کچھ باتیں فیض اور اقبال کی
  31  دسمبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭مختلف بڑے ناموں کو ملک وقوم کی لوٹ مار کے جرم میں سنگین سزائیں شروع ہوگئیں ۔ شاعری کو پیغمبری کا جزد بھی کہاجاتا ہے۔آج حکمرانوں کے ساتھ کیا ہورہاہے؟ اس کا الہام فیض احمد فیض کو73سال قبل کیسے ہوگیاتھا؟ جب سمرقند میں مئی1944ء کوانہوں نے 'نوائے غیب' کے نام سے حکمرانوں کو خبردار کیا کہ …''ہر اک اُدلی الامرکو صدادو… کہ اپنی خرد عمل سنبھالے… اٹھے گا جب جَمِ سرفروشاں… پڑیںگے داردرسن کے لالے… کوئی نہ ہوگا جو بچالے … جزا سزا سب یہیں پہ ہوگی… یہیں عذاب وثواب ہوگا… یہیں سے اٹھے گا روز محشر… یہیں پہ روزحساب ہوگا!'' ٭ فیض احمد فیض علامہ اقبال کو بہت بڑا شاعر قرار دیتے تھے۔ شائد یہ بات کم لوگوں کے علم میں ہوگی کہ علامہ اقبال کے رقعہ پر فیض کو گورنمنٹ کالج میں داخلہ ملا تھا۔ اب دیکھئے گدائی یعنی گداگری کے بارے میں علامہ 'بال جبریل' میں فرماتے ہیں کہ:۔ ''میکدے میں ایک دن ایک رِندِزیرک نے کہا… ہے ہمارے شہر کا والی گدائے بے حیا! …تاج پہنایا ہے کس کی بے کلاہی نے اُسے؟ …کس کی عریانی نے بخشی ہے اسے زریں قبا؟…اس کے آبِ لالہ گوئی خُونِ دہقان سے کشید…تیرے میرے کھیت کی مٹی ہے اس کی کیمیا… اس کی نعمت خانہ کی ہر چیز ہے مانگی ہوئی…دینے والا کون ہے؟ مردِ غریب وبے نوا… مانگنے والا گدا ہے صدقہ مانگے یا خراج …کوئی مانے یانہ مانے مِیرد سلطان سب گدا!''۔ ٭فیض اور اقبال کے بعد اب پھر روائتی باتیں۔ میاں شہبازشریف کے بعد میاں نوازشریف کی سعودی عرب روانگی، خواجہ سعد رفیق،آصف کرمانی اور حکومت کے اتحادی علامہ ساجد میر بھی وہاں موجود ہیں۔ قیاس آرائی ہے کہ بعض دوسرے وزراء کو بھی وہاں بلایا جاسکتا ہے۔ ملک کے سیاسی حلقوں میں اس صورت حال پر حیرت کااظہارکیا جارہاہے اور مختلف اندازے لگائے جارہے ہیں، نئے این آر او کاذکر بھی آرہاہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آصف زرداری کسی این آر او کی مخالفت کررہے ہیں جب کہ خودان کی اہلیہ بے نظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ این آراو کامعاہدہ کیا جس کے تحت آٹھ ہزار سے زیادہ افراد کے اربوں کی بدعنوانیوں کے کیس ختم کردیئے گئے تھے، ان میں خودآصف زرداری کے خلاف بھی کیس تھے۔ اب سعودی عرب میں جو کچھ بھی ہورہاہے وہ چھپا نہیں رہے گا جلد سامنے آجائے گا۔ البتہ اس معاملے میں سعودی عرب کے بارے میں عجیب سا تاثر پھیل رہاہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں بلاضرورت دلچسپی کیوں لے رہاہے؟ ڈاکٹر طاہرالقادری اور سید خورشید شاہ کے بیانات سے سعودی عرب کی پوزیشن متنازعہ ہو رہی ہے۔ دیکھیں کیا گزرتی ہے قطرے پہ گوہر ہونے تک! ٭عمران خاں اور اسحاق ڈار کے درمیان نیا مذاکرہ شروع ہو گیا ہے۔ عمران خاں نے الزام نماانکشاف کیاہے کہ دبئی میں اسحاق ڈار کی گیار ہ کمپنیاں ہیں، ایک کمپنی52 ولاز(کوٹھیاں) کی مالک ہے اور یہ کہ ان کمپنیوں کو دوسرے ملکوں سے پیسے آرہے ہیں۔ اسحاق ڈار اور ان کے بیٹے علی ڈار نے اس الزام کو غلط قراردے کرکہا ہے کہ اس وقت اسحاق ڈار کی بیرونی ملک کوئی کمپنی نہیں اور یہ کہ بیٹا علی ڈار دبئی میں تعمیرات کے ٹھیکے لے کر انہیں فروخت کردیتا ہے۔ یہ52 ولاز بھی پہلے بُک کیے پھر بنوا کر فروخت کردیئے اور یہ کہ کسی دوسرے ملک سے کوئی پیسہ نہیں آتا۔ یہ قصہ اب چلتا رہے گا۔ البتہ عمران خاں اوراسحاق ڈار کے درمیان ایک مکالمہ دلچسپ ہے۔عمران خاں نے کہا کہ اسحاق ڈار کے والد کی سائیکلوں کی دکان تھی،اس کے 2008ء سے 2013ء کے دوران اثاثے 800 گنا کیسے بڑھ گئے اور یہ کہ میں تو لندن میں فلیٹ فروخت کرکے پیسے پاکستان لے آیا ، اسحاق ڈار نے اتنا بڑا سرمایہ کیسے باہر بھیج دیا۔ اسحاق ڈار کا جواب آیاکہ جس وقت عمران خاں کے فلیٹ کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ اس وقت میرے پاس پانچ بیڈ رومز کا گھر تھااور یہ کہ عمران خاں مجھ سے چندہ مانگنے آتاتھا۔ میرے دفتر کے باہر نصف گھنٹہ بیٹھا رہتاتھااور پھر کہتا تھا کہ چندہ کی رقم نصف نقد اور نصف چیک کی شکل میں دی جائے۔ اس بارے میں عمران خاں کاجواب ابھی آنا ہے۔ انتظار کیجئے ، فلم چل پڑی ہے ابھی بہت سے مکالمات اور آئیں گے۔ ٭نوازشریف اور آصف زرداری بیک وقت پرویز مشرف کے پیچھے پڑ گئے۔ حیرت کہ دونوں نے یکساں زبان استعمال کی کہ''بزدل! پاکستان واپس آؤ''۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف حدیبیہ ملز کا کیس بحال کرنے پرہم نوا ہوگئے۔عمران خاں کاکہنا ہے کہ اس کیس میں نئے شواہد ملے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن معروف قانون دان بھی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ فوجداری کیس کتنا بھی پرانا ہو، کسی بھی وقت کھل سکتا ہے۔ حدیبیہ کیس کو سپریم کورٹ دوبارہ کھولنے سے اس بنا پر انکار کرچکی ہے کہ کوئی واضح ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیاگیا۔ عمران خاں کاکہنا ہے کہ نئے ٹھوس ثبوت مل گئے ہیں اب یہ فیصلہ باقی ہے کہ سپریم کورٹ میں نئے سرے سے کیس کون دائر کرے گا!

٭نیب نے پاکستان سٹیل ملز میں کرپشن اور اس کی تباہی کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ اس سٹیل ملز کا1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے افتتاح کیا۔اس نے ابتدا میں بہت اچھا کام شروع کیا مگر سیاست دانوں خاص طورپر ایم کیو ایم نے اس میں ہزاروں افراد بھرتی کرکے اسے تباہ کردیا۔ سینکڑوں افراد صرف تنخواہ لینے آتے تھے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں ایک نان میٹرک شخص کو چیئرمین بنادیاگیا۔ اس نے گیارہ ماہ میں ساڑھے سات ارب روپے کا گھپلا کردیا۔ حکومت تبدیل ہوئی تو اسے گرفتار کرلیاگیا۔ اس کی بیوی اوربیٹی کوایک تھانے کی حوالات میں بند کردیا گیا۔ نوازشریف نے وزیراعظم کی حیثیت سے انہیں حوالات سے نجات دلائی۔ یہ لمبی داستان ہے۔ اس سٹیل ملز کو لگانے والے پاکستانی انجینئروں نے جنوبی کوریا میں سٹیل ملزلگائی وہ 19 گنا ترقی کر گئی۔جب کہ پاکستان کی سٹیل ملز اتنے ہی گنا زوال کی شکار ہوگئی۔ پاک فوج کے ایک ماہر کرنل محمد افضل نے ملز کے سینکڑوں ملازمین کو بھاری گولڈن شیک دے کرملز کو منافع بخش بنادیا مگر یہ عمل مقامی سیاست دانوں کو راس نہ آئی۔ ایک روز کرنل محمد افضل صبح ناشتہ کرکے گھر سے نکلے تو دروازے کے باہر اچانک گر پڑے اور وہیں انتقال ہوگیا۔ انہیں ناشتہ دینے والاباورچی غائب ہوگیا۔ کرنل افضل کا تعلق لاہور سے تھا۔ ان کی میت لاہور آئی تو ان کی اولاد کو تحقیقات کرانے پر دھمکیاں وصول ہونے لگیں۔ اولاد خاموش ہوگئی ویسے بھی کراچی جاکر کیس دائر کرنا اور اس کی پیروی ممکن نہیں تھی جب کہ دھمکیاں بھی مل رہی ہوں۔ کرنل افضل اُردو اور پنجابی زبان کے بہت اچھے شاعر تھے۔ ان کا مجموعہ کلام بھی شائع ہوا۔ میراان کا شاعری کے حوالے سے ذاتی تعلق تھا۔ انہوں نے مجھے اندر کی بہت سی باتیں بتائیں کہ ان دنوں کراچی میں زور پکڑنے والی ایک لسانی جماعت نے کس طرح ملز پر قبضہ کررکھا تھا۔ یہ لوگ ملز کی بسوں کو اپنے جلوسوں کے لیے استعمال کرتے۔ اپنے خاص لوگوں کو سٹیل ملز کی مصنوعات کے ٹھیکے دیتے تھے۔ یہ داستان بہت طویل ہے۔ اب یہ سٹیل ملز بند ہوچکی ہے اور محض کھنڈرات کا ایک ڈھیر دکھائی دے رہاہے۔ نیب نے اس سارے معاملہ کی تحقیقات کرنی ہیں تو کرنل افضل کی پراسرار موت کی بھی تفتیش کی جائے۔ ان کی اولاد لاہور میں موجود ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved