نرمی سے دی گئی ''شٹ اپ کال''
  31  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) جنرل قمر باجوہ کو 16بلوچ میں کمیشن ملا۔ انہوں نے اپنے مرحوم والد کی طرح اس یونٹ کی کمان بھی کی۔ 16بلوچ نے بہترین افسران پیدا کیے ، اس کی خوش قسمتی ہے کہ بریگیڈیئر چوہدری فتح علی خان(مرحوم لیفٹننٹ جنرل افتخار علی خان اور چوہدری نثار علی خان کے والد) ، لیفٹننٹ جنرل امین بخاری اور میرے اچھے دوست مرحوم لیفٹننت جنرل آغا جہانگیر جیسے افسران نے اسے کمانڈ کیا۔ باصلاحیت افسر کے طور پر اپنی پہچان بنانے والے قمر باجوہ نے دوٹوک انداز میں جمہوریت سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ آرمی چیف کی سینٹ کی ان کیمرہ اجلاس میں بریفنگ سول ملٹری تعلقات کے تناظر میں ایک تاریخی واقعہ ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب فوج پر (عدلیہ کے ساتھ مل کر) سویلین حکومت کے خلاف سازشیں کرنے کی افواہوں کا بازار گرم تھا۔ آرمی چیف اچھی طرح واقف تھے کہ انھیں سینٹ میں حزب مخالف کے سینیٹرز کے تندوتیز سوالوں کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم زیادہ ''تلخی'' حکومتی بینچز کی جانب سے دکھائی گئی، جو بنیاد طور پر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحب زادی مریم نواز کی نفرت انگیز( اور خلاف حقیقت) ہرزہ سرائی کا ہی پیش خیمہ تھی۔ فیض آباد دھرنے کے بارے میں یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ فوج کا منصوبہ تھا۔ یہ افواہیں بھی گردش میں رہیں کہ مریم کے شوہر کیپٹن(ر) صفدر نے شریف خاندان کے خلاف نیب کیسز میں جاری عدالتی کارروائی سے توجہ ہٹانے کے لیے دھرنے کی فنڈنگ کی، لیکن ''ختم نبوت'' معاملے پر ہونے والا تنازعہ بڑھتا گیا اور بات صفدر کے ہاتھ سے نکل گئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے دباؤ میں حکومت نے تصادم کی راہ اپنائی۔ دھرنا ختم کروانے کے لیے پولیس کی کارروائی انتہائی بھونڈے انداز میں ہوئی جس کے بعد احتجاج 80 سے زائد شہروں اور قصبات میں پھیل گیا اور پورے ملک میں خوں ریزی کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ اس سے پہلے کے صورت حال مزید سنگین ہوتی اور داخلی و خارجی مسائل وہ شکل اختیار کرتے کے ملکی مستقبل کے لیے کسی''آخری اقدام'' تک جانا پڑتا، جنرل باجوہ نے حکومت کو طاقت کے استعمال کے بجائے معاملہ مذاکرات سے حل کرنے کا مشورہ دیا۔ وزیر اعظم کے دیے گئے مینڈیٹ کے مطابق آرمی چیف نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل نوید مختار کو مزید خرابی پیدا ہونے سے روکنے کا ٹاسک دیا۔ آئی ایس آئی نے خاموشی اور سمجھ داری کے ساتھ بغیر کسی خون خرابے کے یہ معاملہ حل کردیا۔ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ بظاہر یہ ایک آسان سی بات محسوس ہوتی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مظاہرین کے مطالبات کو صرف ایک مطالبے تک لانے کے لیے بہت محنت کرنا پڑی۔ اگرچہ دی گئی ہدایات کے مطابق بہت اچھے انداز میں یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچا لیکن دو باتوں سے گریز کیا جانا چاہیے تھا۔ 1) جب مظاہرین نے حکومت کو معاہدے کا پابند بنانے کے لیے آرمی چیف کی ضمانت پر اصرار کیا تو معاہدے پر سینیئر آئی ایس آئی افسر نے دستخط کیے۔ 2) ڈی جی رینجرز نے اپنی جیب سے ایسے گرفتار شدگان یا اسپتالوں میں داخل زخمیوں کو 13ہزار روپے دیئے جن کا کہنا تھا کہ ان کے پاس گھر واپسی کا کرایہ نہیں۔ ان دو نکات کی وجہ سے ملک کے اندر اور سرحد پار بھارت میں پاک فوج سے بغض رکھنے والوں کو افواہ سازی کا موقع ملا۔ سینیٹ میں ہر سوال کا اعتماد اور خوش دلی سے جواب دیتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ اگر فیض آباد معاملے میں فوج کا کردار ثابت ہوجائے تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔ آرمی چیف نے جس شان دار اور مثالی انداز میں سینیٹ کے سامنے اپنا مؤقف پیش کیا، یہ کوئی انہونی نہیں تھی۔ تمام سیاسی حلقوں(حتی کہ عام طور پر سخت تنقید کرنے والے چیئرمین سینیٹ) کا ردّ عمل متفقہ طور پر فوج کے حق میں انتہائی مثبت تھا۔

گذشتہ برسوں سے پاک فوج کے خلاف جس طرح ''خفیہ محاذ'' کھلا ہے، ان حالات میں آرمی چیف کا سینیٹ کے سامنے پیش ہونے کا اقدام بروقت تھا، اس سے افواہوں کی اڑائی گئی گرد کا بھی ازالہ ہوا۔ اس اقدام سے ان حلقوں کو نرمی اور شائستگی کے ساتھ ''شٹ اپ'' کال دی گئی ہے جو فوج پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے۔ عدلیہ کو بدنام کرنے والے عناصر کو ایسی ہی شٹ اپ کال عزت مآب چیف جسٹس کی جانب سے بھی ملنی چاہیے اور انھیں کمرہ عدالت میں وہ قوانین پڑھ کر سنائے جانے چاہیے کہ انھیں معلوم ہو، حکمرانی کا شوق پورا کرنے سے پہلے قانون کا احترام اور اس کی پابندی سیکھنا لازم ہے۔ (فاضل مصنف سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved