پاکستان پر منڈلاتے خطرات
  1  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاک فوج کے ترجمان میجر آصف غفور نے جمعرات کے دن میڈیا کو بریفنگ دی اس سے پاکستان کو درپیش خطرات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ...میجر جنرل آصف غفور کے مطابق ''امریکہ کی جانب سے پاکستان میں یکطرفہ کارروائیوں کا اشارہ دیا گیا ہے... لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم دوستوں سے تنازعہ نہیں چاہتے... لیکن ملک کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے... اور اس کا تحفظ یقینی بنائیں گے' پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ ہم نے دوسروں کی دو جنگیں لڑیں... اب پاکستان کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا... بلکہ اب افغانستان اور امریکہ کے ڈومور کی تیاری ہے... امریکہ کی طرف سے ہمیں جو بھی رقم ملی وہ اخراجات کی مد میں ملی... ملک پر منڈلاتے خطرات ابھی کم نہیں ہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک پر منڈلاتے جن خطرات کی طرف اشارے کئے ہیں... ان کا توڑ صرف اور صرف قوم کو متحد اور امریکہ کی غلامی کے بتوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے منہ کے بل گرا کے ہی کیا جاسکتا ہے... اس سے قبل حکومتوں نے امریکہ کی غلامی کی زنجیروں میں ... پاکستان کو جکڑنے میں جو مکروہ کردار ادا کیا تھا... یہ اسی کا شاخسانہ ہے کہ جس کا خمیازہ آج تک پاکستان کو بھگتنا پڑ رہا ہے... امریکہ سے آئی ہوئی ایک فون کال سن کر رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے امریکہ کے سامنے ''لیٹ'' جانے میں ہی عافبت سمجھی... یہ پرویز مشرف کی اس غلامانہ ذہنیت اور بزدلانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ ... امریکہ پاکستان کو اپنی ''جاگیر'' سمجھ چکا تھا... امریکہ کا سابق صدر بدنامہ زمانہ جارج ڈبلیو بش ہو' براک اوبامہ ہو یا موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ... ان سب نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کے احکامات پر عملدرآمد کرنا پاکستان کے حکمرانوں اور اداروں کے لئے لازمی ہے... اگر پاکستان امریکہ کے احکامات پر عملدرآمد نہیں کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان دہشت گرد گروپوں کا حامی ہے... یہ ہے وہ مکروہ امریکی سوچ کہ جس کی وجہ سے پاکستان کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے... پاکستان کو کبھی ڈرا کر' کبھی دھمکا کر' کبھی لالچ دے کر اور کبھی پچکار کر... امریکہ کی بھڑکائی ہوئی صلیبی جنگ میں دوبارہ سے گھسٹنے کی کوششیں کی جارہی ہیں... امریکہ کی اپنی فوجیں افغانستان میں ہر قسم کا خطرناک ترین اسلحہ استعمال کرنے کے باوجود... ملا محمد عمر کے طالبان کے ہاتھوں... ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوچکی ہے۔ امریکہ نے پاکستانی مسلمانوں کو نظریاتی طور پر تبدیل کرنے کی بھی بے پناہ کوششیں کیں... ڈالر خور این جی اوز نے مسلمانوں کے نظریات اور عقائد کو بدلنے کے نام پر امریکہ سے کروڑوں ڈالرز بھی بٹور لئے... مسلمانوں سے غیرت و حمیت اور جذبہ جہاد ختم کرنے کے لئے روشن خیالی کی کوکھ سے نئے نئے نعرے بھی ایجاد کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں۔ پرویز مشرف ہو' آصف علی زرداری کا پانچ سالہ دور ہو یا نواز شریف کے ساڑھے چار سال... ان تمام نے اپنے اپنے دور حکومت میں امریکہ کے دبائو پر کبھی نصاب تعلیم کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی اور کبھی دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں مداخلت کرنے سے بھی گریز نہ کیا... لیکن امریکہ اور اس کے حواری مل کر بھی نہ پاکستانی قوم کے نظریات تبدیل کر سکے... اور نہ افغانستان میں اپنی ذلت آمیز شکست کو فتح کے ساتھ تبدبیل کر سکے۔ پرویز مشرف نے امریکی دھمکیوں سے خوفزدہ ہو کر پاکستان کو امریکہ کی جنگ کا ایندھن بنا دیا... مگر افسوس کہ اس ''جنگ'' کے خوفناک مضر اثرات سے وہ پاکستان کو نہ بچا پائے... آج ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو جن امریکی ڈالروں کے طعنے دیتا ہے وہ ''ڈالر'' پاکستان کے لئے نہایت منحوس ثابت ہوئے' امریکہ نے ''ڈالر'' دے کر یہ سمجھ لیا کہ ''پاکستان'' جیسے خدانخواستہ ''برائے فروخت ہے'' اور پاکستانی فوج خاکم بدہن کرائے کی فوج ہے... اس موقع پر اگر سپہ سالار اعلیٰ جنرل قمر باجوہ کو خراج تحسین پیش نہ کیا جائے تو یہ بھی بخیلی کے مترادف ہوگا... جنہوں نے نائن الیون کے بعد پہلی مرتبہ امریکی حکمرانوں کو ڈنکے کی چوٹ پر بتانے کی کوشش کی... کہ نہ پاکستان برائے فروخت ہے اور نہ ہی یہاں کی فوج کرائے کی فوج ہے... انہوں نے ''امریکہ'' کو بتایا کہ اب پاکستان تمہاری جنگ نہیں لڑے گا' کیوں؟ اس لئے کہ رسواکن ڈکیٹر جس صلیبی جنگ کا حصہ '' پاکستان'' کو بنایا تھا' وہ جنگ لڑتے لڑتے '' پاکستان'' اپنی شناخت کھوتا جارہا تھا۔ امریکہ کی جنگ کا حصہ بن کر پاکستانی قوم ٹکڑیوں میں بٹتی جارہی تھی امریکہ کے دئیے ہوئے ''ڈالر'' اتنے نحوست زدہ ثابت ہوئے کہ پاکستان خودکش حملہ آوروں اور ڈرون حملوں کا مرکز بن گیا... پس وقت اور حالات نے ثابت کر دیا کہ ... نائن الیون کے بعد ... رسوا کن ڈکٹیٹر نے پاکستان کو جو امریکہ کی صلیبی جنگ کا حصہ بنایا تھا... وہ غلط فیصلہ تھا۔ امریکہ کی جنگ کا حصہ بننے کے بعد... امریکہ سے جو ''ڈالر'' ملے... ان ''ڈالروں'' سے بھی ... وطن عزیز میں بہتری کی بجائے ابتری کی صورتحال پیدا ہوئی' آج طویل عرصے بعد... امریکہ کے حوالے سے حکومت ہو ' مسلح افواج ہوں یا پاکستان کے عوام... سب ایک ہی پیج پر ہیں' پرویز مشرف کے اس وقت کے طبلچی شیخ رشید کہا کرتے تھے کہ ''اگر ہم نے امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو امریکہ ہمارا '' تورا بورا'' بنا دے گا... بے غیرت بن کر امریکہ کی دی ہوئی زندگی کے چند دن جینے سے بہتر ہے کہ ... مسلمان مردانہ وار لڑتے ہوئے شہادت کے جام پی کر... قبرستانوں کا رزق بن جائیں... مسلمانوں کو ''امریکہ'' سے ڈرانے والے دانش فروش نہ اس ملک کے خیر خواہ ہیں اور نہ ہی قوم کے' اگر امریکہ پاکستان میں گھس کر یا کسی بھی دوسرے طریقے سے کسی بھی پاکستانی کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے... تو ہمارے جوانوں کو بھی امریکیوں کو ایسا سبق سکھانا چاہیے کہ جیسے وہ مدتوں بھلا نہ پائیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
83%
ٹھیک ہے
17%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved