متعصب مودی کی سیاسی ارتھی خوداپنے ہاتھوں
  31  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جس طرح متعصب ہندوؤں کواقلیتوں کے خلاف نریندرمودی کے دوراقتدارمیںطاقت میسرآئی ہے ،اس نے بھارتی سماج کوبدترین شکست وریخت سے دوچارکردیاہے اور مودی سرکارنے دنیاکی سب سے بڑی جمہوری طاقت کے نام نہاددعوے کوخاک میں ملاکررکھ دیاہے۔ آزادی کے بعدبھارت کے قومی رہنماؤں نے ملک کوانتشاروافتراق سے نجات دلانے کیلئے کثرت میں وحدت (Diversity in Unity)کانظریہ عام کیاتھا۔یہ ملک ہزاروں سال سے کئی تہذیبوں،کئی مذاہب اورکئی زبانوں کاگہوارہ رہاہے۔یہ حقیقت پیش نظررکھتے ہوئے ایک تکثیری سماج (Plural Society)کی داغ بیل ڈالی گئی تھی لیکن اب ملک کی اس نمایاں خصوصیت کوختم کرنے کیلئے سرکاری اورغیرسرکاری سطح پرایسے اقدامات کیے جارہے ہیں جس سے یہ تاثرابھرتاہے کہ صدیوں پرانی تہذیب وتمدن کوہزارطاقت سے ہی سہی ملک کے عوام پرمسلط کرنے کی ساری تیاریاں کرلی گئی ہیں۔تکثیری معاشرے کے خواب کی تعبیربھارتیوں کی نظروں سے دورہوتی جارہی ہے۔ ٤١٠٢ء کے انتخابی نتائج کے بعدجس پارٹی کوسنگھاسن پرقبضہ کرنے کاموقع ملااس کے سرپرست اورحواری سینہ ٹھونک کریہ کہہ رہے ہیں کہ آٹھ سوسال کے بعدملک میں ہندوراج قائم ہواہے۔سوال یہ ہے کہ ٥١/اگست٧٤٩١ء کے بعدسے جوپارٹیاں برسراقتدارآتی رہیں کیاان کاتعلق کسی بیرونی ملک سے تھااورآیاانہوں نے ملک کے دستوراورقانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی مرضی کی حکومت چلائی؟؟ بات دراصل یہ ہے کہ اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے ذات پات اورمذہب کاسہارا لیاجاتا ہے۔آج ہندتواکی گونج پھرسے زورشورکے ساتھ سنائی دے رہی ہے۔ گجرات اورہماچل پردیش اسمبلی الیکشن میں حکمران جماعت بی جے پی نے دھونس دھاندلی سے فتح حاصل کرلی ہے۔بھارتی میڈیاکے مطابق بی جے پی نے گجرات کی ٢٨١رکنی اسمبلی میں ٩٩نشستیں حاصل کیںجبکہ کانگریس نے ٧٧سیٹیں جیتی ہیں۔اس انتخاب میں الیکشن کمیشن سمیت پوری سرکاری مشینری ساتھ ہونے کے باوجودبی جے پی کوکانگرس نے سخت ٹائم دیاجس کے باعث مودی کوایک دن کئی کئی ریلیوں کی قیادت کرناپڑی۔ہماچل پردیش کی ٨٦رکنی اسمبلی میں بی جے پی ٤٤سیٹیں بڑی مشکل سے جیت پائی لیکن اس کے ریاستی صدر ستپال سنگھ ستی الیکشن ہارگئے اوروزیراعلیٰ کے عہدے کے امیدوارپریم کماردھومل بھی سوجان پورسے نشست کھوبیٹھے۔ ان بڑی ناکامیوں کے بعدمودی اب شکست کے دہانے پرہیںجہاں مخالفین ان کی جماعت کے اقتدارکے راستے میں دیواربن کرسامنے آچکے ہیں۔ گجرات جوآرایس ایس کی لیبارٹری کی حیثیت سے مشہورہے،بھارتی وزیراعظم ٤١٠٢ء کے الیکشن کے دوران گجرات ماڈل کی بہت باتیں کرتے تھے اوریہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ سارے ملک میں اب گجرات ماڈل پرعمل کیاجائے گالیکن اب گجرات میں بی جے پی کواندازہ ہوگیاکہ ان کے پیروں سے زمین تیزی سے کھسکتی جارہی ہے۔گجرات کاتاجر طبقہ کھوٹ بندی اورجی ایس ٹی کے نفاذسے پہلے ہی برسراقتدارپارٹی سے ناراض تھا،اب پائیدارتحریک کے لیڈرباروک پٹیل نے گجرات اسمبلی میں کانگرس کی حمائت کااعلان کرکے بی جے پی کیلئے زمین مزید تنگ کردی ہے۔اب گجرات ماڈل کی ترقی کی باتیں عوام کیلئے مضحکہ خیزبنتی جارہی ہیں۔گجرات کے وزیراعلیٰ وجے روپانی کوئی کرشماتی شخصیت نہیںہیں لیکن وزیراعظم نریندرمودی بھی گجراتی عوام کیلئے کوئی پرکشش شخصیت نہیں رہے۔ایک طویل عرصے تک گجرات کے چیف منسٹررہ کربھی انہوں نے ریاست کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے بلکہ ٢٠٠٢کے بدترین مسلم کش فسادات کے ذمہ دارکی حیثیت سے ان کانام تاریخ میں سیاہ لفظوں میں لکھاجاچکاہے۔آج عدالتیں انہیں کتنی ہی کلین چٹ دیں لیکن کل کامؤرخ گجرات کے ہولناک فسادات کیلئے انہیں معاف نہیں کرے گااوربحیثیت سربراہ ریاست ان کاجورول رہاہے،ان فسادات کی لعنت کاطوق ان کے گلے کاہاراوراس بہیمانہ ظلم وستم کی کالک ہمیشہ ان کے منہ پرسجی رہے گی۔ گجرات کی ترقی کی باتیں عوام اورکارکنوں کوخوش کرنے کیلئے بی جے پی کے ہرلیڈرنے کیں لیکن حقائق کی بنیادپراعدادوشمارکی روشنی میں جب گجرات کی ترقی کے پیمانے کوجانچا گیا تویہ حقیقت سامنے آئی کہ ترقی کے معاملے میں گجرات ملک کی کئی ریاستوں سے پیچھے ہے۔بی جے پی کی ایک دستاویزمیں دعویٰ کیاگیاکہ گجرات صحت کے معاملے میں ملک میں سب سے آگے ہے ،یہاں سب سے زیادہ صحت مندبچے ہیں اورجملہ آبادی کے٧٧.٨٣بچے تغذیہ کی کمی کاشکارہیں لیکن جب تحقیق کی گئی تومعلوم ہواکہ بہار،دہلی ،آندھرا پردیش ،راجستھان اورہریانہ سے گجرات کی حالت بہترہے ،پھرکس طرح یہ کہاجاسکتاہے کہ سارے ملک میں گجرات صحت کے معاملے میں سرفہرست ہے۔عوام کاکوئی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔پائیدارطبقے کے علاوہ پسماندہ طبقات اوردلت بی جے پی سے نہ صرف ناراض بلکہ نفرت کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے تعلق سے متعلق بی جے پی نے ٤١٠٢ء کے الیکشن کے موقع پریہ کہہ دیاتھاکہ انہیں مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیںہے۔یوپی اوربہارمیں بھی بی جے پی لیڈراپنے اس مؤقف پرقائم رہے۔انہوں نے کسی مسلم امیدوارکوٹکٹ نہیں دیالیکن گجرات الیکشن سے پہلے مسلمانوں کورجھانے کی کوشش کی جارہی ہے چنانچہ ایک ساش کے تحت مسلمانوں کورائے دہی سے دوررکھنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔اس کیلئے مبینہ طورپرگجرات کے مسلمانوں کواجمیرکی مفت زیارت کی پیشکش کی تاکہ عام مسلمان الیکشن کے ہنگاموں سے دورہوکراجمیرکی زیارت کونکل جائیں اوربی جے پی ان کے ووٹوں کواپنے حق میں بھرپورطریقے سے استعمال کرسکے۔بابری مسجدکے مسئلے کوبھی اس لئے تازہ کردیاگیا،آرٹ آف لیونگ کے سربراہ سری سری اوروسیم رضوی کوشایدیہی ذمہ داری دے دی گئی کہ وہ روزانہ اس معاملے پرلب کشائی کرتے رہیں۔بی جے پی کیلئے گجرات الیکشن سیمی فائنل کی حیثیت رکھتاہے اگروہاں وہ پھرسے اقتدارپرواپس آتی ہے تو٩١٠٢ء کے الیکشن میں اس کیلئے کچھ ماحول سازگار ہو سکتا ہے کیونکہ ملک کی دیگرسیاسی جماعتیں گجرات کے اس الیکشن کوبغوردیکھ رہی ہیں جبکہ بی جے پی کی حلیف جماعتیں بھی اس کاساتھ چھوڑتی جارہی ہیں۔یوں توبی جے پی نے اپنی تنظیموں سے سروے بھی کروالیاہے کہ اس مرتبہ پھران کیلئے گجرات کامیدان صاف ہے اورکانگرس اپنی تمامترکوششوں کے باوجودگجرات کا اقتدارحاصل کرنے میں ناکام رہے گی لیکن یہ بھی یادرہے کہ یہ تمام سروے خودبی جے پی کے اپنے قریبی دوستوں کے ہیںجومودی اورامیت شاہ کوخوش کرنے کیلئے تیارکروائے گئے ہیں لیکن جمہوریت میں عوام کے مزاج کوقبل ازوقت پڑھناہمیشہ سے مشکل رہاہے۔ (جاری ہے) عوام کب اپنی رائے بدل دیں ،یہ نہیں کہاجاسکتا۔مسئلہ کسی ریاست میں کسی پارٹی کے برسراقتدارآنے یانہ آنے کانہیں ہے، بات یہ ہے کہ محض حصول اقتدارکیلئے ملک کوکتناکھوکھلاکیاجارہاہے،یہ صورت حال یقینا خطرناک بھی ہے اورپریشان کن بھی۔ نریندرمودی نے اپنے جلسوں میں پاکستان کے خلاف انتہائی بھونڈاالزام عائدکیا ہے۔اس سازش میں اپنی مخالف جماعت کانگرس اور پاکستان کے بعض ایسے زعماء پرالزامات کی بوچھاڑکی ہے جن پرخودبھارت میں معمولی فہم کامالک بھی انگلی نہیں اٹھاسکتا۔سابق پاکستانی وزیرخارجہ خورشیدمحمودقصوری بھارت کے بعض سنجیدہ فکررہنماؤں کی ایک ضیافت میں گئے تومودی نے الزام لگایاکہ اس ضیافت میں ان کی حکومت کے خلاف سازش کرکے انہیں گجرات کے الیکشن میں شکست سے دوچارکرنے کامنصوبہ بنایاگیاجبکہ قصوری صاحب نے اسے مستردکرتے ہوئے کہاکہ کیاضیافت میں شریک من موہن سنگھ اوردیگرسیاسی رہنماء بھی اس سازش میں شریک ہیں؟مودی کے اس بیہودہ الزام کاپاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی نوٹس لیتے ہوئے جواب دیاکہ مودی سرکاراوراس کے ذمہ داروںکو اپنے معاملات میں پاکستانی سازش دیکھنے کی بجائے یہ معاملات خودحل کرنے پرتوجہ مبذول کریں اوربھارت میں بسنے والی اقلیتوںسے تعصبات کاروّیہ ترک کرکے جمہوری روّیے پرتوجہ دیں۔ بھارتی صوبہ گجرات کے انتخابات کی مہم کے بعدبھی بی جے پی کااقتدارسنگین خطرات سے دوچارہے اورتین گجراتی نوجوان بی جے پی کے ٢٢سالہ اقتدارکوزمین بوس کرتے نظرآرہے ہیں ۔ ان نوجوانوں میں ایک کم عمرباروک پٹیل ہے۔پائیدارانامت اندولن سمتی(پی اے اے ایس.....(پاس).....)کے کنوینرباروک پٹیل کوسیاست کے میدان سے الگ کرنے کیلئے بی جے پی بزرجمہروں نے اس کوجنسی سکینڈل میں ملوث کرنے کی سازش کی۔اس کی شبیہ کے حامل نوجوان کی تین غیراخلاقی سی ڈیزجای کیں اوراگلے روزبھڑوج کے ایک موضع میں لگ بھگ دس ہزارلوگ جمع ہوئے۔لوگ دیکھناچاہتے تھے کہ ٤٢سالہ نوجوان سی ڈیزکی تشہیرکے بعد کیا ردّعمل ظاہرکرتاہے جیسے ہی باروک کی گاڑیوں کا قافلہ جلسہ گاہ پہنچا،پٹیل کمیونٹی کی ٠١لڑکیوں نے باروک کے ماتھے پرتلک لگاتے ہوئے اس کااستقبال کیاجواس بات کاواضح اشارہ تھاکہ بی جے پی کی یہ گھناؤنی سازش دم توڑگئی ہے اورباروک کااپنی کیمونٹی سے رشتہ انتہائی مضبوط ہے۔باروک نے اپنی تقریرمیں بی جے پی کے کرداروعمل کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایسی دھجیاں اڑائیں کہ سارامجمع اچھل پڑا،یہ چال الٹی پڑگئی اورباروک کی مقبولیت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوگیااوریوں وہ اب اپنی کیمونٹی کاہیروبن گیاہے۔ چندروزبعدباروک نے کانگرس کے ساتھ اتحادکااعلان کردیاکیونکہ کانگرس نے ان کے کلیدی مطالبات مان لئے مثلاً پٹیل کیمونٹی کیلئے ریزرویشن،احمدآبادمیں ٥٢/اگست ٥١٠٢ء کی ریلی کے بعدسے پٹیل برادری پرمظالم کی تحقیقات کیلئے کمیشن کاقیام،بی جے پی کاسب سے بڑاانتخابی دردِ سربن جانابلاشبہ گجرات الیکشن کی سب سے بڑی کہانی ہے لیکن معاملہ تنہاباروک پٹیل تک محدودنہیں ہے،دودیگرسیاسی چیلنجزنے بی جے پی کیلئے مزیدمشکلات یقینی بنائے رکھیں۔ دو دیگرگجرانی نوجوانوں(اپیش ٹھاکور،جنیش میواتی) دہشتگردمودی کیلئے وبالِ جان بنے ہوئے ہیں۔ چالیس سالہ اپیش ٹھاکورکمیونٹی لیڈر ہے، اس نے اکتوبرمیں کانگرس میں شمولیت اختیارکی تھی۔وہ ضلع پٹن میں رادھن پورسیب الیکشن لڑا۔ ٦٢سالہ جنیش میواتی ایک دلت لیڈرہے،وہ اسمبلی کے حلقہ وڈکام سے آزاد امیدوارکی حیثیت سے انتخابی میدان میں اترا،اس کی حمائت میں کانگرس نے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ تینوں نوجوانوں کی تثلیث کانگرس کیلئے انتہائی بروقت سہارااوربی جے پی کیلئے سوہان روح بن چکی ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات منعقدہ ٢١٠٢ء میں بی جے پی اورکانگرس کے درمیان حاصل شدہ ووٹوں کے تناسب کافرق دس فیصدتھا۔بی جے پی نے٨٤٪اورکانگرس نے ٨٣ ٪ووٹ حاصل کیے تھے۔بی جے پی کی ٥١١نشستوں والی کامیابی کئی حلقوں میں کانٹے دارمقابلے کے بعدریکارڈ ہوئی تھی جہاں اس نے محض پانچ ہزاریااس سے کم ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔بی جے پی کی کامیابی کیلئے ایک اورپریشانی یہ ہے کہ کانگرس پارلیمانی انتخابات میں متواترپانچ بارشکست سے دوچارہونے کے باوجودبیباک حریف کے طورپرڈٹی رہی۔اس کے ووٹ کاتناسب بھی ٤٣٪ سے کم ترنہیں ہوا۔ مودی کے انتخابی جلسوں سے عوام کی بیزاری اورجلسہ گاہ میں خالی کرسیوں کے نظارے میڈیامیں ان کی تذلیل وتضحیک کاموضوع بنے ہوئے ہیں۔اگرچہ بی جے پی نے دھاندلی اوراداروں کی مددسے میدان مارلیاہے لیکن ایسی بھلاکامیابی بھی کس کام کی جہاں کامیاب ہونے کے بعدبھی شکست وریخت کاساعالم رہے۔ مودی کوموجودہ جیت پرہزیمت کاسامناہے کہ اس کے ریاستی صدر ستیال سنگھ ستی اورپریم کماردھومل بھی ریت کی دیوارکی طرح بری طرح زمین بوس ہوگئے اورپھروہ وقت دورنہیںجب گجرات کے عوام بی جے پی سے متنفرہوکرمودی کوشکست سے نہ صرف ہمکنارکریںگے بلکہ گجرات کے بیگناہ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے اس قصاب کاسیاسی جنازہ خودان کے عوام کے ہاتھوںبڑی دھوم دھام سے نکلے گا ۔

جب کوئی پارٹی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کومختلف مصائب میں مبتلاکرکے اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتی ہے تویہ ملک کی ترقی کی علامت نہیںہے۔پارٹی یاذاتی مفاد کی خاطرملک کے عظیم ترمفادات کو داؤ پرلگادیناکسی بھی طورپرملک کی خدمت قرارنہیں دی جاسکتی۔ملک کی روایتی رواداری آج ختم ہوتی جارہی ہے ۔تنقیدبرداشت نہیں کی جارہی اورصحافت کے کیااصول ہوں اس کادرس حکومت کے ایوانوں میں دیاجارہاہے۔۔ملکی سیاست کواس قدرآلودہ کردیاگیاہے کہ اب مسلمان صرف مسلمان کواورہندوصرف ہندوکو ووٹ دیناچاہتاہے اوراس کی تماترذمہ داری بی جے پی کے یکطرفہ اورمتعصبانہ روّیہ ہے۔تاریخی مقامات کوبیرونی حملہ آوروں کی نشانیاں قرار دیکرانہیں منہدم کرنے کامتعصبانہ بیانات جاری کرکے اپنے ہندوووٹرکوبیوقوف بنایا جارہا ہے۔کیابی جے پی کی حکومت ''تاج محل'' کوسیاحوں کیلئے بندکرکے اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے انکارکرکے اپنے اخلاص کاثبوت دے سکتی ہے؟آئندہ کیلئے دہلی کے لال قلعے میں کسی بھی سرکاری تقریب کے انعقادسے انکار کا اعلان کرنے سے انہیں بھلاکس نے روک رکھاہے؟سوال یہ ہے کہ آیااب یہی مسائل رہ گئے ہیںجس پرعوام کی توجہ مرکوزکرکے انہیں حقیقی مسائل پرغوروفکرکرنے کابھی موقع نہیں دیاجارہا؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved