یہی سمگلر دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں
  1  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

دنیا میں سب سے منافع والا کاروبار سمگلنگ کا ہے۔وہ سمگلنگ منشیات کا ہو یا کسی بھی اور کاروبار کا۔پھر یہ ایسا کاروبار ہے جو کوئی بھی انسان اکیلا نہیں کر سکتا۔اس میں بہت سارے افراد بھی نہیں بہت سارے گروہ شامل ہوتے ہیں ۔سمگلنگ کا مال جہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں جہاں سے گزر کر آتا ہے جن جن ذرائع سے آتا ہے پھر جہاں پہنچتا ہے اور پھر وہاں سے منزل مقصود تک پہنچے اور پہنچانے تک جگہ جگہ پر رشوت اور حصہ داری ہوتی ہے۔کل بلوچستان کے شہر خاران میں سمگلروں کے آئیل ٹینکر سے ایف سی کے 5جوانوں پر تیل سے بھرا ہوا ٹرک چڑھا کر پانچوں جوانوں کو شہید کر دیا۔جہاں یہ واقعہ پیش آیا اس علاقے کا چپہ چپہ میں نے دیکھا ہوا ہے ۔ حادثے کے بعد خبر آئی کہ ایف سی کے جوانوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں پہنچایا گیا۔وہ جوان تو موقع پر ہی شہید ہوگئے تھے ۔ ورنہ ان کو جن ہسپتالوں میں لے جایا گیا وہاں ڈاکٹرز ہی نہیں ہوتے ۔عرب ممالک نے ان علاقوں میں ہسپتال کی بہت خوبصورت عمارتیں تعمیر کر کے دی ہوئی ہیں ۔لیکن بدقسمتی سے وہ ہسپتال ڈاکٹروں اور دوسری سہولتوں سے محروم ہیں ۔بحرحال آج کے کالم میں میرا موضوع دہشت گرد، سمگلر اور ان کے سہولت کار ہیں ۔ بلوچستان کے علاقے پورے مکران میں سمگلنگ کا تیل فروخت ہوتا ہے ۔ یہ تیل ایران سے آتا ہے اور اس کو ایرانی تیل ہی کہتے ہیں ۔ ایران سے مختلف راستوں سے یہ تیل پاکستان میں داخل ہو تا ہے جس پر کوئی ٹیکس یا ڈیوٹی ادا نہیں کی جاتی۔ایران کے بارڈر سے لے کر گوادر تربت تک سب ایرانی تیل فروخت ہوتا ہے۔ادھر پنجگور ، سوراب، خاران ، ماشکیل، مند، ہوشاب یعنی ہزاروں مربع میل کے اندر لوگوں کا سب سے بڑا کاروبار ایرانی سمگلنگ کے تیل کا کام ہے۔حجام، موچی ، سبزی ، مونگ پھلی حتیٰ کہ چنے کے دانے بیچنے والوں کے علاوہ بڑے بڑے شاپنگ مال والوں نے بھی اپنی دکانوں کے سامنے تیل کے ڈرم اور جھوٹے سچے تیل کی پیمائش کرنے والے ڈبے بھی رکھے ہوئے ہیں ۔ان علاقوں میں پٹرول پمپ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔صرف سمگلنگ کا تیل ہی ان دکانوں سے ملتا ہے۔میں پاکستان کے دارالخلافے اسلام آباد میں رہتا ہوں جہاں کی90فیصد آبادی پڑھی لکھی ہے۔اور اپنا نفع نقصان سوچ سکتی ہے۔یہاں پٹرول پمپوں سے آدھا لیٹر پٹرول نہیں ملتا۔بلکہ ہر پٹرول پمپ والے نے لکھ کے لگایا ہوا ہے کہ کھلا پٹرول بوتل میں بھی نہیں ملے گا۔لیکن بلوچستان کے علاقے مکران جہاں کی آبادی95فیصد ان پڑھ ہے۔وہاں بازار میں میلوں تک لمبی قطاروں میں کھلے تیل کے ڈرم اور کین پڑے ہوئے ہیں ۔جہاں سے کھلے عام غیر قانونی اور سمگل شدہ تیل فروخت ہو رہا ہے۔اس ناجائز تیل کی فروخت کے لئے روزانہ ہزاروں آئیل ٹینکر50/50ہزار لیٹر تیل لے کر پاکستان آ رہے ہیں ۔یہ بھی ضروری نہیں کہ ان ٹینکروں میں صرف تیل ہی آتا ہو۔ان میں اسلحہ اور کاروبار بھی لایا جا سکتا ہے جو دہشت گردوں میں تقسیم کیا جاتا ہو۔ایران سے یہ سمگلنگ کا تیل منگوانے کا فیصلہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حکومت میں کیا گیا تھا۔خیال یہ پیش کیا گیا تھا کہ بلوچستان کا ہر بے روزگارباروزگار ہو جائے گا۔ لیکن ا س کا نتیجہ الٹ نکلا۔ پہلے پہل تو دہشت گردوں نے ان آئیل ٹینکروں والوں کو تنگ کرنا شروع کیا۔انہیں ڈرا دھمکا کر پیسے لیے جاتے تھے۔ پھر جیسا کہ میں نے کالم کے شروع میں لکھا ہے کہ سمگلنگ کے کاروبار میں کئی ادارے شامل ہوتے ہیں اس اصول کے تحت ان سمگلروں کے گینگ میں دہشت گردوں کے گروہ بھی بطور ادارہ شامل ہو گئے۔دہشت گرد مسافروں کو لوٹتے ، پیدل چلنے والوں کو لوٹتے ، گاڑی والوں کو لوٹتے لیکن آئیل ٹینکر والوں کو ایران کے بارڈر سے لے کر پورے مکران کے علاوہ کراچی تک کوئی خطرہ یا رکاوٹ نہیں ہے کیونکہ ہر آئیل ٹینکر طے شدہ بھتہ ایک مخصوص جگہ پر ادا کرتا ہے ۔پھر یہ بھتہ تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔اس بھتے کا ایک حصہ دہشت گردوں تک پہنچایا جاتا ہے ، دوسرا حصہ ان راستوں پر آنے والے متعلقہ اداروں کے انچارجوں تک (جن میں ایف سی شامل نہیں ، کیونکہ سمگلنگ روکنا ایف سی کا کام نہیں )۔ تیسرا حصہ آئیل ٹینکروں کی نام نہاد یونین کے نمائندوں کے پاس جاتا ہے ۔سمگلروں کے قاعدہ اور قانون کے مطابق پہلے سارے پیسے آئیل ٹینکر یونین کے لوگوں کے پاس جاتے ہیں پھر ان کے نمائندے نقد پیسے لے کر سمگلنگ کے راستے میں آنے والی چیک پوسٹوں اور ان کے افسروں تک پہنچانے کے علاوہ دہشت گردوں کے کمانڈروں تک پہنچاتے ہیں اور یہی تیل کی سمگلنگ سے اکٹھا ہونے والا پیسہ ہی دہشت گردوں کی سہولت کا سبب بنتا ہے۔دہشت گردوں کی گاڑیوں کو سارا پٹرول بھی مفت ملتا ہے۔یہ باتیں میں کسی مفروضے پر مبنی نہیں لکھ رہا بلکہ میں ذاتی طور پر چونکہ وہاں ہر جگہ گیا۔سمگلروں سے بھی ملاقات ہوئی۔عوام سے بھی پتہ چلا اور دیکھنے میں بھی یہی حالات دیکھنے کو ملے۔کل جب الیکٹرانک میڈیا پر ایف سی کے پانچ جوانوں کی شہادتوں کی خبر سنی تو وہ سارا علاقہ میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا۔میں نے خاران میں کئی دن قیام کر کے بہت سارے لوگوں سے بہت ہی اہم راز اگلوائے تھے۔ان میں یہ ساری باتیں بھی شامل تھیں ۔ اب چونکہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گردوں اور ن کے سہولت کاروں کے خلاف گھیرا خاصا تنگ کیا تو انہوں نے واضح احکامات جاری کئے کہ ہر مشکوک گاڑی کی تلاشی لی جائے۔دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے سختی سے نمٹا جائے۔اس سلسلے میں کل ایف سی کے پانچ جوانوں نے سمگلروں کی گاڑی کو روک کر چیک کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے آئیل ٹینکر ایف سی کے جوانوں پر چڑھا کر پانچوں جوانوں کو موقع پر ہی شہید کر دیا۔اس واقعہ کے بعد موجودہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروںسے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عندیہ دیا۔دہشت گردوں کی سہولت اور آمدن روکنے کے لئے ایرانی تیل کی سمگلنگ پر فی الفور پابندی لگائی جائے ۔ تیل چاہے ایرانی ہی سہی لیکن ٹیکس ادا کر کے پاکستان میں داخل ہو اور باقاعدہ پٹرول پمپوں پر دستیاب ہو۔دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے لئے ان کی آمدن کے ذرائع بند کرنے ہونگے۔ان کے سہولت کاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ہوگا۔مجھے امید ہے کہ خاران میں ایف سی اہلکاروں کے ساتھ اتنا بڑا واقعہ پیش آنے کے بعد فوری طور پر ایرانی تیل کی سمگلنگ کے علاوہ ہر قسم کی سمگلنگ اور ناجائز کاروبار روک کر دہشت گردوں کے مالی وسائل پر قابو پانے کی کوشش کرے گی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved