توہین رسالت قانون کا خاتمہ نامنظور
  31  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

توہین رسالت کے قانون کو ختم کرانے کے لئے عالمی قوتیں بہت سرگرمی دکھارہی ہیں اور اقوام متحدہ کے ذریعے مطالبات کروائے جارہے ہیں کہ یہ قانون انسانی حقوق کے خلاف ہے اور اسے آپ کو ختم کرنا پڑے گا۔حضور ۖ پر ایمان کے حوالے سے قادیانیوں کا جومسئلہ ہے، اس حوالے سے حالیہ دنوں میں جو سازش کی گئی تھی وہ بھی بیرونی دبائو کے زیر اثر کی گئی تھی ۔ہمیں ڈکٹیشن تو اوپر سے ملتی ہے۔پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کے لئے عالمی قوتیں درپے ہیں۔جو ملک اسلام کے نام پر بنا ہے وہ انہیں سب سے زیادہ کھلتا ہے۔اول تو بنا ہی اسلام کے نام پر اس پر مستزاد یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایٹمی قوت سے نواز دیا ۔لہٰذا ہم دنیا کی نظروں میں سب سے زیادہ کھٹک رہے ہیں۔ ان کی نظریں ہم پرہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انہیںپاکستان سے یا سیاسی اور مذہبی طبقات کے رہنمائوں سے کچھ زیادہ خطرہ نہیں ہے۔تاہم وہ اس بات کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میںرسول اللہ ۖ سے محبت کی جو چنگاری موجود ہے ،اس کو ختم کیا جائے۔ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کے خلاف حالیہ عوامی رد عمل کے باوجود عالمی طاقتوں نے اقوام متحدہ کے ذریعے توہین رسالت کا قانو ن ختم کرانے کے مذ موم ایجنڈے پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔پانچ سال قبل ناموس رسالت کے حوالے سے جومعاملہ سامنے آیا تھا توتمام دینی جماعتوں نے ایک زبردست تحریک چلائی تھی کیونکہ حکومت نے یہ طے کرلیا تھا کہ آسیہ بی بی کو رہا کردیا جائے گا حالانکہ اس نے توہین رسالت کے ارتکاب کا اعتراف کرلیا تھا ۔لہٰذا اس پر جرم ثابت ہوچکا تھا۔حکومت نے یہ طے کرلیا تھا کہ اسے بیرون ملک بھیج دیا جائے گا ۔اس وقت بھی قانون رسالت کے قانون کی تنسیخ کے لئے بیرونی دبائو آیا تھا کیونکہ اس کا تعلق بھی ان عالمی قوتوں کے نزدیک انسانی حقوق سے ہے۔لیکن دینی جماعتوں کی چلائی گئی تحریک کے نتیجے میں حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑ گئے تھے۔اب ایک بار پھر ہمیں بیرونی دبائو کا سامنا ہے۔بہرحال غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان کیوں ایسے معاہدوں پر دستخط کرتا ہے جس کے مطابق ہمیں شریعت کے خلاف اقدام کے لئے دبائو آتا ہے۔بہرحال اس میں ایک عذر بھی ہے کہ آپ اقوام متحدہ کے رکن ہیں اور اس کے چارٹر کو تسلیم کرتے ہیں ۔یورپی یونین اور امریکہ کی طرف سے دبائو دیا جاتا ہے۔لیکن فیصلہ تیر ا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم ۔ایک طر ف مسلمان کا دل کچھ چاہتا ہے تو دوسری جانب پیٹ کے تقاضے کچھ اور ہیں۔ویسے ہی ہماری معیشت کا جو حال ہے وہ ہم سب پر عیاں ہے۔ہمارے ہاں جو بھی حکومتیں بنتی ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ عوام کو پتہ نہ چلے اور وہ اپنا کام کرجائیں۔اس کا ایک موقع پھر توہین رسالت کے خاتمے کے لئے دبائو کی صورت میںسامنے آرہا ہے ۔ہمیں اپنا یہ قانون جاری رکھنا ہوگا چاہے اقوام متحدہ سے علیحدگی اختیار کرنا پڑے۔توہین رسالت کا قانون ہمارے عقیدے کا مسئلہ ہے۔یہ ایمان اور اسلام کا تقاضا ہے جس میں ہماری حکومتیں مسلسل ناکام ہوتی چلی جارہی ہیں۔مجھے علامہ اقبال کا وہ شعر یاد آرہا ہے دیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارہ ۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی بظاہر ایک اچھی خبر ہے۔فی الحال اس میں چار مذہبی سیاسی جماعتیں شامل ہوچکی ہیں ۔جید عالم دین مولانا سمیع الحق جے یو آئی (س) کے سربراہ ہیں جو جے یو آئی ہی کا ایک دھڑا ہے لیکن وہ ایم ایم اے میں شامل نہیںہونے سے انکار کردیا ہے۔انہوں نے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا ہے۔تمام مذہبی سیاسی جماعتیں چاہ رہی تھی کہ ایم ایم اے بحال ہوجائے کہ اس کے بغیر تو بے حالی ہی بے حالی ہے۔کسی کو کچھ بھی نہیں ملتا ۔اگر کچھ مل سکتا ہے تو ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے مل سکتا ہے۔ایم ایم اے پہلے کامیاب ہوئی تھی ، اس وقت ساری سیاسی مذہبی جماعتیں اس کا حصہ تھیں۔کتاب کو اس وقت بھی انہوں نے اپنا انتخابی نشان بنایا تھا اور الیکشن مہم کے دوران اسے کتاب اللہ کی صورت میں پیش کیا تھا۔پاکستان کے شہریوں نے انہیں ووٹ بھی اچھی تعداد میں دئیے تاہم ان کی کامیابی جزوی تھی ۔صوبہ سرحد میں اس کی حکومت بن گئی تھی اور صوبہ بلوچستان میں وہ شریک اقتدار ہوگئے تھے۔صوبہ پنجاب اور سندھ میں تو اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔پاکستان کی تاریخ میں اس وقت کی اس کی کامیابی اعلی ترین کامیابی تھی۔اس کی پشت پر اور فیکٹرز بھی تھے۔امریکہ نے اس وقت افغانستان پر تازہ تازہ حملہ کیا تھا اور امریکہ کے خلاف عوام میں جذبات عروج پر تھے ۔صوبہ سرحد اور بلوچستان کی سرحدیں چونکہ افغانستان سے ملتی ہیں لہٰذا اس کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ ملکی سطح پر اسلام کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔دونوں صوبہ میں کچھ جزوی اقدامات ضرور ہوئے ۔لیکن نظام تو نہیں بدلا۔پورے ملک میں سودی نظام اس وقت بھی جاری تھا اور آج بھی جاری ہے۔اس کے پاس صوبائی حکومتیں تھیں جو مرکز کی تابع ہوتی ہیں۔مجھے یہ کہتے ہوئے اچھا محسوس نہیں ہورہا ہے لیکن میں واضح کردوں کہ میرے اندازے کے مطابق اتنی کامیابی اب حاصل نہیں ہوسکتی۔اسلام اس وقت بھی نہیں آیا تھا ، اب بھی نہیں آئے گاْستر سال کی تاریخ شاہد ہے کہ اس راستے سے اسلام نہیں آسکتا۔دوسرا راستہ جسے بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد تیس سال تک بتاتے رہے ،اس کی طرف آنے کے لئے دینی جماعتیں تیار ہی نہیں ہیں۔اس راستے میں آنے میں کیا مسائل درپیش ہیں وہ وہ جانتی ہیں۔مجھے بھی جب موقع ملتا ہے، اس جانب توجہ دلاتا رہتا ہوں۔پچھلے دنوں میں نے اس موضوع پر ملی یکجہتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کیا تھا جسے کونسل کے رہنمائوں نے توجہ سے سنا اور ایک کمیٹی بھی بنائی ہے کہ اس انداز سے بھی کام ہونا چاہئے یعنی ایک پرامن اور بھرپور عوام تی تحریک چلائی جائے جس کے ذریعہ اسلام کے نفاذ کے مطالبے میں کامیابی ہوسکتی ہے۔ہماری پشت پر ہمارا دستور موجود ہے جس میں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔جب یہ جماعتیں اللہ کی حاکمیت کے لئے کھڑی ہوں گی تو دستور ان کا ساتھ دے گا۔جو حق دستور دے رہا ہے ، اس سے عوام کو محروم نہیں رکھا جاسکتا۔یہ طریقہ موجودہ ملکی حالات میں مناسب بھی ہے اور آزمودہ بھی کیونکہ دینی ایشوز پر جب بھی ملک میں عوامی تحریک چلی ہے ، اسے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ لیکن ضروری یہ ہے کہ نظام مصطفی ۖ کے نفاذ کے لئے تحریک چلائی جائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

آخری بات یہ کہ القدس کے حوالے سے او آئی سی کا ایک اجلاس تو ہوا ہے جو بظاہر ایک اچھی خبر ہے لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات کا ہے۔صرف یہ کہ ترکی کے صدر طیب اردوان نے ہمت کی ہے یہ کہہ کر کہ اس پلیٹ فارم سے اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دیا جائے ۔لیکن افسوس کے اس مطالبے کو او آئی سی کے مشترکہ اعلامیے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔بہت افسوس کی بات ہے کہ سعوی عرب اور مصر جیسے اہم ممالک نے اس سربراہی سطح کے اجلاس میں شرکت ہی نہیں کی۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں امت کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ۔آخر میں دعا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو اس ملک کو اسلامی بنیادوں پر چلانے کی توفیق عطا فرمائے اور صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں تمام اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو اللہ کے دین کے ساتھ وفاداری کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved