل شریف اور جنرل باجوہ نے عملی طورپر ملک میں جمہوریت کی پاس داری کی ہے تو کیا ضرورت پیش آگئی ہے کہ فوج کے بارے میں فضول قسم کے بیانات کی۔ سازش' سازش کی رٹ لگائی جارہی ہے۔ تو ٹھیک ہے ثبوت پیش کریں۔ افسوس کہ نادان حاشیہ بردار صورتحال کو کس تلخ مقام پر لے آئے ہیں۔ اور سنیں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے سعد رفیق کو بے قصور قراردے دیا ہے اور کہا ہے کہ فوج بلاوجہ گرم ہورہی ہے! ٭وزیر خارجہ اور پاک فوج کے ترجمان نے تصدیق کردی ہے کہ کل بھوشن کی بیوی کی ایک جوتی میں ایک دھاتی چپ لگی ہوئی ہے جس سے سراغ رسائی ہوسکتی تھی۔ بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے بھارتی لوک سبھا میں شور مچاتے ہوئے کہا کہ کل بھوشن کی بیوی دو ایر لائنز کے دروازوں سے گزر کر گئی وہاں تو چپ نہ پکڑی گئی! سشما کو اچھی طرح علم ہے کہ ہوائی اڈوں کے درواز ے ایسی چپ کی کوئی فرانزک چیکنگ نہیں کرسکتے۔ یہ مشکل کام ہوتا ہے جو خاص لیبارٹریوں میں ہوسکتا ہے۔ ویسے یہ تو بتایا جائے کہ اس چپ کو ایک جوتی میں لگانے کی کیا ضرورت تھی! ٭بلا تبصرہ! کوئٹہ میں ایک ٹریفک سارجنٹ کو گاڑی سے کچل کر ہلا ک کردینے والے رکن اسمبلی مجید اچکزئی کو پانچ لاکھ روپے کی ضمانت پر رہا کردیاگیا! یہ واقعہ چھ ماہ پہلے پیش آیاتھا۔ میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مجید اچکزئی بلوچستان کے گورنر محمد خاں اچکزئی اور وفاقی حکومت کے اتحاد ی محمود خاں اچکزئی کا بھائی ہے!! ٭سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کراچی کے بعد لاہور میں پینے کے ناقص پانی اور دوسرے معاملات کاسخت نوٹس لیا ہے۔ چھوٹے حکام سے لے کر چیف سیکرٹری تک کی دوڑیں لگی ہوئی ہے۔چیف سیکرٹری نے کس سادگی سے کہا ہے کہ لاہور میں گندا پانی صاف کرنے کا کوئی پلانٹ نہیں، اتنے بڑے شہر کے گندے نالوں کا سارا پانی اسی طرح دریائے راوی میں جارہاہے۔ یہ پانی لاہور شہر کے علاوہ دریا کے اردگرد آبادیوں میں استعمال ہوتا ہے۔ چیف جسٹس کے مختلف امور کے بارے میں بھی سوالا ت کے غیر اطمینان بخش جوابات آئے۔ انتظامیہ کے ان لوگوں کی تمکنت اور اپنے عہدے کے غرور کا عالم کہ چیف جسٹس اُردو میں باتیں کررہے ہیں۔ انہوں نے سیکرٹری انڈسٹریز سے کوئی بات پوچھی تو اس نے جواب میں انگریزی بولنی شروع کردی اس پر چیف جسٹس برہم ہوگئے اور سیکرٹری کو ڈانٹ دیا! ٭روس نے پاکستان کو جنگی اور مسافر طیارے دینے کااعلان کیا ہے۔ روسی سفیر نے گزشتہ روزایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں ملکوں میں تعلقات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ٭بھارت کی مرکزی حکومت نے کھلا الزام لگایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں محبوب مفتی کی حکومت دہشت گردوں کی مدد کررہی ہے۔ محبوبہ مفتی نے اس بات کا جواب دینے کی بجائے اپنے چھوٹے بھائی تصدق مفتی کو بھی اپنی کابینہ میں وزیر بنالیا ہے۔ ٭ایک دلچسپ خبر: بھارت کی حکومت نے چین کی سرحد پر خچروں کی بجائے اونٹوں سے باربرداری کا کام لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سرحد ہمالیہ کے پہاڑی علاقے میں ساڑھے پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں سخت سردی ، برف باری بھی ہوتی ہے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق خچر40کلووزن لے جاسکتا ہے جب کہ کوہان والے اونٹ220 کلو تک وزن لے جانے کی طاقت رکھتاہے۔ بھارتی فوج نے تجرباتی طورپر چاراونٹ سرحد پر پہنچادیئے ہیں۔ اب مسئلہ یہ پیش آرہاہے کہ خچر کی ٹانگیں چھوٹی ہوتی ہیں وہ آسانی سے پہاڑ وں پر چڑھ جاتا ہے۔ اونٹ کی ٹانگیں بہت لمبی ہوتی ہیں، وہ پہاڑ پر کیسے چڑھ سکے گا ؟ مزید یہ کہ اونٹ صحرائی جانور ہے، گرم موسم میں رہتا ہے وہ برف باری والا موسم کیسے برداشت کرسکے گا؟

٭ایک اور خبر کہ اقوام متحدہ کے آثار قدیمہ کے تحفظ کے ادارے یونیسکو نے قراردیاہے کہ آگرہ میں تاج محل بہت میلا دکھائی دے رہاہے۔ اس پر مختلف قسم کے گردوغبار اور کیمیاوی مادوں کی تہیں جم گئی ہیں۔ یوں یہ تاریخی عمارت اپنا حسن اور اہمیت کھو رہی ہے۔ اس پر بھارتی محکمہ آثارقدیمہ نے اعلان کیا ہے کہ تاج محل کی ایک خاص قسم کی مٹی کے گارے کے ساتھ رگڑائی کی جائے گی۔ یہ عمل ایک سال میں مکمل ہوگا۔ اس دوران اس کے گرد غبار سے تماشائی متاثر ہوسکتے ہیں اس لیے شاید ایک سال تک اسے بند رکھنا پڑے۔ چند سال قبل مجھے آگرہ میں تاج محل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس پر پہلی نظر پڑتے ہی دھچکا لگا! بچپن سے اس عمارت کی خوبصورتی اور چمک دمک کے بارے میں جوکچھ پڑھا تھا، اس کے بالکل الٹ نظر آیا۔ ایک میلی کچیلی عمارت، کوئی چمک دمک نہیں۔ ایک ایسے پلیٹ فارم پر کھڑی جس کی ٹائلیں جگہ جگہ اکھڑی اور ٹوٹی ہوئی، فواروں کا پانی بند، نالیاں خشک اورویران! مزید ستم یہ ہواہے کہ اترپردیش ( یوپی ) کے نئے ہندو وزیراعلیٰ نے اس عمارت کی بحالی کے لیے کوئی فنڈ دینے سے ہی انکار کردیا ہے! قارئین کرام!آج میں نے کسی سیاسی صورت حال پر کچھ نہیں لکھانہ ہی کوئی تبصرہ کیا ہے! کیا اچھا نہیں کیا؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved